مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار -…

مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 11

اگر آپ وجوہات سے آگاہی چاہتے ہیں تو شیعی اصول پر، نقلِ کفر کفر نہ باشد، یہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مسلسل حفاظ کے شہید ہونے کی وجہ سے قرآن جمع کرنے کی ضرورت تھی جو خود رسول اللہﷺ‏ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پڑھایا اور حفظ کرایا تھا، چونکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا اس قرآن سے تعلق ہی نہ تھا نہ انہوں نے لکھا پڑھا تھا بلکہ وہ تو باعتقاد شیعہ ایک اور قرآن کو چالو کرنا چاہتے تھے جو ان کو پیدائشی یاد تھا اور جس میں تمام امتِ محمدیہﷺ کی تکفیر و گمراہی، اُمہات المؤمنینؓ کو گالیاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بناتِ طاہرات رضی اللہ عنہن کے ایمان اور نسب پر حملے اور متعہ جیسی فحاشی وغیرہ کی تعلیم تھی تو تلامذۂ نبوت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول کریمﷺ‏ کیسے اس حافظِ قرآن سے مدد لے کر صداقتِ اسلام، نبوتِ محمدیﷺ اور حقانیتِ قرآن کو اپنے ہاتھوں ہی ذبح کر کے دفن کر دیتے۔ (معاذاللہ)

سوال نمبر 217: جو قرآن حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت زید رضی اللہ عنہما نے جمع کیا اس کی ترتیب وہی تھی جو آج ہے۔

جواب: وہی ہے۔

سوال نمبر 218: اگر یہی ترتیب تھی ابو الحسن نے شرح بخاری میں یہ کیوں لکھا ہے۔ لیکن آیتوں اور سورتوں کی ترتیب نہ تھی؟

جواب: ابو الحسن نامی شارح بخاری ہمیں معلوم نہیں۔ ان کی بات نادرست ہے۔

سوال نمبر 219: عہدِ نبوت میں جب قرآن متفرق تھا مرتب نہ تھا تو حضور اکرمﷺ نے قرآن امت کو پہنچانے کا منصبی فرض ادا کیوں نہ کیا؟

جواب: آپ کے اعتراضات قرآن، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، خلفاء راشدینؓ اور خود رسول اللہﷺ‏ پر گھوم پھر کر ان کو روند رہے ہیں جیسے کٹائی کے بعد گندم گاہی جاتی ہے اور ماشاءاللہ مسلمان بھی بنے پھرتے ہیں۔ ہم سنی کیوں ہیں میں بتایا جا چکا ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قرآن یاد کرایا۔ کتابت بھی کرائی مگر جس ترتیب سے یاد کرایا اس ترتیب سے یکجا کتابت نہ کرائی کیونکہ آئے دن اضافہ ہو رہا تھا اور کچھ آیتیں منسوخ بھی ہو جاتی تھیں۔ آخری آیت تکمیلِ دین حجۃ الوداع کے موقع پر آیتِ سود وفات سے چند دن قبل نازل ہوئی تھی اب حضور اکرمﷺ کو فرصت نہ ملی کہ تکمیل کے بعد دوبارہ ایسے مرتب لکھواتے کہ منسوخ آیات سے پاک ہوتا۔ اب قدرتی لحاظ سے یہ کام جانشینِ پیغمبرﷺ کو ہی کرنا تھا جس کے شیعہ دشمن بنے ہوئے ہیں تو منصبِ نبوت میں کوتاہی کے ناپاک شیعی الزام سے حضرت رسول اللہﷺ‏ پاک ہیں۔

سوال نمبر 220: آپ مذہب کی اساس اصحابِ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مانتے ہیں جو علم قرآنی سے واقف نہ تھے؟

جواب: تلامذہ نبوت اور تعلیم نبوت ہی کو اساس مذہب مانتے ہیں۔ قرآن کی بارش ان کے سامنے جبل نبوت پر برستی اور اس سے ان کے ایمانی اور قلبی کھیتیاں سیراب ہوتیں وہ جاہل نہ تھے ان کے مرتبہ و مقام سے جاہل تبرّا باز کو جہالت نصیب ہوـ

سوال نمبر 221: فیض الباری میں قسطلانی کا قول ہے کہ حضور اکرمﷺ نے مصحف کو جمع اس لیے نہ کیا کہ نسخ ہوتا رہتا تھا اگر جمع ہو کر پھر اٹھایا جاتا تو اختلاف کی نوبت آتی۔ سوال یہ ہے کہ نسخ کا علم کس کو تھا؟

جواب: یہ ساری روایت آپ کے شبہ کو حل کرتی ہے مگر قرآن دشمنی سے آپ اسے نشانہ طعن بنا رہے ہیں۔ آنحضورﷺ‏ کو ناسخ کا پہلے علم ہوتا تھا پھر آپﷺ‏ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بتا دیتے تو وہ تلاوت چھوڑ دیتے۔ یوں قدرتی طور پر بھلا دی جاتی جیسے ارشادِ خداوندی ہے۔ 

فَلَا تَنۡسٰٓى اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ‌ (سورۃ الأعلى: آیت 6، 7)

ترجمہ: آپﷺ ہمارا پڑھایا ہوا نہ بھولیں گے مگر جو اللہ بھلانا چاہے۔ 

اگر وہ باقاعدہ ترتیب وار کتابت کرا کر پڑھی جاتیں۔ تو نہ بھولتیں اور شدید اختلاف ہوتا۔ حتیٰ کہ منسوخ آیات جزو قرآن بن جاتیں۔

سوال نمبر 222، 223: انی تارك فيكم الثقلين (ان میں ایک کتاب اللہ ہے) اور سیدنا عمر فاروقؓ نے کہا حسبنا كتاب الله (ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے) جب کتاب مرتب ہی نہیں تو کیا چھوڑا اور کسے کتاب اللہ کہا؟

جواب: زندگی کے آخری دنوں میں یہ فرمایا ذہناً و حفظاً وہ مرتب و محفوظ تھا تو اس کے چھوڑ جانے اور کافی ہونے کا حوالہ بالکل درست ہے۔ قرآن نے بار بار کتاب اتارنے کا حوالہ دیا ہے۔ پارہ 1، 8، 21 

اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ اَنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ (سورۃ العنکبوت: آیت 51)

سوال نمبر 224، 225: جمع قرآن کا الہام پہلے حضرت ابوبکرؓ کو ہوا یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو؟ پھر سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا زید رضی اللہ عنہما نے اس الہامی خلیفہ پر اعتماد کر کے آیتِ رجم کیوں قبول نہ کی؟

جواب: سیدنا عمر فاروقؓ کو جنگِ یمامہ میں سات صد حفاظ و قراء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شہادت پر الہام ہوا، حدیثِ نبوی میں ہے کہ پہلی امتوں میں بھی ملہم من اللہ ہوتے تھے میری امت میں ہوئے تو ان میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی ہوں گے۔ (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ: صفحہ، 556) آیتِ رجم قبول نہ ہونے کی وجہ بیان ہو چکی۔

سوال نمبر 226: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بھی الہام ہوا، ان کا جمع کردہ قرآن کیوں نہ لیا گیا؟

جواب: سیدنا علی المرتضیٰؓ صاحبِ الہام اور خلیفہ راشد تھے۔ مگر یہاں انہوں نے الہام کا کوئی دعویٰ نہ کیا۔ مدعی سست گواہ چست نہ بنئیے حضرت علی المرتضیٰؓ قرآن جمع کر کے لائے مگر قبول نہ کیا گیا۔ یہی وہ گھڑنتو بات ہے جس پر غرّا کر آپ قرآن شریف کو نقلی اور جعلی محرف بتا کر ڈائنامیٹ کر رہے ہیں۔ بندۂ خدا! ذرا انصاف و ایمان سے کہیے۔ اس افسانہ کا ذکر کس امام کی کتابِ حدیث، تاریخی تواتر، اور فقہاء کے کلام اور متکلمین کی ابحاث میں ہے۔ 100 سوال کے تیر تو آپ نے قرآن پر چلا دیئے ذرا مستند دو حوالے اسی بات پر آپ جمع کر دیتے تو غور کیا جاتا۔

سوال نمبر 227، 228: کیا آپ کی رائے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جمع کردہ قرآن معتبر تھا یا نہ؟

صفحہ 3 از 11