عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو

  سید تنظیم حسین

صفحہ 2 از 2

ڈاکٹر زاہد علی نے اخوان الصفاء کے مسائل کا یونانی فلسفہ سے مقابلہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ورنہ اکثر مسائل میں حکماء یونان کی تقلید کی ہے جیسا کہ انہوں نے خود اعتراف کیا ہے۔

ڈاکٹر زاہد علی نے اخوان الصفاء کے رسائل سے متعلق تفصیلی بحث کی ہے اسی طرح دیگر کتابوں میں بھی اس موضوع پر گفتگو کی گئی ہے مگر سب کا نچوڑ یہ ہے جو بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے اخوان الصفاء کے رسائل مرتب کرنے والوں کے دل و دماغ پر جملہ قدیم فلسفوں کا غلبہ تھا ان کا مقصد اسلام میں ان فلسفوں کو کس طرح داخل کرنا تھا جس میں وہ الحمدللہ کامیاب نہ ہوسکے۔

اب ہم اخوان الصفاء سے متعلق ابوحیان توحیدی کے جواب سے اقتباس پیش کرتے ہیں جو اس نے 373ھ، 983ھ میں عباسیوں کے وزیرِ صمصام الدولہ بن عضد الدولہ کے سوال پر دیا تھا: میں نے یہ رسالے دیکھے ان میں ہر فن کے مسائل بیان کیے گئے لیکن اس قدر اختصار سے کہ پڑھنے والے کو تشفی نہیں ہوتی ان میں خرافات کنایات اور تلفیقات ہیں میں نے متعدد رسالے اپنے شیخ ابو سلیمان محمد بن بہرام المصطفیٰ الجستانی کو دکھلائے شیخ نے بڑی مدت تک ان کا مطالعہ کیا اور کہا کہ ان لوگوں نے بہت مشقت کی مگر کوئی بات پیدا نہ کر سکے بڑی تکلیف اٹھائی مگر کچھ نتیجہ نہ نکال سکے پانی کی تلاش میں بہت گھومے مگر چشمے پر پہنچ نہ سکے بہت کچھ راگ الاپے مگر طرب نہ پیدا کر سکے ناممکنات کو وجود میں لانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔(مقدمہ احمد زکی پاشا)

فلسفہ کی اہمیت کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو لیکن مذہب کے ساتھ فلسفہ نے مل کر جو اثرات پیدا کیے وہ کیفیت اسماعیلیوں کے اعتقادات سے ظاہر ہے یعنی آگے چل کر ان کے بیشتر حصہ ہے اعمالِ ظاہری سے فراغت حاصل کر لی اور ایک عام انسان کو معصوم قرار دے کر سیدھے سادے دین کو فلسفیانہ موشگافیوں کا گورکھ دھندا بنا کر رکھ دیا اس کو دین و مذہب سمجھنا ہی دین و مذہب کے صحیح تصور سے ناواقفیت کی دلیل ہے علامہ اقبال جنہوں نے قدیم و جدید جملہ فلسفوں کا مطالعہ کیا تھا اور خود فلسفہ میں ڈاکٹر تھےکہتے ہیں:

انجام خرد ہے بے حضوری

 ہے فلسفہ زندگی سے دوری

جن حضرات نے دین کو کلیتہ عقل کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی انہوں نے ہمیشہ ٹھوکر کھائی اخوان الصفاء کے فلسفہ کے پرستار حضرت امام غزالیؒ پر تنقید کرتے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ غزالیؒ کا آفتاب الحمدللہ چمک رہا ہے اخوان الصفاء کے مرتب کرنے والوں کے چراغ ذرا دیر کے بعد بھڑک کر کب کے بجھ چکے۔

فاعتبروا یا اولی الابصار


صفحہ 2 از 2