عترت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عقیدہ نظریۂ امامت تاریخ کی…

عترت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عقیدہ نظریۂ امامت تاریخ کی نظر میں

  سید تنظیم حسین

صفحہ 3 از 3

اب ہم حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب شیعہ (SHIA) سے ایک اقتباس پیش کرتے ہیں: جس کی حیثیت رقیب کے سرٹیفکیٹ کی سی ہے۔

Paradoxically enough the majority of the

descendents of the prophet belonged to sunnism and continue to do so until to day.

ترجمہ: توقع و امکانات کے بر خلاف اہلِ بیت رسولﷺ کی اکثریت کا تعلق اہلِ سنت و الجماعت سے رہا اور یہی صورت اب تک چلی آتی ہے۔

1: مقدمہ کتاب SHIA صفحہ، 12 یہ کتاب فارسی میں علامہ سید محمد حسین طباطبائی نے لکھی اور ترجمہ بزبانِ انگریزی سید حسین نصر نے کیا ہے اور مقدمہ بھی انہوں نے لکھا ہے۔

اس اقتباس سے بخوبی ظاہر ہے کہ بنو فاطمہ شیعی اصطلاح میں عترتِ رسول یا اہلِ بیتؓ کی اکثریت نظریہ امامت سے خواہ اثناء عشری ہو خواہ اسماعیلی متفق نہ تھی اور ائمہ اہلِ بیتؓ اثناء عشری یا اسماعیلی کو امام تسلیم کرنے والوں میں بنی فاطمہ تو در کنار بنی ہاشم کے بھی چند ہی افراد ہوں گے۔

خلاصہ: تاریخی اعتبار سے:

1: نظریہ امامت کی ابتداء سیاسی تھی۔

2: بنی فاطمہ اہل بیتؓ یا عترتِ رسول کی اکثریت اس نظریہ سے واقف ہی نہ تھی کیوں کہ

3: نظریہ امامت کے لئے شرعی جواز بعد میں دریافت کیا گیا یا پیدا کیا گیا۔

ایسی صورت میں جب کہ عترتِ رسول کی اکثریت نظریہ امامت کی قائل نہ تھی تو جمہور امت کا اس نظریہ سے ابتداء سے لے کر اب تک اختلاف کسی وضاحت کا محتاج نہیں رہتا۔


صفحہ 3 از 3