عترت و اہل بیت رضی اللہ عنہم کا مفہوم - ردِ رافضیت | دفاع…

عترت و اہل بیت رضی اللہ عنہم کا مفہوم

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 2

اتنی سی بات کا ہے کرب و بلا فسانہ 

بعض شیعہ روایات اس کی یوں تائید کرتی ہیں کہ بیعت کے مطالبہ پر حضرت حسینؓ نے حاکمِ مدینہ سیدنا ولید رضی اللہ عنہ سے کہا:

حضرت گفت پس تاخیر کن تا صبح و مارائے خود را بیتیم و تورائے خود را بینی و بایک دیگر مناظرہ کینم ہریک از ماوا وکہ بخلاف سزاوار ترباشد دیگرے با و بیعت نماید۔ (جلاء العیون: صفحہ٬ 349 و منتہی الآمال: جلد٬ 1 صفحہ، 298) 

ترجمہ: تو صبح تک بیعت ملتوی کر دے ہم بھی غور کریں اور تو بھی غور کر لے اور ہم ایک دوسرے سے مناظرہ کریں کہ ہم خلافت کے زیادہ حق دار ہیں یا وہ (یزید) زیادہ حق دار ہے جو بھی ہو گا، دوسرا اس کے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔

مکالمہ ولید حاکمِ مدینہ و سیدنا حسین رضی اللہ عنہ

80 اہلِ سنت کے اصول پر سیدنا حسینؓ کی مظلومیت بحال ہے کیونکہ جب آپ رضی اللہ عنہ نے تین باعزت شرطوں میں ایک واپسی کی یا یزید کے پاس خود جا کر تصفیہ کرنے کی شرط رکھی مگر پھر بھی کوفیوں نے جنگ چھیڑ کر آپؓ کو تلوار اٹھانے پر مجبور کیا تو مظلومیت سے شہادت پائی بنا بریں حضور اکرمﷺ‏ نے ان کی مظلومیت کی پشن گوئی فرمائی۔

سوال نمبر 81: خاکِ کربلا میں روزِ عاشورہ آج بھی خون گردش کرتا ہے؟ 

جواب: یہ شیعی خطابت ہے، حقیقت اور واقعہ سے اسے کوئی تعلق نہیں۔ ہزاروں شہداء مظلوم انبیاء کرام علیہم السلام سمیت ہوئے کسی کی جائے شہادت میں خون گردش کرانے کی اللہ نے سنت قائم نہیں کی تو اب اللہ اپنی سنت کو کیسے تبدیل کر کے خاکِ کربلا میں گردش کراتا ہے، دراصل ایسی جعلی خطابت سے شیعہ مذہب چل رہا ہے، ورنہ خاکِ کربلا کی جو ٹکیہ (سجدہ گاہ) ہر شیعہ لیے پھرتا ہے۔ اس میں بھی خون کسی نے دیکھا؟ یا وہ جعلی مٹی کا بت ہے؟ گردشِ خون کوئی سنت اللہ نہیں۔

سوال نمبر 82: کیا کسی امام نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اس قربانی کو اجتہادی غلطی تصور کیا؟ 

جواب: عمل اور حقیقت کے لحاظ سے تو کچھ بات ایسی ہے کیونکہ حادثہ کربلا کے بعد یزید چند سال اور زندہ رہا پھر بعد میں دیگر خلفاء بنو امیہ اور بنو عباس گزرتے رہے شیعہ سب کو ظالم غیر عادل کہتے ہیں، آٹھ ائمہ اہلِ بیتؒ تو ان کے دور میں گزرے، اگر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی واقعی ایسی ہوتی جیسی شیعہ باور کراتے ہیں تو وہ بھی اس سنت پر ضرور عمل کرتے یا کم از کم دوسروں کو نمائندہ بنا کر ان کی بالواسطہ مدد کرتے مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ نے بروایت (روضہ کافی: صفحہ٬ 235) یزید کی مجبورانہ غلامی کو ترجیح دی، سیاسی پاور سے مختار ثقفی اٹھا تو حضرت سجاد رحمۃ اللہ نے اسے بد نیت اور ظالم و منافق بتا کر بائیکاٹ کیا، حضرت زید رحمۃ اللہ اٹھے اور شہید ہوئے تو حضرت باقرؒ نے ان پر جرح کی، نفس زکیہ وغیرہ جو علوی ہاشمی حکومتِ وقت کے خلاف اٹھے، شیعہ کے کسی امام نے ان کی تائید نہ کی، کیا یہ سب کچھ اس بات کا اعلان نہیں ہے کہ حضرت حسینؓ نے حکومتِ وقت کے خلاف جو کچھ کیا وہ شیعہ ائمہ کے خیال میں نادرست اور ناقابلِ اتباع بات تھی۔ شہادتِ سیدنا حسینؓ کے بعد کوفی شیعوں نے پھر سیدنا زین العابدینؒ سے بیعت کرنا چاہی تو آپ نے فرمایا ہرگز نہیں، ہرگز نہیں، اے غدارو اور مکارو ہم پھر تمہارا دھوکہ نہ کھائیں گے، اور تمہارے جھوٹوں پر یقین نہ کریں گے، تم چاہتے ہو کہ میرے ساتھ بھی وہی کرو جو میرے باپ دادا کے ساتھ کیا ہے، اس خدا کی قسم جو آسمانوں کا محافظ ہے میں تمہاری گفتار پر ہرگز اعتماد نہ کروں گا۔ الخ 

(جلاءالعیون: صفحہ، 427 طبع فارسی ایران)

یہاں حضرت سجادؒ نے دبی زبان میں یہ بات کہ دی کہ میرے والد نے تمہاری پُر مکر و فریب باتوں پر اعتماد کر کے غلطی کی اور مصائب جھیلے، میں یہ غلطی ہرگز کرنے والا نہیں۔

63ھ میں جب یزید کے خلاف تحریک گرم تھی اس دوران سیدنا منذر بن زبیرؓ نے حضرت عبداللہ بن حنظلہؓ اور سیدنا عبداللہ بن مطیع سے کہا تم کو چاہیے کہ سیدنا علی بن الحسینؒ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کرو، چنانچہ یہ سب مل کر سیدنا علی بن حسینؒ کے پاس گئے انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ:

میرے باپ اور دادا دونوں نے خلافت کے حصول کی کوشش میں اپنی جانیں گنوائیں میں اب ہرگز ایسے خطرناک کام کی جرأت نہیں کر سکتا میں اپنے آپ کو قتل کروانا پسند نہیں کرتا یہ کہہ کر مدینہ سے باہر ایک موضع میں چلے گئے۔

(تاریخِ اسلام نجیب آبادی: جلد، 2 صفحہ، 85)

سوال نمبر 83، 84: کسی شخص کا معتمد دوست اگر بعد وفات اس کی اولاد کو جائیداد سے محروم کر دے کیا وہ وفا دار ہو گا یا بے وفا اور قابلِ مذمت ہو گا؟

جواب: ایک فرضی کلیہ ہے کہ رسولِ خداﷺ‏ کے بااعتماد دوستوں نے نہ آپﷺ‏ سے بے وفائی کی نہ آپﷺ‏ کی اولادؓ سے، نہ آپﷺ‏ کی جائیداد ہڑپ کی نہ اولاد کو تکلیف پہنچائی، یہ سب دشمنانِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا حسد ہے اور خود ساختہ قصے ہیں جن سے وہ بد گوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مشن چلا رہے ہیں۔



صفحہ 2 از 2