مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار -…

مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 11

یہ ایک حقیقت ہے کہ شیعہ دعویٰ اسلام کے باوجود قرآن کے منکر ہیں۔ اس پر مفصل و ضخیم کتابیں انہوں نے لکھی ہیں۔ قرآن کے الفاظ و معانی پر غیر مسلموں کی طرح اعترضات کیے ہیں۔ 1986ء میں حکومتِ ایران نے تحریف سے بھرپور قرآن شائع کیا اور حکومتِ پاکستان نے اس پر پابندی لگا دی۔ عیسائی بھی قرآن کے وحی الہٰی نہ ہونے پر شیعوں کے عقیدہ اور روایات سے استدلال کرتے ہیں۔ (دیکھئے سیارہ دائجسٹ قرآن نمبر)

اس مسئلہ پر کچھ بحث ہم نے تحفہ امامیہ اور ہم سنی کیوں ہیں میں کر دی ہے۔ یہاں مختصراً انکارِ قرآن پر مشتمل سو سوالات کے جواب میں چیدہ چیدہ باتیں عرض کی جائیں گی۔

سوال نمبر 198: اگر مذہبِ سنیہ مدعی ہے کہ قرآن مجید اصلی ہے تو حدیثِ متواتر سے ثابت کرے کہ قرآن اصلی ہے۔ حالانکہ بلاشک قرآن مجید اصلی کتاب ہے۔ 

جواب: شیعہ بلاشک کہ کر جھوٹی بات ہی بتاتے ہیں۔ قرآن (از الحمد تا والناس تیس پارے) کو شیعہ اصلی کتاب مانتے تو اسے بے اعتبار و غلط بتانے کے لیے 100، 100 سوالات کیسے گھڑتے اور الفصل الخطاب فی تحریف کتاب رب الارباب جیسی کتاب کیوں لکھتے؟ جو ابو الحسن نوری طبرسی ایرانی نے لکھی ہے۔

اہلِ سنت کی کتبِ حدیث میں باب فضائل القرآن ابواب القرآن وغیرہ کی وہ سینکڑوں احادیثِ نبوی جو لفظاً و معناً متواتر ہیں۔ یہی بتا رہی ہیں کہ قرآن اصلی ہے نقلی اور جعلی نہیں ہے۔ چند ملاحظہ ہوں:

1: لوگو! فتنوں کے زمانہ میں قرآن کے ذریعے بچ سکو گے۔ اللہ کی کتاب میں اگلوں اور پچھلوں کی خبریں ہیں۔ تمہارے اختلافات کے فیصلے ہیں۔ حق و باطل کے درمیان فصیل ہے۔ دل لگی اور مزاح کی بات نہیں ہے جو جبار اسے چھوڑے گا، اللہ اسے توڑے گا جو اس کے بغیر ہدایت طلب کرے گا خدا اسے گمراہ کرے گا۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے ذکرِ حکیم ہے اور صراطِ مستقیم ہے۔ الخ (ترمذی، دارمی، مشکوٰۃ: صفحہ، 186)

2: حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا: اے لوگو! تمہارے درمیان ایک چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں اس کو مضبوط پکڑو گے تو گمراہ نہ ہو گے اور وہ خدا کی کتاب ہے پس اسے مضبوط تھام لو۔ (شیعہ کتاب حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 536)

(کتبِ اہلِ سنت میں یہاں سنت کا بھی ذکر ہے۔ شیعہ کتب میں ولایتِ سیدنا علیؓ یا تمسک بہ اہلِ بیتؓ کا بھی ذکر نہیں ہے۔)

3: بخاری شریف میں کتاب فضائل القرآن میں ایک باب یہ ہے کہ حضور اکرمﷺ نے قرآن وہی چھوڑا جو دو گتوں کے درمیان ہے پھر روایت ہے کہ معقل نے حضرت ابنِ عباسؓ سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چھوڑا؟ تو سیدنا ابنِ عباسؓ نے کہا وہی چھوڑا جو دفتین میں ہے۔ محمد بن حنفیہ بن علیؓ سے ہم نے پوچھا تو انھوں نے بھی یہی کہا کہ قرآن دو گتوں میں چھوڑا۔ ایک اگلی روایت میں ہے: 

اوصیٰ بکتٰب اللہ     (صحیح البخاری: جلد، 2 صفحہ، 751) 

ترجمہ: حضور اقدسﷺ‏ نے کتاب اللہ کے متعلق تائید و وصیت فرمائی۔ 

یہ سب روایات دلالت کرتی ہیں کہ حضور اکرمﷺ دو گتوں کے درمیان (از الحمد تا والناس) کو قرآنِ اصلی بتا رہے ہیں اور اسی کی تاکید و وصیت فرما رہے ہیں اور یہ تعبیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زبان سے ہے ورنہ عہدِ نبوت میں گتوں کی جلد میں نہ تھا۔

سوال نمبر 199: حدیثِ متواتر بتلائیے کہ حضور اکرمﷺ نے قران منزل لکھوایا تھا اور اسی ترتیب سے لکھوایا تھا جس طرح نازل ہوا تھا اور جس طرح کہ موجود ہے؟

جواب: موجودہ ترتیب لوحِ محفوظ کی ترتیب ہے مگر نزول واقعات اور ضرورت کے مطابق تھوڑا تھوڑا ہوا۔ جب کوئی سورت یا آیت اترتی تو آپﷺ کاتبینِ وحی و قرآن کو بتا دیتے تھے اس سورت یا آیت کو فلاں سورت یا آیت سے پہلے یا بعد لکھ دو۔ پھر اسی ترتیب سے یاد کرواتے اور نمازوں میں پڑھتے۔ دونوں ترتیبوں کی وضاحت اتکان میں موجود ہے۔ اسی کی حفاظت کا خدا نے وعدہ کیا تھا۔ 

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوۡنَ ۞

(سورۃ الحجر:آیت 9) 

ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ یہ ذکر (یعنی قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ 

اور وہی پوری امت کے پاس موجود ہے۔

سوال نمبر 200: اتقان میں ہے کہ سب سے پہلے قرآن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جمع کیا ثابت ہوا کہ حضورﷺ نے جمع نہ فرمایا؟

جواب: حضور اکرمﷺ کا جمع صدری اور ترتیبی تھا۔ یعنی موجودہ ترتیب سے لوگوں کو قران حکیم یاد کرواتے رہے، اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عہدِ نبویﷺ کی تحریرات اور حافظوں کی شہادت سے یکجا کتابی شکل میں جمع کیا۔

سوال نمبر 201، 202: کیا سیدنا زیدؓ دو عادلوں کی گواہی کے بغیر کوئی آیت نہیں لکھتے تھے۔ اگر یہ صحیح ہے تو کیا فرمانِ رسولﷺ انہیں بھول گیا تھا اصحابی کالنجوم میرے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین ستارے اور عادل ہیں؟

جواب: قران کی عظمتِ شان کی خاطر گواہوں کی پابندی لازم کی۔ عادل اور نیک تو سبھی تھے مگر تحریری ثبوت اور اس پر گواہی قائم کرنے سے خطاء و غلطی کا امکان جاتا رہا۔ جیسے اب بھی پریسوں میں قرآن کی پروف ریڈنگ بار بار ماہر علماء و حفاظ سے کرائی جاتی ہے۔

سوال نمبر 203: بھی اس تقریر سے کافور ہو گیا کہ عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر شبہ نہیں، اہتمامِ قران مقصود ہے۔

سوال نمبر 204: حضرت زید رضی اللہ عنہ جب خود حافظ تھے تو پھر دو گواہوں سے کیوں پرکھوایا؟

جواب: بلاشک حافظ تھے۔ عہدِ نبویﷺ میں کاتب تھے اور انصار کے 4 بڑے جامعینِ قرآن سے تھے۔ (بخاری) تاہم وہ جمع و حفظ کی نسبت صرف اپنی طرف نہیں کرانا چاہتے تھے۔ انہوں نے برسرِ عام ہر ایک حافظ و قاری سے رابطہ قائم کر کے بڑی ذمہ داری سے قرآن کو کتابی شکل میں مدون کیا۔

سوال نمبر 205: سیدنا ابوبکر صدیقؓ حافظ نہ تھے۔ انہوں نے خود کیوں نہ لکھوایا؟ ورنہ دو گواہوں کے عادل ہونے کی کیا گارنٹی ہے؟

جواب: خود بھی حافظ تھے۔ (تہذیب نوی و تاریخ الخلفاء: صفحہ، 14) مگر حاکم و سربراہ ایسے کام اپنی نگرانی میں ماتحت ذمہ داروں سے ہی کرواتا ہے اور شہادت کے اصولِ عام کے تحت ایک صاحب کی تحریر، دو گواہوں کی گواہی اور پھر دیگر حافظوں سے تصدیق گارنٹی کی مکمل ضمانت ہے۔

صفحہ 1 از 11