سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خالائیں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خالائیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

اس طرح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصیبتوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں، یہاں تک کہ ان کا اثر آپﷺ کی بچیوں تک پہنچا، پھر بھی آپﷺ بہ نیت ثواب صبر کرتے ہوئے دعوت کا کام انجام دیتے رہے، یہیں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی سربلندی کا راستہ بڑا صبر آزما اور قربانیوں کا طالب ہے۔

سیدہ زینبؓ کے بطن سے ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کی دو اولاد امامہ اور علی رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کم عمری ہی میں انتقال کر گئے۔ دوسرے قول کے مطابق نبیﷺ کی زندگی ہی میں وفات پاگئے۔ بلوغت کے قریب پہنچ چکے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر جب مکہ میں داخل ہوئے تو وہ اونٹنی پر آپﷺ کے ردیف تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک امامہ کی بڑی قدر و منزلت تھی، آپﷺ نماز کی امامت کراتے ہوئے انھیں اپنے کندھے پر اٹھائے رہتے۔

ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھاتے ہوئے اس حال میں دیکھا کہ آپ اپنی نواسی امامہ بنت ابوالعاص کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب جھکتے اتار دیتے، اور جب کھڑے ہوتے اٹھا لیتے۔ 

(صحیح مسلم: رقم: 543)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نجاشی نے چند زیور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ دیے، اس میں حبشی نگینہ والی سونے کی انگوٹھی تھی، آپ نے اسے لے لیا، آپ کو اس کی چاہت نہیں تھی، اپنی نواسی امامہ بنت زینب کو دے دی اور کہا: اے لاڈلی! تم اس کو پہن لو۔ 

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 101، 261) اس کی سند ضعیف ہے۔ الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 43) 

دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل و عیال کے پاس پہنچے، آپ یمنی مونگوں والا ہار لیے ہوئے تھے۔ فرمایا: میں اسے اپنے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ محبوب کو دوں گا، انھوں نے کہا: آپﷺ اسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بچی (عائشہ) کو دیں گے، آپﷺ نے اپنی نواسی امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو بلایا، اور ان کو اپنے ہاتھ سے ہار پہنا دیا۔

(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 40۔ الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 4 صفحہ 245)۔ الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 43)۔

ان کی آنکھ میں کیچڑ تھا، آپﷺ نے اسے اپنے ہاتھ سے صاف کردیا۔

سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں، یہاں تک کہ ان کی خالہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے شادی کی۔ ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ نے اپنی بچی کے بارے میں زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو وصی بنا دیا تھا، چنانچہ انھوں نے ان کی شادی سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کردی۔ سیدنا علیؓ کی شہادت کے وقت وہ ان کے پاس تھیں، ان کے بعد مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے شادی کرلی، انھی کے پاس وفات پائیں۔ سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی، اور نہ ہی مغیرہ بن نوفل کی۔

دوسرے قول کے مطابق ان کے بطن سے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے ایک لڑکے پیدا ہوئے جن کا نام یحییٰ تھا، ان کی وفات ہوگئی، اس طرح سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی نسل آگے نہ بڑھ سکی۔


صفحہ 3 از 3