عترت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عقیدہ نظریۂ امامت تاریخ کی…

عترت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عقیدہ نظریۂ امامت تاریخ کی نظر میں

  سید تنظیم حسین

صفحہ 2 از 3

سیدنا جعفر صادقؒ جن کا نمبر ائمہ مسلمہ اہلِ بیتؓ میں چھٹا ہے کے جانشین سے متعلق ان کی زندگی میں اختلاف ہوا اور سیدنا جعفر صادقؒ کی کی ہوئی نص کے برخلاف ان کی زندگی ہی میں سیدنا اسماعیل کے بیٹے سیدنا محمد بن اسماعیل کو امام تسلیم کر لیا گیا جس سے فرقہ اسماعیلیہ وجود میں آیا اسماعیلیہ کے یہاں بھی ائمہ کی تعداد بعض کے نزدیک پچاس ہے جب کہ بعض کے نزدیک سو ہے اسماعیلیہ کا نظریہ امامت اس رسالہ میں صراحت سے بیان کیا گیا ہے۔

بنی ہاشم کی نظریہ امامت سے بے خبری:

4: سیدنا محمد نفس الزکیہ:

بنو امیہ کی خلافت کے آخری دور میں علوی اور عباسی ایک جگہ اکٹھے ہوئے اس مجلس کا ذکر ڈاکٹر زاہد علی نے الفخری کے حوالہ سے اس طرح کیا ہے:

بنو امیہ کے آخری زمانہ میں علویوں اور عباسیوں کی ایک مجلس منعقد ہوئی جس میں علویوں کی طرف سے سیدنا جعفر صادقؒ اور عبداللہ المحض بن حسن بن حسن بن علیؓ اور عبداللہ المحض کے دونوں فرزند محمد نفس زکیہ اور ابراہیم قتیل یا خمر اور عباسیوں کی جانب سے سفاح عباسی خلیفہ اول اور اس کا بھائی منصور وغیرہ شریک ہوئے ان لوگوں نے بنو امیہ کے زمانے میں جو مظالم ان پر گزرے ان کا تذکرہ کیا اور یہ تجویز کی کہ اب ہمیں اپنا حق حاصل کرنا چاہیئے انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ اب بنی امیہ کمزور ہو گئے ہیں اور لوگ ان کی طرف زیادہ مائل نہیں اس لیے انہوں نے یہ رائے پیش کی کہ ایک خفیہ دعوت قائم کی جائے اور اس کے صدر نفس زکیہ قرار دیے جائیں کیونکہ وہ علم و فضل اور شرف کے لحاظ سے سب سے اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں۔

 (تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ اول، صفحہ، 57)

امیر علی نے بھی اس واقعہ کو بیان کیا ہے

(A Short History of Saracens :تاریخِ عرب 

 صفحہ، 220)

اور لکھا ہے کہ اس میں سیدنا جعفر صادقؒ شریک نہ تھے لیکن اس میں بنو ہاشم کے اکثریت موجود تھی اور محمد النفس الزکیہ کو اپنے والد بزرگوار کی موجودگی میں اتقا اور پرہیزگاری کی وجہ سے متفقہ طور پر خلیفہ تسلیم کیا گیا حتیٰ کہ ابو جعفر منصور نے جو بعد میں خلیفہ ہوا بھی ان کے ہاتھ پر بیعت کی واضح رہے کہ اس روایت میں خلیفہ کا لفظ استعمال ہوا ہے امام کا نہیں اور حضرت محمد نفس الزکیہ۔ 

(Shorter Encyclopaedia of Islam مقالہ Alids علوی)

اور ان کے بھائی حضرت ابراہیم علیہ السلام قتیل باخمریٰ تعلق حسنی سادات سے ہے ان دونوں نے 145ھ میں عباسی خلیفہ ابوجعفر منصور کے عہد میں خروج کیا اور شہید ہوئے)

بنی فاطمہ کے عاشقان پاک طینت:

5: بنو فاطمہ میں ایسے افراد کی تعداد اٹھارہ ہے۔

(Shorter Encyclopaedia of Islam مقالہ Alaids علوی)

جنہوں نے اموی عباسی دورِ خلافت میں خروج کیا اور شہید ہوئے مختصراً ان ائمہ کی جنہیں مسلمہ (recoquized) کہا جاتا ہے ان کے سگے بھائیوں اور بیٹوں تک نے بھی اس حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جو امامیہ اثناء عشر) یا اسماعیلیہ کے نظریہ امامت کی رو سے ان کو حاصل تھی انہوں نے رسول اللہﷺ کی ان احادیث کو جو امامیہ اثناء عشریہ یا اسماعیلیہ اپنے نظریہ کی تائید میں پیش کرتے ہیں کیوں در خور اعتناء نہ سمجھا؟ یہ ایک اہم سوال ہے یہ سب حضرات متقی اور پرہیزگار تھے لہٰذا بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں پہلا تو یہی کہ کیا ان حضرات کو اس حدیث کا علم نہ تھا جس میں کہا جاتا ہے کہ رسول پاکﷺ نے بارہ ائمہ کے نام تک بتلا دیئے ہیں؟ دوسرا یہ کہ اسماعیلیہ جو ابتدائی چھ اماموں پر متفق ہیں ان بارہ ائمہ کے نام جاننے کے باوجود ساتویں امام پر کیوں علیحدہ ہو گئے؟ کیا ان کی علیحدگی امام سے انحراف نہیں؟ تیسرا یہ کہ کیا اس اجتماع کے شرکاء کو جو بنی امیہ کے آخری دورِ خلافت میں ہوا اس حدیث کا علم نہ تھا جس میں کہا جاتا ہے کہ رسول پاکﷺ نے بارہ ائمہ کے نام تک بتلائے تھے؟ کیا اس اجتماع میں ایک بھی ایسا نہ تھا جو اس طرف توجہ دلاتا؟ جب کہ اس میں حضرت محمد نفس زکیہؒ خود موجود تھے جن کی پرہیزگاری کا اعتراف امیر علی کے بقول سب کو تھا اور اسی وجہ سے ان کا لقب نفس الذکیہ ہو گیا تھا ان سے پہلے سیدنا زید شہیدؒ کے علم و فضل کا اعتراف بھی سب کو تھا یہی صورت سیدنا محمد بن الحنفیہؒ کی بھی تھی۔

یہ گو مگو کی صورتِ حال صرف ایک ہی سمت کی طرف لے جاتی ہے اور اس سے پہلے کہ ہم اس کی وضاحت کریں وٹی کیوٹس کا بیان قابلِ توجہ ہے۔ 1: فاطمیوں کا تصور ریاست از VAIKIOTIS صفحہ، 1،2 The Fatimid Theory of State)

1: ابتداء میں شیعہ کا لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیوی قیادت کے لئے جدوجہد میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اولاد سے سیاسی وفاداری کے لئے استعمال ہوا۔

2: شیعیت دراصل سیدنا علیؓ بن ابی طالب کی پارٹی کا نام ہے نہ کہ کوئی ایسا مجموعہ جو حضرت علیؓ نے بہ حیثیت ایک دینی معلم کے وضع کیا ہو۔

3: تشیع سے مراد سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ان کے حصول مقصد میں بلا واسطہ یا بالواسطہ تعاون کا نام ہے۔

القلقشیری کی شیعہ کی تعریف بیان کرنے کے بعد وٹی کیوٹس اس طرح لکھتا ہے:

4: ابتداء میں تشیع ایک سیاسی جدوجہد تھی۔

5: شیعہ بہ حیثیت ایک بڑے فرقہ کے پہلے نمودار ہو گئے۔

6: ان کے عقائد کے لئے موضوعات اور الہیات سے جو از بعد میں دریافت کیا گیا۔

وٹی کیوٹس کی تحقیق کی تصدیق جو ہن نارمن ہولسٹر (1 .THE (SHIA) OF INDIA: P٫80)

 کے قلم سے سنیئے:

NO BETTER EVIDENCE IS NEEDED TO SHOW THE LATE ORIGIN OF TRADITIONS WHICH REPRESENT THE PROPHET OR ALI AS RECIT-ING THE NAMES OF TWELVE IMAMS WITH DE TAILS OF THEIR LIVES THAN IS AFFORDED BY THIS RECURRING PROCESS OF SUBDIVID-ING, BECAUSE OF UNCERTAINITY, AS TO HOW TO PROCEED OR WHOM TO FOLLOW.

ترجمہ: ان روایات کے جن میں نبی کریمﷺ یا سیدنا علیؓ سے بارہ اماموں کے نام معہ تفصیلات زندگی نقل کئے گئے ہیں بعد میں وضع شدہ ہونے کے لئے اس غیر یقینی کیفیت سے بہتر کسی ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی جو امامیہ میں مسلسل تفریق در تفریق پر منتج ہوئی کیوں کہ اس کیفیت میں نہ تو راہِ عمل کا تعین ہو سکا اور نہ یہ کہ کسی کی پیروی کی جائے۔

صفحہ 2 از 3