حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود) - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 11

اگر کسی وقت اور کسی حالت میں بھی ایک جماعت کو دوسری جماعت سے لڑنے بھڑنے کی اجازت نہ ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ فطرت کی سخت خلاف ورزی ہو گی اس لیے دنیا کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ ہر چیز یا ہر شخص یا ہر جماعت دوسری چیز یا شخص یا جماعت کے مقابلہ میں اپنی ہستی کو برقرار رکھنے کے لیے جنگ کرتی رہے اگر ایسا نہ ہوتا اور نیکی کو اللہ تعالیٰ اپنی حمایت میں لے کر بدی کے مقابلہ میں کھڑا نہ کرتا تو نیکی کا نشان زمین پر باقی نہ رہتا بددین اور شریر لوگ جن کی ہر زمانہ میں کثرت رہی ہے تمام مقدس مقامات اور یادگاریں ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹا دیتے کیونکہ عبادت گاہ، تکیہ، خانقاہ مسجد اور مدرسہ محفوظ نہ رہ سکتا۔

(تفسیر عثمانی: صفحہ، 448)

دارالعلوم دیوبند کے زبدۃ المحدثین حضرت مولانا بدر عالم مدنی رحمۃاللہ نے یہاں حدیثِ قرطاس کے موضوع پر نہایت لطیف استدلال کیا ہے حضورﷺ نے جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر وصیت لکھوانے کا ارادہ کیا تھا تو یہ آپﷺ کی ایک سیاسی تدبیر تھی لیکن خدا کا تکوینی فیصلہ یہ تھا کہ یہ لکھنا عمل میں نہ آئے لہٰذا آپﷺ کے قلم و دوات مانگنے پر ایک ہنگامہ سا ہو گیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی مصلحت کسی کو معلوم نہ تھی کہ وہ قلم و قرطاس لینے کیوں نہیں جاتے پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلے سے حضور اکرمﷺ کو اس پر مطلع کر دیا تو آپﷺ نے اتنے دن اور زندہ رہنے کے باوجود دوبارہ قلم و قرطاس طلب نہ کیا اور اسلامی نظامِ حکومت مسلمانوں کے اپنے فیصلہ پر چھوڑ دیا ہے جسے شورائی نظام کہتے ہیں۔

شورائی نظام کا اہم ترین فائدہ:

اسلامی عقیدہ میں چونکہ زمین پر انبیاء علیہم السلام کے سوا کوئی معصوم نہیں اس لیے ضروری تھا کہ حضورﷺ کسی کو اپنی بلا فصل خلافت کے لیے نامزد نہ کریں کیونکہ اس صورت میں اس غیر معصوم امیر کو کسی غلطی پر روکنے ٹوکنے کی کوئی راہ نہ ہو گی وہ کہے گا کہ تم کون ہو مجھے روکنے والے مجھے تو حضور اکرمﷺ نے اس پر معمور کیا ہے سو حکمتِ خداوندی یہی تھی کہ حضورﷺ کا پہلا بلا فصل خلیفہ حضورﷺ کا مقرر کیا ہوا نہ ہو عام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا چنا ہوا ہو اور وہ اسے روک ٹوک سکیں ہاں دوسرا خلیفہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا نامزد کردہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے پر نکیر کرنے والوں کو کبھی نہ کہہ سکے گا کہ تم مجھے روکنے ٹوکنے والے کون ہو اور اس سلسلہ خلافت میں ایک نہیں زیادہ بھی نامزد کیے جا سکتے ہیں کہ ان میں سے کسی کو بھی باہمی فیصلے سے آگے لایا جا سکے گا۔

حالات ہنگامی ہوں اور باقاعدہ شوریٰ قائم کرنے کا موقع نہ ہو تو اس صورت میں ہنگامی طور پر بھی کسی کو آگے کیا جا سکتا ہے جیسا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ہاتھ کو اس وقت خلافت کے لیے کھینچا گیا جب وہ اپنا ہاتھ بیعت لینے سے روک رہے تھے۔ 

اس وقت موضوع خلافت نہیں یہ ایک ضمنی بات تھی جو سامنے آ گئی حضرت مولانا بدر عالم مدنی رحمۃاللہ حدیثِ قرطاس میں یہ فرما رہے ہیں کہ جب اللہ رب العزت کو ہی بلا فصل خلافت کے لیے کسی کی نامزدگی منظور نہ تھی تو حضور اقدسﷺ نے جب قلم و کاغذ طلب فرمایا عام لوگوں کی مختلف آراء اٹھیں اور ایک ہنگامہ سا ہو گیا یہاں تک کہ پھر اللہ تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ کو اس پر مطلع فرمایا کہ مسلمانوں کا نظامِ حکومت ان کے اپنے انتخاب سے قائم ہو گا، تدبیر کو صرف اس وقت تک چلنا چاہیے جب تک تقدیر کا نقش سامنے نہ آئے۔ دیوبند کے زبدۃ المحدثین حضرت مولانا بدر عالم مدنیؒ لکھتے ہیں: 

اگر کہیں یہ کتاب قیدِ کتابت میں آ جاتی تو ممکن تھا کہ امت کی امت وَّلَا يَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِيۡنَ سے نکل کر اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّكَ‌ کے نیچے داخل ہو جاتی مگر آخر کار تقدیر غالب آئی اور ایسے حالات رونما ہو گئے کہ یہ تحریر وجود میں نہ آ سکی۔ 

آگے مولانا بدر عالم رحمۃاللہ یہ سرخی باندھ کر لکھتے ہیں:

تقدیر انبیاء کرام علیہم السلام کی تمناؤں کا ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی۔

ایک مرتبہ رسول کریمﷺ‏ نے ارادہ کر لیا تھا کہ شبِ قدر کا صاف صاف علم بتا دیا جائے مگر مسجدِ نبوی میں کچھ شور برپا ہو گیا آخر وہ علم بھی اسی طرح مستور رہ گیا یہاں بھی (قرطاس طلب کرنے میں) کچھ قصد مبارک تھا کہ لاؤ (قلم و قرطاس) کوئی ایسی بات بتلا دی جائے کہ آئندہ تفرقہ کا اندیشہ ہی نہ رہے مگر یہاں بھی کچھ شور ہو گیا آخر کار وہ نوشتہ جوں کا توں رہ گیا عالمِ تقدیر و تکوین کا یہ تماشہ بھی قابلِ دید ہے اگر عالمِ تدبیر نے کبھی وحدت و اجتماع کے لیے زور لگایا بھی تو اس وقت پر وہ غیب کے کسی اندرونی ہاتھ نے اس کا سارا کھیل بکھیڑا کر دیا یہاں پہنچ کر قلم بھی خاموش ہو جاتا ہے۔

قلم اینجا رسید و سر بشکست

ترجمہ: قلم اس جگہ پہنچا اور اس نے سر پٹخ دیا۔ (ترجمان السنۃ: جلد، اول صفحہ، 90)

تقدیر اسباب کے پردہ میں نمایاں ہوتی ہے؟

خیر و شر دو متضاد قوتیں ہیں جب ایک ابھرے گی تو دوسری مغلوب ہو جائے گی قدرت خود انہیں زیر و زبر کیا کرتی ہے بندہ اسباب یہاں شکست و فتح کی دھن میں لگا رہتا ہے وہاں یہ منظور ہی نہیں کہ میدان کسی فریق کے بھی یکطرفہ ہاتھ آ جائے اس لیے شکست و فتح کا ڈول باری باری کھنچتا ہی رہتا ہے اور یہ بازی اس وقت تک برابر کھیلی جائے گی جب تک کہ عالمِ اختلاف کو آباد رکھنا ہے۔

وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ الآیۃ

(سورۃ البقرہ: آیت 251)

گویا نظامِ قدرت کی طرح یہ بھی اس کا ایک نظام ہے کہ وہ صوامع و بیع و مساجد کے اختلاف کو بساطِ عالم پر سجائے رکھے اور اگر کوئی طاقت اس کے برخلاف ابھرے تو اس کے مقابلہ کے لیے خود سامنے آ کر ان کو ایسے حدود پر روک دے جس کے بعد کسی کے مٹ جانے کا خطرہ پیدا ہونے لگے اس اختلاف کی آبادی کے لیے دنیا مشغولِ جنگ رہتی ہے دنیا کہتی ہے کہ جنگ اسبابِ موت میں سے ہے قدرت کہتی ہے اسبابِ بقاء یہی ہے ہاں اگر قدرت کا ہاتھ نہ ہوتا تو اب تک ایک پارٹی نے غلبہ پا کر دوسری کو فناء کر دیا ہوتا اور چونکہ عالمِ اختلاف کی فطرت کے خلاف اس کو جینے کا حق نہیں ہے اس لیے اس سے بھی فنا ہونا پڑتا۔

صفحہ 3 از 11