غیر مسلم اقوام کی مذہبی آزادی - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

غیر مسلم اقوام کی مذہبی آزادی


صفحہ 2 از 3

بس ان شعائر میں کسی ایسے طبقے کی مداخلت جو کچھ بنیادی عقائد میں مسلمانوں سے منحرف ہو چکے ہوں اور مسلم معاشرے سے وہ باہر بھی کیے گئے ہوں۔ مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں مداخلت ہو گی کہ جو لوگ ان میں سے نہیں ہیں، خوامخواہ ان میں گھس رہے ہیں، یہ شعائر مکانی بھی ہیں اور عملی بھی۔ پھر کچھ شعائر مرتبی بھی ہیں۔ اور اُمت کی پہچان اور تشخص میں ان سب کا دخل ہے، انہی سے اُمت قائم رہتا ہے اور مسلمان دوسری قوموں میں انہی نشانات سے پہچانے جاتے ہیں۔ 

پس اگر کوئی غیر مسلم اقلیت اپنی عبادت کے بلاوے کو اذان کہنے لگے اور اس کے الفاظ بھی وہی مسلمانوں جیسے ہوں، اور وہ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہے تو اسے اس غیر مسلم اقلیت کی مذہبی آزادی نہ کہا جائے گا، بلکہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کی بربادی سمجھا جائے گا، کہ جن شعائر سے اس اُمت کا تشخص قائم تھا۔ اب اس میں التباس ڈال دیا گیا ہے اور اُمتِ مسلمہ کے اس تشخص کو ضائع کر دیا گیا ہے کہ ان امتیازات میں وہ لوگ بھی شریک ہونے لگیں ہیں جو یقیناً ان میں سے نہیں ہیں۔

مسجد اور آذان:

مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے، اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ کے ہاں پسندیدہ دِین ہمیشہ سے اسلام ہی رہا ہے، اور سب انبیاء کرام علیہم السلام اپنے اپنے وقت میں مسلم ہی تھے، سب کا دِین ایک رہا، اور سب اپنے اپنے وقت میں مسلمان تھے، پیغمبروں میں شریعتیں تو بدلتی رہی ہیں، لیکن دین سب کا ہمیشہ ایک رہا ہے۔ 

آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ: سب انبیاء آپس میں اُن بھائیوں کی طرح ہیں جو مختلف ماؤں سے ہوں اور باپ ایک ہوں، دِین سب انبیاء کرام علیہم السلام کا ایک رہا ہے۔ 

اس دِین کا نام اسلام ہے، اور ہر پیغمبر نے اسی کی طرف دعوت دی ہے۔ اور قرآن کریم میں پہلے صحیح العقیدہ انسانوں کے لیے لفظ مسلم عام ملتا ہے۔ 

حضرت ابراہیمؑ کی بنائی ہوئی مسجد المسجد الحرام اور حضرت سلیمانؑ کی بنائی ہوئی مسجد المسجد الاقصی کہلائی۔ معلوم ہوا کہ مسجد ابتدا ہی سے مسلمانوں کی بنائی ہوئی عبادت گاہ کا نام رہا ہے۔ 

مشرکین نے اپنے دورِ اقتدار میں خانۂ کعبہ میں بت رکھ دیئے ،مگر یہ مسجد چونکہ مسلمانوں کی بنائی ہوئی تھی، اس لئے اُن بتوں کے باوجود اس سے مسجد کا نام جدا نہ ہو سکا۔ ایسا کرنا حدیث شریف الاسلام يعلو ولا يعلى عليه کے خلاف تھا، سو نام مسجد کا ہی غالب رہا۔ اسے مشرکین کی عبادت گاہ کا نام نہ دیا جا سکا۔ مسجد ابتدائی طور پر مسجد ہو تو مسجدیت کا حکم اس سے قیامت تک نہیں چھین سکتا۔ اسلام کی نسبت اور کفر کی نسبت کا آپس میں ٹکراؤ ہو تو اسلام کی نسبت ہی غالب رہے گی۔

غیر مسلم کی بنائی ہوئی عبادت گاہ کا نام کبھی مسجد نہیں ہوا۔ یہ شعائر اسلام میں سے ہے اور یہ مسلمانوں کے عبادت گاہ کا نام ہی ہو سکتا ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ نے قرآن کریم میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ کچھ نوجوان تھے، جنہوں نے مشرک حکومت سے بچ کر ایک غار میں پناہ لی تھی، اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ نے اُن پر ایک طویل نیند وارد کر دی، جب یہ اٹھے تو نظام حکومت بدل چکا تھا، اب حکومت عیسائیوں کی آ چکی تھی، یہ اُس وقت کے مسلمان تھے، مشرکین ماتحت تھے اور اُن کا زور ٹوٹا ہوا تھا۔ اصحاب کہف کی خبر پھیلی تو لوگوں نے چاہا کہ اس جگہ ان کی کوئی یادگار قائم کریں۔ قرآن کریم میں ہے اِذۡ يَتَـنَازَعُوۡنَ بَيۡنَهُمۡ اَمۡرَهُمۡ‌ فَقَالُوۡا ابۡنُوۡا عَلَيۡهِمۡ بُنۡيَانًـا ‌ ؕ رَبُّهُمۡ اَعۡلَمُ بِهِمۡ‌ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰٓى اَمۡرِهِمۡ لَـنَـتَّخِذَنَّ عَلَيۡهِمۡ مَّسۡجِدًا جب وہ ان کے معاملے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے وہ کہنے لگے بناؤ اُن پر ایک عمارت، ان کا رب ہی ان کو بہتر جانتا ہے، وہ لوگ جو غالب آ چکے تھے، ان کو کہنے لگے ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے۔ 

مشرکین کا یہ کہنا کہ چونکہ وہ ہماری قوم میں سے تھے، اس لئے ہم ان پر اپنے طریقے سے کوئی عمارت بنائیں گے، اصولاً درست نہ تھا، کیونکہ یہ موحد تھے، اور عیسائیوں کا (جو اُس وقت کے مسلمان تھے) کہنا کہ ہم ان پر مسجد بنائیں گے کیونکہ وہ اعتقاداً توحید پرست تھے، بے شک درست تھا۔

اس سے معلوم ہوا کہ مسجد ہمیشہ سے مسلمانوں کی ہی عبادت گاہ کا نام رہا ہے، اور اُس وقت کے مسلمان جو حضرت عیسیٰؑ کی اُمت تھے۔ وہاں مسجد ہی بنانا چاہتے تھے۔ 

حضرت عبداللّٰہ بن عباسؓ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ: مسلمانوں نے کہا: ہم ان پر مسجد بنائیں گے، جہاں لوگ نماز پڑھیں گے، کیونکہ یہ لوگ ہمارے دِین پر تھے (موحد تھے)، اور مشرکین نے کہا: ہم ان پر یادگار بنائیں گے، یہ ہماری قوم سے تھے۔

تفسیر فتح المنان میں ہے کہ: ہم ان پر مسجد بنائیں گے، جن میں مسلمان نماز پڑھیں گے، اور ان کے حالات سے سبق لیں گے، اور مسجد بنانے کا ذکر پتہ دیتا ہے کہ یہ لوگ جو اب ان پر غالب آ چکے تھے وہ مسلمان تھے۔ 

اسلام اپنی کامل ترین شکل میں حضور اکرمﷺ کے عہد میں جلوہ گر ہوا، اب مسجد انہی کی عبادت گاہ کا نام ٹھہرا، پچھلی اُمتیں جو گو اپنے اپنے وقت میں اہلِ مساجد میں سے تھیں، اس آخری رسالت پر اگر ایمان نہ لائیں تو اب اہلِ صومعہ یا اہلِ بیعہ بن گئیں، اب ان کی عبادت گاہوں کا نام مساجد نہ ہو گا۔ مساجد صرف مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو ہی کہا جائے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ نے قرآن کریم میں یہ فرق قائم فرما دیا، اب جائز نہ رہا کہ اس کے بعد کسی اور قوم کی عبادت گاہ کو مسجد کہا جائے۔ اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ نے فرمایا: 

:وَلَوۡلَا دَ فۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَـعۡضٍ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيۡهَا اسۡمُ اللّٰهِ: اور اگر نہ روکتا اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ بعض لوگوں کو بعض سے، تو ڈھا دیئے جاتے تکئے اور گرجے اور عبادت خانے اور مسجدیں۔

صفحہ 2 از 3