حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود) - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 11 از 11

اس بات پر غور کرنے سے اور اس کے ساتھ جب اس پر نظر پڑتی ہے کہ طبقہ صحابہؓ میں سوا ابنِ عباسؓ کے اور کوئی متنفس اس واقعہ کو روایت نہیں کرتا عقلِ سلیم اس نتیجہ پر پہنتی ہے کہ یا تو یہ واقعہ سرے سے غلط ہے آیت اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ کی تکذیب کے لیے کسی دشمنِ قرآن نے گھڑا ہے یا خود حضرت ابنِ عباسؓ کو کچھ دھوکا ہو گیا ہے یا رسول اللہﷺ نے محض امتحان کے طور پر تحریر لکھوانے کو فرمایا کہ دیکھیں صحابہ کرامؓ کا قرآنِ کریم پر یقین کیسا ہے، اگر کہیں اکابر صحابہؓ تحریر کو لکھوانے پر مستعد ہو جاتے تو فوراً آپﷺ فرماتے کہ آیت اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ کے بعد بھی تم ایسی تحریر کی احتیاج سمجھتے ہو؟

اس قسم کے امتحانات اپنے صحابہ کرامؓ کے آپﷺ اکثر لیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ اس کے باوجود یہ کہ پانچ دن تک آپﷺ رہے اور کوئی تحریر نہ لکھوائی۔

جواب تیسرے الزام کا یہ ہے کہ "حسبنا کتاب اللہ" کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ حدیثِ رسولﷺ کی ضرورت نہیں ورنہ آیتِ قرآنی حَسۡبُنَا اللّٰهُ کا یہ مطلب ہونا چاہیے کہ رسول کی ضرورت نہیں۔ 

ضمیمہ

صحابہؓ کو لوگوں نے کہا کہ مکہ والے پوری طاقت جمع کر کے تمہارے مقابلے میں آگئے انہوں نے کہا:

"حَسۡبُنَا اللّٰهُ وَنِعۡمَ الۡوَكِيۡلُ"

اللہ کافی ہے اور وہ خوب کارساز ہے۔ 

اَلَّذِيۡنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَـكُمۡ فَاخۡشَوۡهُمۡ فَزَادَهُمۡ اِيۡمَانًا وَّقَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰهُ وَنِعۡمَ الۡوَكِيۡلُ 

(سورۃ آل عمران آیت: 173) 

کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ حَسۡبُنَا اللّٰهُ سے آپ کی مراد یہ تھی کہ ہمیں رسولﷺ کی ضرورت نہیں پھر"حسبنا کتاب اللہ" کا یہ مطلب لینا کہ ہمیں حدیث کی ضرورت نہیں کسی شقی القلب کی سوچ ہو سکتا ہے کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ اس میں قرآنِ کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہو۔

يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اَنۡ تَضِلُّوۡا‌ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ 

(سورۃ النساء آیت: 176) 

ترجمہ: بیان کرتا ہے اللہ تمہارے واسطے کہ کہیں تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

قرآن اپنے عالی مضامین اور عمدہ احکام اس لیے بیان کرتا ہے کہ تم کہیں گمراہ نہ ہو جاؤ یہی لفظ "اَنۡ تَضِلُّوۡا‌" روایت زیرِ بحث میں "لن تضلوا بعدہ" کی صورت میں موجود ہیں تو "حسبنا کتاب اللہ" میں کیا قرآن کی اس یقین دہانی کی طرف اشارہ نہیں؟

حضرت عمرؓ اس امتحان میں کامیاب ہوئے اور کتاب اللہ کے دلائے ہوئے یقین کو فوراً دہرایا "حسبنا کتاب اللہ" کہا اور حضورﷺ نے اس کی تردید نہ فرمائی

اور اگر یہ خلافت کا فیصلہ کرنا تھا تو حضورﷺ نے رضائے الٰہی پر اطلاع پانے کے بعد کہ (اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکرؓ کے سوا کسی کو آگے نہ کریں گے) اس کے لکھنے کا پھر حکم نہ فرمایا 

"حسبنا کتاب اللہ" میں حضرت عمرؓ نے صرف اپنی طرف سے جواب نہ دیا تھا سب مسلمانوں کی طرف سے یہ گذارش کی تھی اس میں آپ سب کے نمایندے تھے۔ ان حاضرین میں حضرت علیؓ بھی موجود تھے۔

خالد محمود عفا اللہ عنہ


صفحہ 11 از 11