سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و شفقت اور لاڈ و پیار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

عام طور پر لوگوں میں ہدیہ کی اچھی تاثیر ہوتی ہے، بچوں میں یہ چیز زیادہ ہی مؤثر ہوتی ہے۔ بچوں کے جذبات کو پروان چڑھانے، انھیں صحیح سمت دینے، ان کو مہذب بنانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اہم چیز کی تاثیر کو واضح کیا ہے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی نواسی امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو ہدیہ دینے کا تذکرہ کیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ زیور ہدیہ میں بھیجا، اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، اس کا نگینہ ملک حبش کا تھا، آپﷺ نے قبول کرلیا، لیکن آپﷺ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، چنانچہ اسے اپنی صاحبزادی زینب کی بچی کو دے دیا اور کہا: اے لاڈلی بچی تو اسے پہن لے۔ 

(سنن ابن ماجہ: رقم: 3644۔ الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 43) 

د: چوتھی بنیاد: بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرنا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیر کر ان کے جذبات کو اجاگر کرتے، چنانچہ انھیں رحمت و شفقت، محبت و مودت کا احساس ہوتا، یہ ایسی چیز ہے جس سے بچوں کو اپنے وجود، بڑوں کی محبت اور اپنے ساتھ ان کے اہتمام کا احساس ہوتا ہے۔ مصعب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں عبداللہ بن ثعلبہ ہجرت کے چار سال پہلے پیدا ہوئے، فتح مکہ کے سال انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا، آپﷺ نے ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا، انھیں برکت کی دعائیں دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت وہ چودہ سال کے تھے۔

(المستدرک للحاکم: جلد 3 صفحہ 379)

ھ: پانچویں بنیاد: بچوں سے خوش اسلوبی کے ساتھ ملنا:

بچوں سے ملاقات ضروری ہے، ملاقات میں سب سے اہم ابتدائی لمحات ہوتے ہیں، اگر ملاقات اچھے ماحول میں ہو تو بچے اپنی بات جاری رکھ سکتے ہیں، متکلم کے ساتھ گفتگو، سوال و جواب کا دروازہ کھل سکتا ہے، بچے دل کھول کر اپنی باتیں کہہ سکتے ہیں، اپنی پریشانیوں کو بیان کرسکتے ہیں، اپنی تمناؤں کا اظہار کرسکتے ہیں۔ یہ سب اسی وقت ہوسکتا ہے جب بچوں سے خوشی، محبت اور لاڈ پیار کے ماحول میں ملا جائے۔

(منہج التربیۃ النبویۃ للطفل: صفحہ 185)

عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے آتے تو اپنے خاندان کے بچوں سے ملاقات کرتے، ایک سفر سے آپﷺ واپس آئے تو مجھے آپﷺ کے پاس لے جایا گیا، آپﷺ نے مجھے اپنے سامنے سوار کرلیا، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دو بچوں حسن وحسین رضی اللہ عنہما میں سے ایک کو لایا گیا تو آپﷺ نے انھیں اپنے پیچھے سوار کرلیا، تو ہم تینوں مدینہ میں ایک سواری پر داخل ہوئے۔

(صحیح مسلم: رقم: 2328) سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 458)

و: چھٹی بنیاد: بچوں کی خبرگیری اور ان کے احول کی پرسش:

اکثر و بیشتر بچے اکیلے چلتے ہوئے راستہ بھول کر بھٹکتے رہتے ہیں، والدین اگر بچوں کا خاص خیال رکھتے ہوں تو وہ جلد ہی بچوں کے گم ہونے سے باخبر ہوجاتے ہیں، جلد ہی تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں، اور پتہ لگا لیتے ہیں اور اس کے برعکس صورت حال میں نتیجہ بھی برعکس ہوتا ہے، تلاش کرنے میں جلدی کا بچوں کی نفسیات پر بڑا اچھا اثر پڑتا ہے، اس سلسلے میں تاخیر اس کے ڈر، تکلیف اور رونے میں زیادتی کا سبب ہوتی ہے، جیسے جیسے والدین میں سے کسی ایک کے پہنچنے میں تاخیر زیادہ ہوتی ہے اس کی نفسیاتی تکلیف بھی زیادہ ہوتی ہے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی کرتے اور اپنے صحابہ کرامؓ کو تعاون کرنے اور گلیوں میں منتشر ہوجانے کا حکم دیتے، تاکہ سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنہما کا پتہ چلایا جاسکے۔

(منہج التربیۃ النبویۃ للطفل: صفحہ 186)

امام طبرانیؒ نے سلمان رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے، کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! حسن و حسین گم ہوگئے ہیں۔ راوی حدیث کہتے ہیں یہ صبح کا وقت تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو میرے لاڈلوں کو تلاش کرو، ہر شخص کسی نہ کسی جانب نکل پڑا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب نکل پڑا، تھوڑی ہی دیر میں ایک پہاڑ کے دامن میں حسن و حسین رضی اللہ عنہما ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے پائے گئے۔ ایک زہریلا سانپ اپنی دُم پرکھڑا تھا، اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانپ لپکے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوتے ہوئے پلٹا اور بھاگ کر کسی بل میں گھس گیا، پھر آپﷺ ان دونوں کے پاس آئے، انھیں ایک دوسرے سے الگ کیا، ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرا اور کہا:

ل

بِأَبِیْ وَ أُمِّيْ أَنْتُمَا مَا أَکْرَکُمَا عَلَی اللّٰہِ۔

’’تم دونوں پر میرے ماں باپ قربان ہوں، تم دونوں اللہ کے نزدیک کیا ہی معزز ہو۔‘‘

پھر آپﷺ نے ان میں ایک کو داہنے کندھے پر اور دوسرے کو بائیں کندھے پر اٹھالیا، میں نے کہا: تم دونوں کو مبارک ہو، تمھاری سواری کیا ہی خوب سواری ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور وہ دونوں کیا ہی اچھے سوار ہونے والے ہیں، اور ان کے والد ان سے بھی اچھے ہیں۔

(معجم الطبرانی: جلد 3 صفحہ 65، رقم: 2677)، المجمع: جلد 9 صفحہ 182) اس حدیث کی سند میں احمد بن راشد ہلالی ضعیف ہے۔ اسے ذہبیؒ نے المغنی: جلد 1 صفحہ 39 میں ضعیف کہا ہے۔)

آپﷺ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے خوف کو دیکھا کہ سانپ سے ڈر کر ایک دوسرے سے چمٹ گئے تھے، نیز اس خوف کو دور کرنے اور ایک کو دوسرے سے الگ کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد بازی بھی دیکھی، پھر آپﷺ نے ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرا، ان کے لیے دعائیں کیں، اپنے کندھوں پر اٹھا کر انھیں اعزاز بخشا، پھر ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

 وَنِعْمَ الرَّاکِبَانِ ہُمَا۔

’’اور وہ دونوں کیا ہی اچھے سوار ہونے والے ہیں۔‘‘

یہ سب حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، دیکھ ریکھ اور اہتمام کی شدت کے باعث ہوا۔ 

(منہج التربیۃ النبویۃ للطفل: صفحہ 187)

ز: ساتویں بنیاد: چھوٹوں اور بچوں کے ساتھ بڑوں کا کھیلنا:

صفحہ 3 از 4