حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود) - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 11

ترجمہ: تو میرے لیے اپنے والد اور اپنے بھائی کو بلا اس لیے کہ میں کوئی تحریر کر دوں مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی امید کرے اپنے لیے اور کہے میں اس کے زیادہ لائق ہوں پھر آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور عام امت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے سوا اور کسی کو اس خلافت پر نہ آنے دیں گے۔

یہ ارادہ وصیت برائے خلافتِ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لیے تھا اس سے شیعہ لوگوں کا دعویٰ کہ حضور اکرمﷺ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو خلیفہ نامزد کرنا چاہتے تھے بالکل باطل ہو جاتا ہے۔ امام نوویؒ (272ھ) اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں: 

وما تدعیه الشیعه من النص علی ولی والوصیۃ الیه فباطل لا اصل له

ترجمہ: اور شیعہ جو اس بات کے مدعی ہیں کہ اس طلبِ قرطاس میں حضرت علیؓ کی خلافت اور انہیں اپنا وصی بنانا مقصود تھا یہ سوچ ہی غلط ہے اور اس کی (اللہ کے دین میں) کوئی اصل نہیں ہے۔

حضور اکرمﷺ نے جب یہ ارادہ فرمایا تھا اور حضرت علی المرتضیٰؓ اپنی ایک مصلحت سے قلم و قرطاس نہ لا سکے اس کے بعد بھی حضورﷺ پانچ دن اور اپنے بسترِ علالت میں رہے اور پھر سفرِ آخرت اختیار فرمایا تو یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ حضورﷺ نے پھر اتنے دن دوبارہ قلم و قرطاس لانے کا حکم کیوں نہ دیا؟ معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ اب اللہ تعالیٰ کے اس تکوینی فیصلے پر مطلع ہو گئے تھے کہ مؤمنین کرام اب حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سوا کسی کو نہ چنیں گے مزید برآں اس حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ مسلمانوں کا نظام حکومتِ شوریٰ سے قائم ہو گا وہ اللہ کی طرف سے منصوس نہیں ہو گا دیکھنے سے محسوس ہو گا اور اس میں مؤمنین آپس میں کبھی اختلاف بھی کر سکیں گے اور اسلام کے اس فطری نظام میں انسانوں کی اپنی سوچ و بچار کی راہیں کبھی مستقل طور پر بند نہ ہو سکیں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی پر مزاجِ عالم قائم کیا ہے کہ اختلاف کی یہ راہیں کبھی تکوینی طور پر بند نہ ہو پائیں قرآنِ کریم میں ہے: 

وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً‌ وَّلَا يَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِيۡنَ ۞ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّكَ‌ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمۡ‌ (سورۃ هود: آیت 118، 119)

ترجمہ: اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی طریقے کا پیرو بنا دیتا، (مگر کسی کو زبردستی کسی دین پر مجبور کرنا حکمت کا تقاضا نہیں ہے، اس لیے انہیں اپنے اختیار سے مختلف طریقے اپنانے کا موقع دیا گیا ہے) اور وہ اب ہمیشہ مختلف راستوں پر ہی رہیں گے۔ البتہ جن پر تمہارا پروردگار رحم فرمائے گا، ان کی بات اور ہے (کہ اللہ انہیں حق پر قائم رکھے گا) اور اسی (امتحان) کے لیے اس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ 

دیوبند کے عمدۃ المفسرین اور زبدۃ المحدثین نے اس پر جو تشریحی نوٹ لکھے ہیں ان کے پڑھنے سے سب مخلصین کا بھلا ہو گا۔

حضرت شیخ الاسلام رحمۃاللہ لکھتے ہیں: 

دنیا کی آفرینش سے غرض یہ ہی ہے کہ حق تعالیٰ کی ہر قسم کی صفاتِ جمالیہ اور قہریہ (جلالیہ) کا ظہور ہو اس لیے مظاہر کا مختلف ہونا ضروری ہے تاکہ ایک جماعت اپنے مالک کی وفاداری و اطاعت دکھا کر رحمت و کرم اور رضوان و غفران کا مظہر بنے جو 

اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّكَ‌ کی مصداق ہے اور دوسری جماعت اپنی بغاوت و غداری سے اس کی صفتِ عدل و انتقام کا مظہر بن کر حبسِ دوام کی سزا بھگتے جس پر خدا کی یہ بات پوری ہو لَاَمۡلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ‏ (سورۃ هود: آیت 119)

ترجمہ: میں جہنم کو جنات اور انسانوں دونوں سے بھر دوں گا۔ اور تکوینی غرض یہ ہے کہ تشریعی مقصد کو اپنے قصد و اختیار سے پورا کرنے والے اور نہ کرنے والے دو گروہ ایسے موجود ہوں جو حق تعالیٰ کی صفاتِ جلالیہ و جمالیہ یا بالفاظِ دیگر لفظ و قہر کے مورد و مظہر بن سکیں۔

درکار خانۂ عشق از کفر ناگزیر است 

دوزخ کرا بسوزد گر بو لہب نہ باشد 

پھر لطف و کرم کے مظاہر بھی اپنے مدارجِ استعداد و عمل کے اعتبار سے مختلف ہوں گے۔

گلہائے رنگا رنگ سے ہے رونق چمن

اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے۔

(تفسیرِ عثمانی: صفحہ، 311 سعودی عرب)

قرآنِ کریم میں ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے کفر کی پانچ جماعتوں اور ایمان کی ایک جماعت کا ذکر کر کے ارشاد فرمایا: 

اِنَّ اللّٰهَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ (سورۃ الحج: آیت 17)

ترجمہ: اللہ قیامت کے دن ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ یقیناً اللہ ہر چیز کا گواہ ہے۔

یعنی تمام مذاہب و فرق کے نزاعات کا عملی اور دو ٹوک فیصلہ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں قیامت کے دن ہو گا سب جدا کر کے اپنے اپنے ٹھکانے پہنچا دیے جائیں گے اللہ ہی جانتا ہے کون کس مقام یا کس سزا کا مستحق ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب آخری فیصلہ قیامت کے دن ہونا ہے تو نظریہ وحدتِ ادیان (کہ سب دین اپنی اپنی جگہ حق ہیں) کسی طرح درست نہیں سمجھا جا سکتا اگر سب ادیان اپنی اپنی جگہ حق تھے تو پھر آخری فیصلہ قیامت کے دن کیا ہو پائے گا۔

اور پھر آگے ایک جگہ فرمایا:

وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيۡهَا اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا‌ (سورۃ الحج: آیت 40)

ترجمہ: اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ (کے شر) کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور کلیسا اور عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، سب مسمار کر دی جاتیں۔   

صفحہ 2 از 11