مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار -…

مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 11 از 11

جواب: یہ کراہت خاص قرآن سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے جس کا نہ ہونا ہی قرآن کی تعظیم ہے مثلاً کوئی شخص بول و براز کی جگہ یا غل غپاڑہ میں یا تیزی میں قطع حروف کے ساتھ یا تحریف اور غلط ترجمہ کے لیے قرأت کرے تو ایسی قرأتِ قرآن کو نا پسند کیا جائے گا۔

سوال نمبر 292: جو فرقہ سید الانبیاءﷺ پر کراہتِ قرآن کا الزام لگائے وہ مفتری نہیں ہے؟

جواب: یہ الزام کوئی نہیں لگاتا۔ البتہ جو فرقہ سید الانبیاءﷺ پر یہ الزام لگائے کہ آپﷺ‏ نے پورا قرآن صرف حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو پڑھایا لکھوایا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صرف اپنی اولاد کو پڑھایا اور دیا اور وہ ایک ایک امام کی دست بوسی کرتا ہوا جب مہدی العصر تک پہنچا تو وہ صاحب غار میں لے کر چھپ گئے اور اربوں، کھربوں مسلم دنیا اس قرآن کا نہ منہ دیکھ سکی نہ ایک لفظ سن سکی۔ یقیناً یہ فرقہ مفتری بر رسولﷺ اور غیر مسلم ہے۔

سوال نمبر 293: نبی اکرمﷺ پر افتراء اور نسبت کذب کرنے والا مدعی اسلام فرقہ کس سزا کا مستحق ہے؟

جواب: آپ کا بالا عقیدہ اگر درست ہے تو یہ شیعہ فرقہ دوزخی ہے مزید سزا تمام علماء کو اپنا عقیدہ لکھ کر معلوم کر لیجئے اور اخبارات میں شائع کرائیے اور اپنے شیعہ، دشمنِ اسلام و قرآن ہونے پر فخر کیجئے۔

سوال نمبر 294: اس روایت پر آپ کا کیا تبصرہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے کہا کہ آیتِ رجم لکھوا دیجئے، فکانه کره ذلك گویا آپﷺ نے اسے مکروہ جانا؟

جواب: کھودا پہاڑ نکلا چوہا وہ بھی مردہ یہ مثل آپ کی کارروائی پر صادق ہے۔ چار تمہیدی بالا سوال اسی لیے بنائے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو یا اہلِ سنت نبیﷺ کو مجرم قرار دیں مگر خود اپنے کھودے ہوئے کنویں میں گر پڑے۔ کَرِہَ کا مفعول ذٰلِكَ اسم اشارہ مذکر ہے۔ جس کا مرجع اکتب کا مصدر کتابت اور لکھوانا ہے۔ آیتِ رجم نہیں ہے یعنی آیت رجم کو نا پسند نہیں کیا ہے کیونکہ اس کی طرف اکتبھا ضمیر مؤنث راجع ہے۔ بلکہ آیتِ رجم کی کتابت کو آپﷺ نے ناپسند فرمایا۔ کیونکہ منسوخ فی التلاوت والكتابت ہے اور یہی روایت اس کی دلیل ہے۔

سوال نمبر 295: مسلکِ اہلِ سنت کے مطابق حقیقت و ماہیت قرآن کیا ہے؟

جواب: 100 میں صرف یہ آخری دو سوال کچھ معقول ہیں باقی سب لغویات کا پلندہ تھے۔ قرآن ان الفاظ، ترتیب اور معانی کے مجموعہ کا نام ہے جو حضرت جبریل علیہ السلام رسولِ خداﷺ کے قلب مبارک پر نازل فرما گئے اور یہ خدا کا نفسی قدیم کلام ہے اس کی صفت ہے اس کے ساتھ قائم ہے۔ حادث و مخلوق نہیں ہے البتہ وہ واقعات و مسائل مخلوق ہیں جن کے بارے میں قرآن اترتا رہا۔ بظاہر عربی کے لغوی الفاظ حادث معلوم ہوتے ہیں مگر قرآنی کلمات و الفاظ پھر بھی قدیم ہیں۔ لغتیں اور بولیاں بعد میں پیدا ہوئیں۔ قدیم الفاظِ قرآنی کی ان سے مطابقت اور یکسانیت ظاہر ہو گئی۔ ہماری تلاوت کے الفاظ و لہجے حادث ہیں کہ ہمارا کسب اور خدا کی مخلوق ہیں۔

سوال نمبر 296: سنی مذہب کے مطابق قرآن کہاں سے نازل ہوا؟ حروفِ سبعہ سے کیا مراد ہے؟

جواب: لوحِ محفوظ سے، آیت سورت بروج کا حوالہ گزر چکا ہے اور پہلی آیت اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ نازل ہوئی۔ حروفِ سبعہ کی تشریح مختصراً سوال 250 میں گزر چکی ہے۔ مزید وضاحت یہ ہے کہ حروف کے اختلاف سے مراد قرأتوں کا اختلاف ہے اور سات حروف سے مراد اختلافِ قرأت کی سات نوعیتیں ہیں۔ متقدمین میں سے سب سے پہلے یہ قول امام مالک رحمۃ اللہ المتوفیٰ 179ھ نے کیا۔ مفسرِ قرآن علامہ نظام الدین قمی نیشا پوری نے اپنی تفسیر غرائب القرآن میں امام مالک کا یہ مذہب نقل کر کے مفرد و جمع، تذکیر و تانیت، وجوه اعراب، ادواتِ نحو، لب و لہجہ میں اختلاف قرأۃ کی مثالیں دی ہیں۔

علامہ ابنِ قتیبہ، شیخ عبد العظیم زرقانی، ابوالفضل رازی محقق جزری، قاضی باقلانی وغیره اسی مذہب کے قائل ہیں کیونکہ اس میں حروف و قرأت کو جدا جدا چیزیں نہیں ماننا پڑتا اور سات حروف کے معنیٰ بلاتکلف و تاویل درست ہو جاتے ہیں۔

(ماخوذ از علوم القرآن: صفحہ 110، 111 مؤلفہ مولانا محمد تقی عثمانی جسٹس وفاقی شرعی عدالت)


صفحہ 11 از 11