حسن بن صباح کی زندگی ایک مستشرق کی نظر میں - ردِ رافضیت |…

حسن بن صباح کی زندگی ایک مستشرق کی نظر میں

  سید تنظیم حسین

صفحہ 2 از 2

فاطمیوں یا مغربی اسماعیلیوں کا منفی کردار:

گزشتہ باب میں ہم ذکر کر آئے ہیں کہ فاطمیوں کو 297ھ، 909ء میں دنیاوی اقتدار مل گیا اور ان کی حکومت 567ھ، 1172ء تک رہی لہٰذا ہم نے فاطمی ائمہ، خلفاء کے لئے ایک علیحدہ باب رکھا ہے جس میں ان کے دور کو شخصی حکمرانی کے مقابل پیش کیا گیا ہے یہاں پر صرف چند امور کا مختصر ذکر کیا جائے گا:

ہجر اسود کی بے حرمتی میں فاطمیوں، مغربی، اسماعیلیوں کا تعاون:

قرامطہ کی ہلاکت خیزیوں اور حجرِ اسود کی بے حرمتی کے ساتھ ساتھ حاجیوں کے قتلِ عام کا ذکر ہم گزشتہ صفحات میں کر آئے ہیں یہ ایسے کام ہیں جن کی توقع دشمنانِ اسلام سے بھی نہیں کی جا سکتی فاطمی خلیفہ المعز لدين اللہ 341ھ، 365ھ، 952ء، 976ء نے قرامطہ کے ان نازیبا و قابلِ ملامت افعال کو نظرِ استحسان سے دیکھا وہ حسن قرمطی کے نام اپنے خط میں لکھتا ہے:

تو کیوں اپنے دادا ابو سعید الجنانی اور اپنے چچا ابو طاہر سلیمان کی پیروی نہیں کرتا کیا تو نے ان کی کتابیں نہیں پڑھیں کیا تو نہیں جانتا کہ وہ ہمارے ایسے بندے تھے جس کا عزم قوی عمل نیک اور راستہ سیدھا تھا ہماری تائید اور برکت سے انہوں نے بنو عباس کا مقابلہ کر کے ملک حاصل کیا اور سردار بن گئے اللہ تعالیٰ ان پر اپنی عنایت کی نظر رکھتا تھا یہاں تک کہ وہ دنیا سے گزر کر جنت میں جا بسے ان کی زندگی اچھی گزری ان کے مرنے کے بعد ان کے افعال مفقود ہو گئے ان کے لئے آخرت میں خوش حالی اور اچھا ٹھکانہ ہے تو نہیں جانتا تھا کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔

لیکن ہم نے اس کو ایک نور بنایا ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں اس کے ذریعہ دین کا راستہ و دکھلاتے ہیں۔

(تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، اول صفحہ، 180)

حسن قرمطی جس کو یہ خط لکھا گیا او طاہر سلیمان کا جس کی سرکردگی میں 327ھ 974ء میں حجرِ اسود کی بے حرمتی کی گئی تھی اور حاجیوں کا قتل عام کیا گیا تھا بھتیجا تھا یہ خط 363ھ، 974ء میں لکھا گیا اس سے فاطمیوں اور قرامطہ میں قریبی تعلق کی تصدیق ہوتی ہے فاطمی ائمہ جن کو نہ صرف فاطمی بلکہ مامور من اللہ اور معصوم ہونے کا دعویٰ تھا ان کا حجرِ اسود کی بے حرمتی اور حاجیوں کے قتلِ عام کو نظرِ استحسان سے دیکھنا یہ کہنے کے لئے مجبور کر دیتا ہے:

چو کفر از کعبہ بر خیز و کجا ماند مسلمانی۔

مغربی اسماعیلیوں کا صلیبیوں سے تعاون:

ڈاکٹر زاہد علی تاریخ فاطمیون مصر میں لکھتے ہیں:

اسی زمانے میں صلیبیوں کے حملے شروع ہوئے بنو فاطمہ کو دوسری اسلامی ریاستوں سے اتحاد کر کے ان کا مقابلہ کرنا چاہئے تھا مگر انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ صلیبوں سے مل گئے جنہوں نے ان سے بے وفائی کی اور عین وقت پر ان کی دوستی چھوڑ دی۔

(تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 46، 299)

(تفصیلات تاریخِ ہذا میں دیکھی جاسکتی ہیں) 

سلوسٹر ڈی ساسی کتنے کرب سے لکھتا ہے۔ 

One of the most illustrious most certainly of the victims of the fury of Ismailies is Saladin It is true this great prince escaped their attacks but he was twice on the spot of losing his life by these wretch's daggers. (Note D)

(The history of Assasins page: 295)

ترجمہ: یقینی طور پر اسماعیلیہ کے غیظ و غضب کے سب سے نامور شکاروں میں سے ایک صلاح الدین ہے یہ صحیح ہے کہ وہ ان کے حملوں سے محفوظ رہا۔ لیکن دو مرتبہ ایسا ہوا کہ قریب تھا کہ وہ ان بدبختوں کے خنجروں سے اپنی جان سے ہاتھ دھو نہ بیٹھتا۔


صفحہ 2 از 2