سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و شفقت اور لاڈ و پیار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

13۔ عکرمہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، ایک آدمی نے کہا: اے بچے کیا ہی اچھی سواری ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ہی اچھا ہے سوار ہونے والا۔

(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2160 اس کی سند ضعیف ہے۔)

14۔ ابوالزبیر جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں؛ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپﷺ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے بل زمین پر کھڑے تھے، سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپﷺ کی پیٹھ پر سوار تھے، آپﷺ ان کو لیے ہوئے گھر میں گھٹنوں کے بل چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے:

نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلُکُمَا وَنِعْمَ الْعِدْلَانِ أَنْتُمَا۔

(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 216۔ اس کی سند ضعیف ہے، اس میں مسروح راوی ہے۔ المجروحین: جلد 3 صفحہ 19) المیزان: جلد 4 صفحہ 97)

’’تمھارا اونٹ کیا ہی اچھا ہے، اور تم دونوں کیا ہی اچھے سوار ہو۔‘‘

15۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، جب آپﷺ حالت سجدہ میں ہوتے تو سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپﷺ کی پیٹھ پر چڑھ جاتے، جب آپﷺ سر اٹھاتے، انھیں زمین پر اتار دیتے، جب آپﷺ پھر سجدہ کرتے تو وہ دونوں پھر چڑھ جاتے، یہاں تک کہ آپﷺ اپنی نماز پوری کر لیتے۔

(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2161)۔ اس کی سند ضعیف ہے، اس میں محمد بن عیسیٰ بن حیان المدائنی راوی ہے۔)

16۔ ابن بریدہ اپنے والد بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما سرخ قمیص پہنے آ رہے تھے اور لڑکھڑا رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے، دونوں کو اٹھا لیا اور فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا ہے: 

اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُـكُمۡ وَاَوۡلَادُكُمۡ فِتۡنَةٌ ۞

(سورۃ التغابن آیت 15)

ترجمہ: تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو تمہارے لیے ایک آزمائش ہیں۔

میں نے ان دونوں بچوں کو آتے اور لڑکھڑاتے دیکھا تو صبر نہ کرسکا، اپنی گفتگو کو روک دیا، ان دونوں کو اٹھا لیا۔

(الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2162) 

17۔ حضرت ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں دن کے ایک حصے میں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نکلا، ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہو رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار بنو قینقاع پہنچ کر لوٹ پڑے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے، پوچھا: کیا یہاں ننھا بچہ ہے؟ کیا یہاں ننھا بچہ ہے؟ آپﷺ کی مراد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے تھی، ہمارا خیال ہے کہ ان کی والدہ نے انھیں نہلانے اور خوشبوؤں کا ہار پہنانے کے لیے روک رکھا تھا، تھوڑی ہی دیر میں وہ دوڑتے ہوئے آئے، اور دونوں ایک دوسرے سے چمٹ گئے۔

(صحیح مسلم: جلد 4 صفحہ 1882، 1883) 

19۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپ کے سرخ خچر پر تھے، میں ان کے آگے آگے چلتا رہا، یہاں تک کہ میں نے انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے میں پہنچا دیا، یہ آپﷺ کے آگے اور یہ آپﷺ کے پیچھے تھے۔

(صحیح مسلم: رقم: 2423)

اس سرچشمۂ ہدایت سے بچوں کے والد بچوں کے ساتھ محبت، ان پر لطف و کرم اور شفقت کو سیکھیں، ان حدیثوں میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، رحم و کرم اور لاڈ پیار کا تذکرہ ہے، ان میں مسلمانوں کے لیے نبوی رہنمائی ہے کہ کس طرح وہ بچوں کو تربیت دیں اور پروان چڑھائیں، ان میں اس اہم سوال کا جواب ہے کہ ہم بچوں کے جذبات کی تشکیل کس طرح کریں؟ ہم ان کے حقوق کس طرح ادا کریں کہ وہ مستقبل کے اچھے آدمی بن سکیں؟ ان احادیث نبویہ میں بہت ساری ایسی بنیادی باتوں کی جانب اشارہ ہے کہ جن کو اپنا کر ہم راہ راست اور روشن شاہرہ پر چل سکتے ہیں۔

ا: مہربانی پر مشتمل پہلی بنیاد:

بچوں کو بوسہ دینا، ان کے ساتھ شفقت و رحمت سے پیش آنا:

بچوں کے جذبات و احسانات کو بیدار کرنے اور ان کی ناراضی اور غصے کو ختم کرنے میں بوسے کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بوسہ بڑوں اور بچوں کے مابین محبت کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اپنے گہرے ربط کا احساس دلاتا ہے۔ بوسہ چھوٹے بچے کے ساتھ دلی لگاؤ اور چھوٹوں پر بڑوں کی شفقت کی دلیل ہوتا ہے، وہ ایسی چمکدار روشنی ہے جو بچے کے دل کو منور کرتی ہے، اس کے نفس کو تازگی دیتی ہے اس کے اردگرد موجود لوگوں سے اس کی انسیت میں اضافہ کردیتی ہے، پھر بوسہ ہر حال میں بچوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ رہا ہے۔

(منہج التربیۃ الاسلامیۃ للطفل: صفحہ 179)

بچوں کے ساتھ رحمت اور ان پر شفقت نبوی صفات میں سے، کا راستہ نیز رضائے الہٰی کے حصول کا سبب ہے۔

ب: دوسری بنیاد: بچوں کے ساتھ لاڈ پیار کرنا، ان کے ساتھ ہنسنا کھیلنا:

مذکورہ باتوں سے متعلق ہم نے چند حدیثوں کو ذکر کیا ہے، ان میں بچوں کے ساتھ لاڈ پیار سے متعلق نبوی طریقہ کے سبق آموز پہلو موجود ہیں، کبھی انھیں اٹھا کر، کبھی انھیں ہنسا کر وغیرہ وغیرہ۔ اس سلسلے میں صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی، چنانچہ اپنے بچوں سے لاڈ پیار کیا، انھیں ہنسایا، انھی کی طرح بچہ بن کر ان کے ساتھ کھیلے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے:

یَنْبَغِیْ لِلرَّجُلِ أَنْ یَکُوْنَ فِیْ أَہْلِہِ کَالصَّبِیِّ۔

’’آدمی کو اپنے اہل و عیال میں بچے کی طرح رہنا چاہے۔‘‘

یعنی اپنے بچوں کے ساتھ لاڈ پیار کرتے، ان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے، ہشاش بشاش اور مانوس رکھنے میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو کھیلاتے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ اسی لاڈ پیار اور کھیل کود سے پیش آتے، ان میں یہ جذبہ صادق پیدا کرتے، ان پر ظلم و زیادتی، سختی اور ان کو حقوق سے محروم کرنے سے بہت دور رہتے۔

(منہج التربیۃ النبویۃ: صفحہ 184)

ج: تیسری بنیاد: ہدیے اور تحفے:

صفحہ 2 از 4