مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار -…

مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 11

ترجمہ: بلکہ وہ قرآن مجید ہے جو ایک محفوظ تختی پر مکتوب و محفوظ ہے۔

تفسیر ابنِ جریر طبری: جلد، 10 صفحہ، 90 پر اس کی تفسیر یہ ہے کہ لوح سے مراد عند اللہ محفوظ تختی ہے اور مجاہد اسے اُمّ الکتاب کہتے ہیں اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اسے حضرت اسرافیل علیہ السلام کی پیشانی قرار دیتے ہیں۔ تفسیر قمی میں حضرت صادق سے بروایت تفسیر صافی للکاشانی جلد، 5 صفحہ، 312 یہی تفسیر نقل کی گئی ہے نیز یہ کہ وہ تحریف و تبدیل سے محفوظ ہے۔

شیعہ تفسیر مجمع البیان جلد، 5 صفحہ، 469 میں ہے کہ قرآن ایک تختی پر ہے جو تغیر، تبدیلی، کمی اور زیادتی سے پاک ہے۔ نیز وہ اللہ کے ہاں اُمّ الکتاب میں محفوظ ہے جس سے قرآن اور (دیگر آسمانی) کتابیں نقل کی گئی ہیں جسے لوحِ محفوظ کہتے ہیں اور وہ ایک سفید موتی سے بنی ہے جس کا طول آسمان و زمین اور عرض مشرق و مغرب کو حاوی ہے۔ (از سیدنا ابنِ عباسؓ و مجاہد)

سوال نمبر 284: اہلِ سنت تحریفِ قرآن کے معتقد ہیں یا نہیں؟

جواب: ہرگز نہیں، تبھی تو شیعہ کو باطل پرست جانتے ہیں۔

سوال نمبر 285: اہلِ سنت تحریف کا اعتقاد رکھنے والے کو کیا سمجھتے ہیں؟

جواب: جو شخص یا گروه بعد از پیغمبر قرآن میں کمی بیشی یا تبدیلی کا قائل ہو یا وہ کسی دور میں ایسی تبدیلی کرنا چاہے یا لوگوں کو ناقص اور محرف قرآن باور کرانا چاہے وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس پر ہماری کتابیں اور فتاویٰ جات بالکل واضح ہیں۔ ہماری بنیادی کتاب تعلیم الاسلام از مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمۃ اللہ حصہ سوم صفحہ، 12 بحث قرآن میں ہے:

قرآن مجید کا ایک ایک حرف اور ایک ایک لفظ محفوظ ہے اس میں ایک نقطہ کی بھی کمی بیشی نہیں ہوئی اور نہ قیامت تک ہو سکے گی اور پہلی کتابوں میں لوگوں نے تحریف کر ڈالی۔

پھر حصہ چہارم صفحہ، 11 پر اس قرآن کے اصلی ہونے کی پہلی دلیل یہ دیتے ہیں:

قرآن مجید کا متواتر ہونا یعنی تواتر کے ساتھ حضور اکرمﷺ کے زمانے سے آج تک نقل ہوتے چلا آنا ہے۔ (جو چیز تواتر سے ثابت ہو جائے۔ اس کا ثبوت یقینی اور قطعی ہوتا ہے اس میں کسی طرح شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔)

سوال نمبر 286: حیاتِ پیغمبر میں سلسلہ نسخ بند ہو گیا تھا یا نہیں؟

جواب: آخر عمر میں جا کر رک گیا جو اللہ کو منظور تھا۔

سوال نمبر 287، 288: کیا حضورﷺ نے منسوخ شدہ آیات کو ناسخ آیات سے بدلا تھا یا نہیں؟ ورنہ نبی کریمﷺ نے خدا کے حکم سے سرتابی کی۔

جواب: منسوخ کو ناسخ سے بدل دینا یہ اللہ کا کام تھا۔ رسولِ خداﷺ‏ کا نہیں کیونکہ آپﷺ‏ خود تو آیتیں نہیں بناتے تھے۔ اللہ کا فرمان ہے:

ہم جو آیت منسوخ (یعنی اس پر عمل کرنے کا حکم واپس لیں یا مدتِ عمل ختم کر دیں) کریں یا وہ بھلا دیں تو اس سے اور بہتر ہم لاتے ہیں۔ (سورۃ بقرہ: آیت 106)

ہاں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم منسوخ کی نشاندہی فرما دیتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مشہور کرتے تھے پھر نسخ کی کئی قسمیں ہیں۔ نسخ فی التلاوۃ جیسے آیتِ رجم، نسخ فی الحکم جیسے آیتِ عدة، نسخ فی التلاوة والحکم معاً جیسے احزاب کی کچھ آیات، نسخ بالنسیان جس کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی پھر کچھ علماء حکم میں معمولی تغیر پر نسخ کا اطلاق کرتے ہیں اور کچھ علماء بالکل حکم اٹھ جانے یا متضاد آ جانے کو نسخ کہتے ہیں۔ ان کے ہاں منسوخ آیات کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔

سوال نمبر 289: جب آپ کے ایمان میں قرآن کو مکمل کہنا ہی منع ہے۔ (قولِ سیدنا ابنِ عمرؓ در اتقان) پھر قرآن کے جامع و کامل ہونے پر آپ کا عقیدہ کیسے درست ہے؟

جواب: وہ تمام منزل شده آیات، جو عہدِ نبویﷺ میں ہی منجانب اللہ شہادت قرآنی سے منسوخ ہوئیں یا بھلائی گئیں کے لحاظ سے مقولہ ہے کیونکہ اسے کل منزل کہنا خلافِ واقع ہے لیکن منسوخ و منسی کے علاوہ یہ قرآن تا قیامت جامع و مکمل رہے گا۔ اس میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

1: اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوۡنَ (سورۃ الحجر: آیت 9)

ترجمہ: بے شک ہم نے ہی قرآن اتارا اور ہم ہی اس کی یقیناً حفاظت کرنے والے ہیں۔

یہ آیت اس خدشہ کے رد میں اتری کہ آئندہ نسلیں کہیں یہود و نصارٰی کی طرح کتاب اللہ میں تحریف نہ کر دیں۔ اللہ نے ضمانت دی کہ ہم ہی نے اتارا۔ ہم ہی یقیناً لوگوں کی دست برد اور تحریف سے اس کی حفاظت کریں گے۔

2: وَاِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِيۡزٌ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ‌ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ حَمِيۡدٍ

ترجمہ: یہ بڑی زبردست کتاب ہے اس میں باطل نہ سامنے آ سکتا ہے، نہ پیچھے سے یہ خدائے حکیم کا اتارا ہوا ہے جو خوبیوں والا ہے۔

قرآن میں انسانی تصرف سے کمی بیشی اور تحریف ایک باطل مداخلت ہے۔ جس کی نفی خود قرآن نے کی ہے۔

3: اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗ ۞ فَاِذَا قَرَاۡنٰهُ فَاتَّبِعۡ قُرۡاٰنَهٗ‌ ۞ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗ ۞ (سورۃ القیامہ: آیت 17، 19)

ترجمہ: اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے پھر جب ہم اسے پڑھیں تو ہماری قرات کی اتباع کریں پھر اس کی تشریح بھی ہمارے ذمے ہے۔

جب جمع کی ذمہ داری خود خدا نے لے لی ہے تو حسبِ حالات، اپنے پیغمبرﷺ سے پھر خلیفہ اوّل سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے پھر حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ سے جمع، حفاظت اور اشاعت کی جو خدمت خدا نے لی وہ سب صحیح، گارنٹی شدہ اور خدائی جمع کی ہی شکل اور ایفائے عہد ہے تو قرآن اسی طرح کامل و مکمل اور ہادی تا قیامت رہے گا۔ اس عقیدہ کے مخالف اور جمع قرآن پر اعتراضات کرنے والے کافر، اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھے جائیں گے۔

سوال نمبر 290: جو دعویدارِ اسلام قرآن سے کراہت کرے اسے کیا سمجھیں گے؟

جواب: اس کے ایمان میں خلل ہے جیسے شیعہ قرآن کے حفظ اور اشاعت کو ناپسند کرتے ہیں۔

سوال نمبر291: کیا اللہ کا رسولﷺ قرآن کو مکروہ سمجھ سکتا ہے؟

صفحہ 10 از 11