غیر مسلم اقوام کی مذہبی آزادی - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

غیر مسلم اقوام کی مذہبی آزادی


صفحہ 1 از 3

اسلام اپنی سلطنت میں بسنے والی غیر مسلم اقوام کو پوری مذہبی آزادی دیتا ہے، لیکن اس میں یہ بات اصولی ہے کہ ان کی یہ آزادی سلطنت اسلامی کا مروت و احسان ہے، جو اسلام کا انسانی چارٹر ہے۔ ان انسانی حقوق پر ان کی مذہبی آزادی مرتب کی گئی ہے۔ سو اگر کوئی غیر مسلم قوم، مذہبی آزادی میں اپنی انسانی قدروں کو کھو دے تو پھر ان کی مذہبی آزادی پابندیوں کی جکڑ میں آ جاتی ہے۔

مسلمان دارالحرب میں ہوں تو انہیں جو مذہبی مراعات حاصل ہوں گی، وہ اس غیر اسلامی حکومت کا احسان اور ان کا ایک اخلاقی ضابطۂ کار ہو گا۔ اسی طرح جو غیر مسلم اقوام اسلامی سلطنت میں رہتی ہیں، انہیں جو رعایتیں دی جائیں اور ان سے جو عہد و پیمان باندھے جائیں، وہ دارالاسلام کے مسلمانوں کا مروت و احسان ہو گا، اسے اُن کا کوئی آئینی حق نہ کہیں گے۔ 

اسی طرح انہیں کسی ایسے کلیدی عہدے پر لے آنا کہ خود مسلمان اُن کے دست نگر ہو جائیں، درست نہیں ہو گا۔ اس کے لئے قرآن کریم کی اس آیت سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے وَلَنۡ يَّجۡعَلَ اللّٰهُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ سَبِيۡلًا اور ہرگز نہ دے گا اللّٰہ، کافروں کو مسلمانوں پر غلبے کی راہ وقال تعالٰى  وَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ وَلِرَسُوۡلِهٖ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ اور غلبہ تو اللّٰہ تعالیٰ، اس کے رسولﷺ اور مؤمنوں کے لئے ہے۔

کافروں میں سب سے زیادہ مسلمانوں کے قریب اہلِ کتاب ہیں، ان کے بارے میں بھی فرمایا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ صلح سے رہیں تو ماتحت ہو کر رہیں، برابر کی حیثیت سے نہیں۔ ارشاد خداوندی ہیں: 

:قَاتِلُوا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوۡلُهٗ وَلَا يَدِيۡنُوۡنَ دِيۡنَ الۡحَـقِّ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡـكِتٰبَ حَتّٰى يُعۡطُوا الۡجِزۡيَةَ عَنۡ يَّدٍ وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ: 

ترجمہ: وہ اہلِ کتاب جو نہ اللّٰہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ یوم آخرت پر اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے، اور نہ دین حق کو اپنا دین مانتے ہیں ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں (یعنی جب محکوم رعیت بن جائیں تو اُن سے جہاد کرنا ترک کر دو)

حدیث شریف میں ہے: الاسلام يعلو ولا يعلى عليه: اسلام اوپر رہتا ہے، اسے نیچے نہیں رکھا جا سکتا۔ امام نوویؒ اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اس سے مراد اسلام کا دوسرے مذاہب سے بڑھ کر رہنا ہے۔ 

اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کے مذہبی حقوق کا تحفظ اَزبس ضروری ہے، انہیں ان چار عنوان سے بیان کیا جا سکتا ہے: 

وحدت امت کا تحفظ: امت کی سالمیت اور اس کا استقلال ہر صورت میں قائم رکھنا ضروری ہے۔

شعائر امت کا تحفظ: امت کے عملی زندگی اور اس زندگی کے محرکات ہر صورت میں قائم رہنے چاہیں۔ 

افراد امت کا تحفظ: امت کے ایک ایک فرد کی ہر دینی اور دنیوی فتنے سے حفاظت کی جانی چاہیے۔ 

حوزہ امت کا تحفظ: امت کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی پوری حفاظت کی جائے۔

وحدتِ اُمت کا تحفظ:

اُمت وحدت پیغمبرﷺ کے گرد قائم ہوتی ہے، وحدتِ اُمت کا سنگِ بنیاد اور مرکز و محور پیغمبر کی شخصیت ہوتی ہے، اور امت کے افراد جب تک پیغمبرﷺ کی شخصیت اور پیغمبرﷺ کے لائے ہوئے دین کی بنیادی عقائد میں جنہیں ضروریاتِ دین کہا جاتا ہے، متحد رہیں تو وحدتِ اُمت قائم رہتی ہے۔ پیغمبرﷺ جس طرح لوگوں تک اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ کا پیغام پہنچاتے ہیں، اسی طرح اپنے ماننے والوں کی ایک امت بھی قائم کرتے ہیں، جب تک اس امت کی وحدت قائم رہے، اس پیغمبرﷺ کی رسالت کا اثر باقی رہتا ہے، اور جب وحدتِ اُمت قائم نہ رہے تو رسالت کا اثر جاتا رہتا ہے۔ 

حضور اقدسﷺ نے بھی ایک امت بنائی اور ان کے دل اپنے فیضِ محبت سے پاک کئے اور یہ سلسلۂ اُمت اب تک قائم اور باقی ہے، اور اسی کو امتِ مسلمہ کہا جاتا ہے۔ ضروریاتِ دین میں سب مسلمان متحد اور اُمت واحدہ ہیں۔ حضور اکرمﷺ کے بعد نبی کوئی نہیں، اور اس امت کے بعد کوئی اُمت نہیں۔ 

اور اب اگر اس اُمت میں حضور اقدسﷺ کو آخری نبی ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں برابر کے شریک ہوں، وہ ایک دوسرے کو علی الاعلان اسلام کے بنیادی عقائد سے منحرف بھی قرار دیں، اور پھر ایک اُمت کہلائیں تو ظاہر ہے کہ اس التباس سے اُمت کا تشخص ختم ہو جائے گا۔ اُمت اپنے مخصوص معتقدات سے ہی پہچانی جاتی ہے، جب انہیں میں التباس ہو گیا تو اُمت کہاں رہی؟ سو اَفرادِ اُمت کو حق پہنچتا ہے کہ جو لوگ ان سے بنیادی عقائد میں منحرف ہو جائیں، انہیں اس اُمت میں شامل نہ رہنے دیں، نکال باہر کریں، ورنہ وحدتِ اُمت کا تحفظ نہ ہو سکے گا۔ 

اب ان باہر نکلنے والوں کا ہنوز اس اُمت میں شامل رہنے کا دعویٰ مسلمانوں کے حقِ وحدت میں مداخلت ہوگی، وہ اگر مسلمان کہلانے پر اصرار کریں تو یقیناً مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں مخل اور دخل انداز ہوں گے۔

اسلام جب تمام اقلیتوں کو اُن کی حدود میں مذہبی آزادی دیتا ہے تو یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ خود اپنی آزادی میں دوسروں کی مداخلت برداشت کر لے……؟

سو قادیانیوں (اور شیعوں) کا اسلام کا نام استعمال کرنے پر اصرار مسلمانوں کی وحدتِ اُمت کے حق میں ایک مداخلت بے جا ہے۔ مسلمانوں کا اُن سے یہ مطالبہ کہ وہ مسلمان نہ کہلائیں، اُن کے اوپر بوجھ ڈالنا نہیں، خود اپنی ذات کی حفاظت کرنا ہے۔ کوئی اُمت دوسروں کی خاطر اپنی سالمیت کو مجروح نہیں کرتی، قوموں کی سالمیت جن چیزوں سے باقی رہتی ہے، انہیں ہی ان کے شعائر کہتے ہیں۔

شعائر امت کا تحفظ:

مسلم سوسائٹی جن جگہوں، جن کاموں اور ناموں سے پہچانی جاتی ہے، انہیں شعائر اسلام کہا جاتا ہے۔ یہ اسلام کے وہ نشان ہیں جن سے مسلم آبادیاں اور مسلمان لوگ پہچانے جاتے ہیں۔ جب تک کسی امت کے شعائر محفوظ رہیں اور لوگ اپنے شعائر کا پوری غیرت سے پہرہ دیتے رہیں، تو اُمت کا تشخص باقی رہ سکتا ہے، ورنہ نہیں۔ 

صفحہ 1 از 3