عترت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عقیدہ نظریۂ امامت تاریخ کی…

عترت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عقیدہ نظریۂ امامت تاریخ کی نظر میں

  سید تنظیم حسین

صفحہ 1 از 3

عقیدہ امامت کے بنیادی نکات:

1: نبی کے بعد ان کے جانشین و خلیفہ امام بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء و مرسلین کی طرح جن کا انتخاب امت یا قوم نہیں کرتی مقرر اور نامزد ہوتے ہیں۔

2: وہ نبی ہی کی طرح معصوم ہوتے ہیں۔

3۔ دنیا کبھی امام سے خالی نہیں ہوتی خواہ وہ ظاہر ہو یا غائب۔

4: انبیاء و مرسلین ہی کی طرح ان کی اطاعت امت پر فرض ہوتی ہے۔

5: ان کا درجہ رسول اللہﷺ کے برابر اور دوسرے سب نبیوں سے بالاتر ہوتا ہے۔

6: وہی امت کے دینی و دنیوی سربراہ اور حاکم ہوتے ہیں۔

7: امت پر بلکہ ساری دنیا پر حکومت کرنا ان کا اور صرف ان کا حق ہے۔

8: ان کے علاوہ جو بھی حکومت کرے وہ غاصب و ظالم اور طاغوت ہے۔

9: امامت بغیر نص کے قائم نہیں ہوتی۔

10: امام وقت کا جاننا واجب ہے۔

11: امام وقت حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر سکتا ہے۔

12: نبی کریمﷺ نے اپنے بعد مامور ہونے والے بارہ ائمہ کے نام بھی بتلا دیے تھے۔ (اثناء عشری عقیدہ)

امامیہ یا اہل تشیع کی ابتدائی کیفیت:

زمانہ حال کا مغربی مصنف VATIKIOTIS لکھتا ہے:

کربلا میں حضرت حسینؓ کی شہادت کے فوراً بعد شیعوں میں خلافت کے حصول کے لیے بہت سے گروہ پیدا ہو گئے (فاطمیوں کا تصور ریاست: ازوتی کیوٹس: صفحہ، 5)

گزشتہ صدی کامعروف محقق ایم سلوسٹر ڈی ساسی لکھتا ہے:

شیعانِ علی بہت جلد گروہوں میں بٹ گئے اگرچہ یہ سب محبانِ اہلِ بیتؓ تھے لیکن ان میں نہ تو اس عالی نسب کے حقوق امارت پر اتفاق تھا اور نہ اس پر متفق تھے کہ حق امارت کون سی شاخ کو منتقل ہوا ہے۔ (فدائیوں کی تاریخ فان ہمیر: صفحہ، 291)

برصغیر کے مشہور مؤرخ سید امیر علی لکھتے ہیں:

 توقع تو یہ تھی کہ ظلم ستم شیعانِ علی کو متحد رکھ سکے گا لیکن اگرچہ سب اس بات پر متفق تھے کہ خلافت امارت اہلِ بیتؓ کا حق ہے ان میں اکثر نے کسی منصوبہ یا جانب داری کے تحت مسلمہ ائمہ کے علاوہ دیگر افراد سے وابستگی اختیار کر لی

(The Spirit of Islam: صفحہ، 320)

(ڈی ساسی کا شاخ سے مقصد حسنی و حسینی سادات سے ہے جن میں ابتداء ہی میں امامت سے متعلق اختلاف رونما ہو چکا تھا جب کہ امیر علی کے دیگر افراد میں جملہ بنی ہاشم آ جاتے ہیں اور ان کے مسلمہ ائمہ وہی ہیں جن کو آج کل ائمہ اہلِ بیتؓ کہا جاتا ہے۔

امامیہ میں اتحاد کا فقدان:

ہمیں ان تینوں بیانات میں ایک بات متفق علیہ ملتی ہے وہ یہ کہ سیدنا حسینؓ کی شہادت کے بعد شیعانِ علی متحد نہ رہ سکے تاریخ تو یہ بھی بتاتی ہے کہ صرف شیعانِ علی ہی نہیں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی جملہ اولاد بھی امامت کے مسئلہ پر متحد نہ تھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنی ہاشم کا ہر فرد امامت کا امیدوار تھا ہم ان میں سے چند اہم ترین حضرات کے اختلافات کا ذکر کریں گے:

امامیہ میں پہلا اہم اختلاف:

1: حضرت محمد بن الحفیہ رحمۃ اللہ

اگرچہ حضرت حسینؓ کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے حضرت علی السجاد زین العابدینؒ کو امام تسلیم کر لیا گیا تھا لیکن کیسانیہ نے حضرت محمد بن الحفیہؒ کو امامت کے لیے آگے بڑھایا۔

(Shorter Encyclopaedia of Islam مقالہ کسانیہ)

کہا جاتا ہے کہ وہ اس کے لیے تیار نہ تھے مگر ان کے انتقال 81ھ، 700ء کے بعد ان کے بیٹے امامت پر قائم رہے ان کا نام ابوہاشم عبداللہ تھا ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ عالم، فاضل، فصیح و بلیغ تھے 

(تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، اول صفحہ، 47)

اور اپنے والد بزرگوار حضرت محمد بن الحفیہؒ کے باطنی علوم کے وارث تھےاس سلسلہ میں یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ حضرت محمد بن الحفیہؒ کے متعلق ایک گروہ کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ ان کو اپنے والد حضرت علیؓ سے براہِ راست امامت ملی تھی کیونکہ سیدنا علیؓ نے جنگِ جمل میں ان کو علم دیا تھا جب کہ ایک گروہ کہتا ہے کہ انہوں نے حضرات حسنینؓ سے جملہ علومِ باطنی حاصل کیے تھے۔

(Shorter Encyclopaedia of Islam مقالہ کسانیہ)

ان کے متعلق کیسانیہ کے شاعر التکثیر (تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 274) متوفی 105ھ، 723ء نے بہت دلچسپ اعتقادات کا اظہار کیا ہے: اردو ترجمہ:

حق کے ولی چار ہیں برابر رتبہ میں

علیؓ اور تین ان کی اولاد میں سے

مندرجہ بالا سطور سے ہمارا مقصد یہ بتلانا ہے کہ پہلی صدی ہجری کے آخر میں ائمہ کی تعداد کے متعلق یہ خیال تھا کہ ائمہ صرف چار ہیں یعنی حضرت علیؓ، حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ اور محمد بن الحفیہؒ۔

امامیہ میں دوسرا اختلاف:

2: سیدنا زید شہید بن علی السجاد زین العابدینؒ

حضرت زید نے اپنے بھائی سیدنا محمد الباقرؒ کو اہلِ بیتؓ کے پانچویں امام تسلیم کرنے کی بجائے خود امامت کا دعویٰ کیا ان کے اتباع میں زیدیہ وجود میں آئے یعنی وہ زیدیہ امامت کے سلسلہ کے پانچویں امام ہیں سیدنا زید شہید نے اپنا نظریہ امامت پیش کیا ہے

(Shorter Encyclopaedia of Islam مقالہ زیدیہ) 

انہوں نے فقہ پر بھی ایک کتاب المجموع لکھی ان کے نظریہ امامت کے اہم نکات یہ ہیں:

1: امام کا بنی فاطمہ میں سے ہونا ضروری ہے۔

2: امام نہ مامور من اللہ ہوتا ہے اور نہ معصوم۔

3: فاضل کی موجودگی میں مفضول کی امامت جائز ہے۔

(Shorter Encyclopaedia of Islam مقالہ زیدیہ)

4: امام ایسا شخص ہونا چاہیئے جو بزور اپنا حق لے سکے۔

5: امام کا انتخاب بنی فاطمہ میں سے شوریٰ کے ذمہ ہے فرقہ جارودیہ گویا زیدیہ کے یہاں اماموں کی تعداد کے تعین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا صرف ان کے نظریہ امامت کو ہی قابلِ عمل تسلیم کیا گیا ہے۔

(Shorter Encyclopaedia of Islam مقالہ زیدیہ)

واضح رہے کہ سیدنا زید شہید نے اموی دورِ خلافت میں خروج کیا اور شہید ہوئے ہم یہاں تفصیلات کو غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔

امامیہ میں تیسرا اہم اختلاف:

3: سیدنا اسماعیل بن جعفر الصادقؒ:

صفحہ 1 از 3