سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خالائیں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خالائیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

جب اسلام کے باعث دونوں میں جدائی ہوئی تو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ مکہ میں رہنے لگے، اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں رہنے لگیں، فتح مکہ سے کچھ پہلے ابوالعاص (جو امین تھے) اپنے اور قریش کے چند لوگوں کے اموال کو لے کر بغرض تجارت ملک شام گئے، واپسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک دستے سے مڈ بھیڑ ہوگئی۔ ان کے پاس جو کچھ تھا ان لوگوں نے لے لیا، اور وہ ان کی دسترس سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے، جب دستہ مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو ابوالعاص رضی اللہ عنہ رات میں آئے اور سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے، ان سے پناہ طلب کی، انھوں نے پناہ دے دی، وہ اپنے مال کی تلاش میں آئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھانے نکلے، لوگوں نے آپﷺ کے پیچھے تکبیر پکار کر نماز شروع کردی، ایسے میں سیدہ زینبؓ نے عورتوں کے چبوترے سے بآواز بلند کہا: اے لوگو! میں نے ابوالعاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور کہا: لوگو! جو کچھ میں نے سنا کیا تم لوگوں نے اسے سنا؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے جو کچھ تم نے سنا اس کو سننے سے پہلے مجھے اس سلسلے میں کچھ علم نہیں ہے، بلاشبہ مسلمانوں کا ادنیٰ آدمی بھی پناہ دے سکتا ہے۔ پھر آپ گھر لوٹے، اپنی بچی کے پاس گئے اور کہا: اے میری لاڈلی! انھیں عزت سے رکھو، خیال رہے کہ وہ تم سے ازدواجی تعلق نہ قائم کریں کہ تم ان کے لیے حلال نہیں ہو۔

مال چھیننے والے دستہ کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا بھیجا اور کہا: ہمارے نزدیک اس شخص کی حیثیت کا تمھیں علم ہے، تم نے ان کا مال چھین لیا ہے، اگر تم احسان کرو اور ان کو ان کا مال واپس دے دو تو میں اسے پسند کروں گا، اور اگر تم انکار کرتے ہو تو یہ تمھارے لیے اللہ کی جانب سے مال غنیمت ہے، تم اس کے زیادہ حقدار ہو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ہم انھیں واپس دے رہے ہیں، چنانچہ ان کو واپس دے دیا، ایک ڈول لا رہا ہے، دوسرا گھڑا اور لوٹا لا رہا ہے، تیسرا بہنگی (ایسی لکڑی جس کے دونوں سرے پر رسی لٹکتی ہے، ان پر بوجھ لاد کر لے جایا جاتا ہے۔) لا رہا ہے۔ وہ مال لیے ہوئے مکہ پہنچے، قریش کے ہر صاحب مال کو اس کا مال واپس کردیا، پھر کہا: اے قریش کے لوگو! کیا میرے پاس تم میں سے کسی کا مال باقی رہ گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ایسا ہرگز نہیں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے، ہم نے آپ کو وفادار اور اچھا پایا۔ اس کے بعد انھوں نے کہا: میں کلمۂ توحید ’’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ کا اعلان کر رہا ہوں۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسلام لانے سے یہ خوف مانع تھا کہ تم یہ گمان کرنے لگ جاتے کہ میں نے تمھارے اموال کو کھا جانے کا ارادہ کرلیا ہے، اب جب کہ اللہ نے ان اموال کو تم تک پہنچا دیا ہے اور میں ان سے بری الذمہ ہو چکا ہوں میں نے اسلام قبول کرلیا ہے، پھر نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے۔

(تاریخ الإسلام للذہبی: المغازی: صفحہ 70)

عامر شعبی وغیرہ سے روایت ہے کہ ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ جب مشرکین کے اموال لیے ملک شام سے آرہے تھے ان سے کہا گیا: کیا تمھاری چاہت ہے کہ تم اسلام لے آؤ اور مشرکین کا یہ سب مال لے لو۔ ابوالعاص نے کہا: امانت میں خیانت سے اسلام کی ابتداء بہت بری بات ہے۔

(دلائل النبوۃ للبیہقی: جلد 1 صفحہ 154)

ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے اقوال سے ہم امانت داری، غیر مسلموں تک سے حسن اخلاق سے پیش آنا جیسے اہم باتوں کو سیکھ سکتے ہیں، اس لیے مسلمان کو کسی بھی حالت میں امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہیے۔

جب ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپﷺ نے ان کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے پاس عقد قدیم کے ساتھ لوٹا دیا، عقد جدید نہیں کیا۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 41)

سیدہ زینبؓ اور ان کے شوہر کے مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے سے متعلق بہت ساری روایتیں وارد ہیں، لیکن تمام روایتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کی وفاداری اور مکہ سے نکلتے ہوئے سیدہ زینبؓ کے حق میں مشرکین کی ایذا رسانی پر متفق ہیں۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 41)

ج: سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کی وفات اور اولاد

عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ ایک شخص زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کر رہا تھا، اسی اثناء میں قریش کے دو آدمی اس کے پاس پہنچے، اس سے لڑنے لگے، اسے مغلوب کرکے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو دھکیل دیا، وہ ایک چٹان پر گر پڑیں، ان کا حمل ساقط ہوگیا، بہت سارا خون بہ گیا، لوگ ان کو ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے، بنوہاشم کی عورتیں آئیں تو ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے ان کو ان کے حوالے کردیا، اس کے بعد جب ہجرت کرکے آئیں تو ان کی تکلیف باقی تھی، اسی تکلیف میں ان کا انتقال ہوگیا، اس لیے لوگوں کے خیال میں سیدہ زینبؓ شہیدہ ہیں، ان کا انتقال 8ھ کی ابتداء میں ہوا۔

(مجمع الزوائد للہیثمی: جلد 9 صفحہ 216)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ ریکھ میں ان کی تجہیز و تکفین ہوئی۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرمایا کہ جب سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپﷺ نے ہم لوگوں سے فرمایا: تم انھیں طاق عدد یعنی تین یا پانچ مرتبہ نہلاؤ، پانچویں مرتبہ میں کافور کا استعمال کرو، جب غسل دے چکو تو مجھے بتلاؤ، کہتی ہیں کہ آپ نے ہم کو اپنا ازار دیا اور کہا کہ ان کو اس میں لپیٹ دو۔ 

(صحیح مسلم: کتاب الجنائز: جلد 2 صفحہ 648، طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 34)

صفحہ 2 از 3