ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ…

ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 4
خلافتِ فاروقی کے زمانے میں سیدہ صفیہؓ کی ایک لونڈی نے امیر المؤمنین سے شکایت کی کہ ام المؤمنین میں ابھی تک یہودیت کے کچھ اثرات باقی ہیں۔ کیونکہ وہ اب بھی ہفتہ کے دن کو اچھا سمجھتی ہیں جیسا کہ یہودی اس دن کی تعظیم کرتے ہیں اور یہودیوں سے دلی لگاؤ بھی رکھتی ہیں۔ چونکہ بات آپؓ کی لونڈی کہہ رہی تھی اس لیے سیدنا عمرؓ حقیقتِ حال معلوم کرنے کے لیے خود ام المؤمنین سیدہ صفیہؓ کے پاس چل کر آئے۔
سیدہ صفیہؓ نے فرمایا جب سے اللہ نے مجھے ہفتہ کے دن کے بدلے جمعہ کا دن عنایت فرمایا تو ہفتہ کے دن کی محبت میرے دل سے نکل گئی ہے باقی چونکہ یہودی میرے قریبی رشتہ دار ہیں تو مجھے صلہ رحمی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔
سیدنا عمرؓ آپؓ کے جواب سے مطمئن ہوئے اور آپؓ کی حق گوئی کو سراہا۔ اس کے بعد سیدہ صفیہؓ نےاس لونڈی کو بلا کر پوچھا: تو نے امیر المؤمنین کے پاس جا کر میری بے جا شکایت کیوں کی؟ کس چیز نے تجھے اس الزام تراشی پر آمادہ کیا؟ لونڈی نے کہا مجھے شیطان نے بہکا دیا تھا۔
سیدہ صفیہؓ نے اس کے شیطانی وسوسے والے عذر کو قبول فرماتے ہوئے کہا: جا میں نے تجھے راہِ خدا میں آزاد کیا۔
درد مندی کا وصف:
خلافتِ عثمانی کا زمانہ جہاں مسلمانوں کے لیے باعثِ رحمت تھا وہاں پر باعثِ آزمائش بھی تھا۔ مدینہ طیبہ کے اندر فسادی بلوائیوں نے 35 ہجری میں سیدنا عثمان ذوالنّورینؓ کے مکان کا محاصرہ کر لیا گیا تو ان کو بہت سخت رنج ہوا۔
چنانچہ آپؓ نے ایک غلام کو ساتھ لیا اور اپنے خچر پر سوار ہو کر سیدنا عثمانؓ کے مکان کی طرف روانہ ہوئیں۔ اشتر نخعی نے ان کے غلام کو دیکھ کر پہچان لیا اور آگے بڑھ کر خچر کو مارنا شروع کردیا چونکہ حالات بگڑے ہوئے تھے اور اشتر نخعی کے مقابلے میں مزید پیش قدمی ممکن نہیں تھی، اس لئے آپؓ نے حالات کے پیش نظر واپسی کا فیصلہ فرمایا اور سیدنا حسن بن علیؓ کے ہاتھ سیدنا عثمانؓ کو کھانا بھیجا۔
وفات:
50 ہجری رمضان المبارک میں سیدہ صفیہؓ 65 سال کی عمر میں وفات پا گئیں اور آپ کو جنتُ البقیع میں دفن کیا گیا۔
وصیت:
آپؓ نے اپنا ذاتی مکان اپنی زندگی میں ہی اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیا تھا البتہ ترکہ میں ایک لاکھ دراہم چھوڑے اور اس کے ایک تہائی کی وصیّت اپنے بھانجے کیلئے کی۔جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوا تھا۔ لوگ اس کو حصہ دینے میں شش و پنج کا شکار ہونے لگے تو سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: لوگو! اللہ سے ڈرو اور صفیہؓ کی وصیت پوری کرو۔ چنانچہ آپؓ کی وصیت پر عمل کیا گیا۔

صفحہ 4 از 4