غیر مسلم اقوام کی مذہبی آزادی - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

غیر مسلم اقوام کی مذہبی آزادی


صفحہ 3 از 3

اب مسجدیں مسلمانوں کا شعار بن گئیں، جہاں مسجد نظر آئے یا اذان ہو، مسلمانوں کو حکم ہوا کہ وہاں کسی کو قتل نہیں کرنا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسجدیں ہیں ہی مسلمانوں کی، کسی اور قوم کی عبادت گاہ نہیں بن سکتیں، اگر ایسا ہو سکتا تو حضور اقدسﷺ مسجد دیکھنے سے ہی چڑھائی کو روک دینے کا حکم نا فرماتے اذا رايتم مسجدا او سمعتم اذانا فلا تقتلوا احدا

اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد اور اذان مسلمانوں کے شعائر ہیں، کوئی غیر مسلم قوم ان کو اپنا نہیں کہہ سکتی۔ 

حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اس حدیث پر لکھتے ہیں کہ مسجد شعائر اسلام میں سے ہے، چنانچہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب تم کسی مسجد کو دیکھو، یا کسی مؤذن کو اذان کہتے سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔ 

آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ: کسی شخص کو مسجد میں عام آتے جاتے دیکھو تو اُس کے مسلمان ہونے کی شہادت دو۔ 

آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جب تم کسی شخص کو مسجد میں عام آتا جاتا دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں اِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ اللّٰہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مساجد اسلام کے امتیازی نشان اور مسلمانوں کے شعائر ہیں، کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ مسجد کہلائے تو مسلمان کس طرح وہاں آنے جانے والوں کو مسلمان کہہ سکے گا؟ قادیانیوں (اور شیعوں) کو بھی اگر مسجد بنانے کی اجازت ہو تو اس صورت میں اس طرح کی احادیث کو کیا معطل ہو کر نہ رہ جائیں گی؟

یہ بات صحیح ہے کہ مسجدیں ملتِ اسلامیہ کا امتیازی نشان ہیں، جب تک کسی کا مسلمان ہونا ثابت نہ ہو، اس کو مسجد میں کوئی حق ثابت نہیں ہوتا۔


صفحہ 3 از 3