سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و شفقت اور لاڈ و پیار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

جیسا کہ گزرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قائد و امیر ہوتے ہوئے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھیلتے تھے تاکہ والدین اور بڑوں کو تربیت کا ڈھنگ بتائیں اور وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ کھیلیں۔

حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف حسن رضی اللہ عنہ کی ہمت افزائی کرتے تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حسن و حسین رضی اللہ عنہما ایک دوسرے سے بھڑ گئے، آپﷺ کہنے لگے: شاباش حسن! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ بڑے کی مدد کر رہے ہیں، آپﷺ نے فرمایا: جبریل علیہ السلام کہہ رہے ہیں: اے حسین! دھر پکڑو۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 266 اس کی سند حسن ہے)

جعفر بن محمد اپنے والد سے ایک ضعیف حدیث روایت کرتے ہیں، آپ کے والد فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازوں کی جگہ بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما آئے اور لڑ پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: شاباش حسن! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول کیا آپ حسین کے خلاف ابھار رہے ہیں، تو آپﷺ نے فرمایا: جبریل علیہ السلام کہہ رہے ہیں: شاباش حسین۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 284 اس کی سند میں انقطاع ہے، اور یہ روایت سخت ضعیف ہے)

سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف قسم کے کھیلوں کو آپﷺ نے دیکھا، آپﷺ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ بچوں کے ساتھ مختلف کھیلوں کے تصور کی جانب آپﷺ کی رہنمائی کریں، اسی طرح کھیل سے متعلق آپﷺ نے ان دونوں کی تعریف کی تاکہ کھیل میں ان کی نفسیاتی معنویات میں اضافہ کریں تاکہ وہ بلا تھکن و مشقت پوری رغبت و چاہت سے کھیلتے رہیں اور یہ ان کے لیے بیک وقت جسمانی و نفسیاتی غذا کا کام دے۔ 

(منہج التربیۃ النبویۃ للطفل: صفحہ: 209، 216)

اسی طرح بچوں کے کھیل میں بہت سارے جسمانی، تربیتی، معاشرتی، اخلاقی، ذاتی اور طبی فوائد ہیں۔ 

(منہج التربیۃ النبویۃ للطفل: صفحہ 216) 


صفحہ 4 از 4