سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت، نام، لقب اور بچوں کے نام…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت، نام، لقب اور بچوں کے نام رکھنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ کار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

2۔ نبیوں اور رسولوں کے ناموں پر نام رکھنا، اس لیے وہ بنو آدم کے سردار تھے، ان کے اعمال واخلاق سب سے عمدہ اور اچھے تھے، ان کے ناموں پر نام رکھنا ان کی اور ان کے اوصاف و احوال کی یاد دلاتا ہے، نیز ان کے ناموں پر نام رکھنے کے جواز پر علما کا اتفاق ہے۔ اور ہمارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک اسوہ بھی ہے، اس لیے کہ آپ نے اپنے بیٹے کا نام ابراہیم رکھا تھا۔ نبیوں کے ناموں میں سب سے افضل ہمارے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے۔

(تسمیۃ المولود: صفحہ 35، 36) 

3۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور نیک و صالح مسلمانوں کے ناموں پر نام رکھنا، اس سلسلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بڑی باریک بیں نگاہ تھی، چنانچہ صحابی رسول زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نے اپنے نو بیٹوں کا نام شہدائے بدر رضی اللہ عنہم کے ناموں پر رکھا تھا، اور وہ عبداللہ، منذر، عروہ، حمزہ، جعفر، مصعب، عبیدہ اور خالد ہیں۔

4۔مطلوبہ شروط و آداب کے ساتھ پھر ایسے ناموں کی باری آتی ہے جو انسان کے سچے اوصاف ہوں، ان شروط و آداب کے پائے جانے پر مولود کا نام شرعی دائرے میں آجاتا ہے۔ ان شروط میں سے ہے کہ نام لغت و شریعت کی رو سے لفظاً و معنیٰ اچھا ہو، اس شرط پر وہ نام خارج ہوجاتا ہے جو حرام اور ناپسندیدہ ہو لفظ کے اعتبار سے، یا معنیٰ کے اعتبار، یا دونوں اعتبار سے، اگرچہ وہ عربی قواعد کی رو سے صحیح ہو، جیسے ایسا نام رکھنا جس میں مذمت اور گالی گلوچ کا معنیٰ ہو، بلکہ ایسا نام رکھا جائے جو سچائی اور حقانیت کے معنی پر دلالت کرے

(تسمیۃ المولود: صفحہ39)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔

درج ذیل صورتوں میں سے ہر صورت میں مولود کے نام رکھنے کو شریعت حرام قرار دیتی ہے:

1۔ مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ ایسا ہر نام حرام ہے جس میں ’’عبد‘‘ کو غیر اللہ کی طرف مضاف کیا گیا ہو، جیسے عبدالرسول، عبدالنبی، عبدالحسین، عبدالامیر (مراد امیر المومنین علی بن ابوطالب ہیں)، عبدالصاحب وغیرہ، بنوآدم جس بھی مرتبے کو پہنچ جائیں وہ اللہ کے محتاج و خاکسار بندے ہی ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ کی ذات ہی تنہا عبادت کی مستحق ہے، اس لیے غیر اللہ کی جانب ’’عبد‘‘ کی اضافت کے ساتھ نام رکھنا درست نہیں ہے۔

2۔ کافروں کے خاص عجمی ناموں پر نام رکھنا، اپنے دین سے مطمئن مسلمان ایسے ناموں سے دور رہتا، ان

(تسمیۃ المولود: صفحہ39)

سے نفرت کرتا اور ان کے کنارے بھی نہیں جاتا ہے، دور حاضر کا یہ بہت بڑا فتنہ ہے کہ یورپ و امریکہ وغیرہ کے کافر ناموں کو منتخب کیا جاتا ہے، یہ بہت بڑا گناہ اور دین بیزاری کی اہم دلیل ہے جیسے پطرس، جرجس، جارج، ڈیانا وغیرہ۔

ناموں کے بارے میں کافروں کی یہ تقلید صرف خواہش نفس اور کند ذہنی کا نتیجہ ہو تو وہ گناہ کبیرہ ہے۔

(تسمیۃ المولود: بکر بن عبداللہ ابوزید: صفحہ 47)

شیخ بکر بن عبداللہ ابوزید نے اپنی کتاب ’’تسمیۃ المولود‘‘ میں اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ جسے مزید معلومات چاہیے وہ مذکورہ کتاب کی طرف رجوع کرے۔

(ایضًا)


صفحہ 2 از 2