عہد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں ولایت عہد کے تصور پر…

عہد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں ولایت عہد کے تصور پر اعتراضات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

عبدالرحمٰن بن ابوبکر کی وفات کے بعد صرف تین مخالفین ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما ہی باقی رہ گئے تھے۔ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو یزید پر مجتمع دیکھا تو انہوں نے بھی یزید سے بیعت کر لی، انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد یزید کو بیعت کا پیغام بھیجتے ہوئے کہا: اگر یہ خیر ہے تو ہم اس پر راضی رہیں گے اور اگر یہ کوئی مصیبت ہے تو اس پر صبر کریں گے۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 11 صفحہ 100، صحیح سند کے ساتھ)

آخرکار معارضہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور حسین بن علی رضی اللہ عنہما تک محدود ہو کر رہ گیا۔ بعض لوگوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر صحیح ہاتھوں میں خلافت دینے میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے ان سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اگر مجھے یزید سے محبت نہ ہوتی تو میں اپنی رشد و ہدایت صاف دیکھ لیتا۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 28)

مگر اس کی سند واقدی کے طریق سے ہے اور واقدی متروک ہے،

(مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 152)

اس نے ان کی طرف یہ بات بھی منسوب کی ہے کہ انہوں نے یزید سے کہا: اللہ تعالیٰ نے میرے جی میں تجھے خلیفہ بنانے سے بڑی کوئی بات نہیں ڈالی۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 60)

یہ سند ہیثم بن عدی کے طریق سے ہے اور وہ کذاب ہے۔

(مواقف المعارضۃ: صفحہ 152)

محمد رشید رضا نے اس روایت پر اعتماد کرتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر بڑا سنگ دِلانہ حملہ کیا ہے۔

(مواقف الصحابۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 152۔ الخلافۃ: محمد رشید: صفحہ 52)

اکثر باحثین نے صدر اسلام کی تاریخ سے متعلق ضعیف اور موضوع روایات پر اعتماد کرتے ہوئے ایسے تصورات اور افکار و احکام کی بنیاد رکھی ہے جو نئے سرے سے نظرثانی کے محتاج ہیں۔ اسلامی نظام حکومت کا اعلیٰ ترین نمونہ جو کہ خلافت سے عبارت ہے اور جس میں روح اسلام پورے طور پر جلوہ گر ہوتی ہے اس میں جس قدر بھی تبدیلی آئی

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 112)

مگر حکومت پر اسلامی رنگ ہمیشہ غالب رہا۔ نماز اپنے مقررہ اوقات میں ادا کی جاتی رہی، صاحب نصاب لوگوں سے زکوٰۃ وصول کی جاتی رہی، فرض روزوں کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ کی جاتی اور حدود شرعیہ کے نفاذ میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہ کیا جاتا، اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ کا فریضہ بھی سرانجام دیا جاتا رہا۔ المختصر جملہ تعلیمات اسلامیہ کی تطبیق کی جاتی رہی۔

(الامویون بین الشرق و الغرب:جلد 1 صفحہ 94، 95) 


صفحہ 2 از 2