ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ…

ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 4
دحیہ کلبیؓ کا انتخاب:
سیدہ صفیہؓ قیدیوں کے پاس بیٹھ گئیں۔ جب مالِ غنیمت تقسیم ہونے لگا تو سیدنا دحیہ کلبیؓ نے سیدہ صفیہؓ کو اپنے لیے پسند فرمایا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مشورہ:
بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سیدہ صفیہؓ کی حیثیت کا خیال فرماتے ہوئے آپﷺ سے عرض کیا یارسول اللہﷺ صفیہؓ بنی قریظہ اور بنو نضیر کی رئیس زادی ہے، خاندانی وقار کے پیشِ نظر وہ ہمارے سردار محمد رسول اللہﷺ کے لیے زیادہ موزوں ہے۔‘
سیدہ صفیہؓ کو اختیار:
رسول اللہﷺ نے یہ مشورہ قبول فرما لیا۔اور سیدنا دحیہ کلبیؓ کو دوسری لونڈی عطاء فرما کر سیدہ صفیہؓ کو آزاد کر دیا اور یہ اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو اپنے گھر چلی جائیں اور اگر چاہیں تو آپﷺ کے نکاح میں آ جائیں۔
قبولِ اسلام:
اسی موقع پر سیدہ صفیہؓ نے اسلام کو دل و جان سے قبول کر لیا اور اہلِ ایمان کی صف میں شامل ہو گئیں۔ابراهيم بن جعفر اپنے والد سے روایت كرتے ہیں، وہ كہتے ہیں جب سیدہ صفیہؓ نبیﷺ كے پاس آئیں تو آپﷺ نے ان سے كہا تمہارے والد برابر میرے سخت ترین یہودی دشمنوں میں سے رہے، یہاں تک كہ اللہ نے انہیں ہلاک كر دیا۔
پھر اللہ كے رسول نے ان سے ارشاد فرمایا: فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے اگر تم اسلام قبول كر لو تو میں تمہیں اپنے پاس ہی روک لوں گا اور اگر تم یہودیت پر برقرار رہنا چاہو تو ایسا ہے كہ میں تمہیں آزاد كیے دیتا ہوں تم اپنی قوم كے پاس چلی جاؤ
عرض كی کہ اے اللہ کے رسولﷺ میں تو آپ کے دعوت دینے سے پہلے ہی سے اسلام کی مشتاق تھی اور دل سے آپ کی تصدیق کر چکی تھی۔ جب میں یہاں آئی ہوں تب بھی مجھے یہودیت میں کوئی رغبت نہیں تھی اور اب تو نہ ان میں کوئی میرا باپ ہے نہ بھائی۔ آپ نے مجھے کفر و اسلام کے درمیان اختیار دیا ہے تو میرا فیصلہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول مجھے آزادی اور اپنی قوم میں لَوٹنے سے زیادہ عزیز ہیں۔
 سیدہ صفیہؓ ام المؤمنین بنتی ہیں:
سیدہ صفیہؓ نے آپﷺ کے نکاح میں آنا ہی پسند فرمایا، خیبر سے واپسی پر جب آپ سد الروحاء کے مقام پر پہنچے تو سیدہ صفیہؓ حیض سے پاک ہوئیں تب آپﷺ ان كے ساتھ آئے شبِ عروسی گزاری اور دوسرے دن آپﷺ نے دعوتِ ولیمہ کی۔ ان کا حق مہر اِن کی اپنی آزادی تھی۔ یہاں سے چلتے وقت آپﷺ نے سیدہ صفیہؓ کو خود اپنے اونٹ پر سوار فرمایا اور خود اپنی چادر مبارک سے ان پر پردہ کیا۔
نوٹ: ہم اس بات کا تذکرہ پہلے کر چکے ہیں کہ پردہ کرانے میں حکمت یہ تھی کہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ سیدہ صفیہؓ آپﷺ کی زوجہ ہیں، باندی نہیں۔
مدینہ منورہ تشریف آوری:
دعوتِ ولیمہ وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد سیدہ صفیہؓ آپﷺ کے ہمراہ مدینہ منورہ تشریف لائیں۔ آپؓ کو حضرت حارث بن نعمان انصاریؓ کے مکان پر ٹھہرایا گیا۔ آپؓ کے حسن وجمال کا تذکرہ مدینہ کی عورتوں میں پھیل گیا چنانچہ ازواجِ مطہراتؓ اور انصار و مہاجرین کی خواتین آپ کو دیکھنے کے لیے تشریف لائیں۔
سیدہ فاطمہؓ سے محبت:
اسی دوران رسول اللہﷺ کی لختِ جگر سیدہ فاطمہؓ بھی سیدہ صفیہؓ کی زیارت کے لیے تشریف لائیں۔ جب سیدہ صفیہؓ کو معلوم ہوا کہ سیدہ فاطمہؓ نبی کریمﷺ کی لختِ جگر ہیں تو انہوں نے اپنے کانوں کے جھمکے اور زیورات اتار کر ان کی خدمت میں پیش کیا اور ان کے ساتھ جو دوسری خواتین تشریف لائیں انہیں بھی کوئی نہ کوئی زیور تحفے میں دیا۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ:
آپﷺ نے سیدہ عائشہؓ سے اس بارے پوچھا۔ سیدہ عائشہؓ جو ابھی تک غالباً سیدہ صفیہؓ کے اسلام لانے سے واقف نہ ہو پائی تھیں یہ کہا کہ یہودیہ ہے۔ آپﷺ نے سیدہ عائشہؓ کی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا: نہیں بلکہ صفیہؓ مسلمان ہو چکی ہے اور اس کا اسلام بہت اچھا ہے۔
ایک خواب کی تعبیر پوری ہوئی:
سیدہ صفیہؓ کے چہرے پر زخم کا ایک نشان تھا۔ آپﷺ نے اس بارے آپؓ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ سیدہ صفیہؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ آسمان سے چاند ٹوٹ کر میری گود میں آن گرا ہے جب میں نے یہ خواب اپنے خاوند کنانہ بن ابی الحقیق کو سنایا اس نے یہ کہہ کر کہ تو ملکہِ عرب بننا چاہتی ہے میرے منہ پر زور سے تھپڑ مارا جس کی وجہ سے یہ نشان پڑ گیا۔
آپ نے جو خواب دیکھا تو اس کی تعبیر یوں پوری ہوئی کہ آپؓ پوری کائنات کے سردارﷺ کی زوجہ بن گئیں۔
محبوبانہ تنبیہ:
خاوند بیوی ہونے کے ناتے بعض ایسے امور بھی پیش آتے ہیں جن کا تعلق فطری زندگی کے ساتھ بہت گہرا ہوتا ہے۔ امہات المؤمنینؓ کی ازدواجی زندگی امتِ محمدیہﷺ کی خواتین کے لیے اپنے اندر کئی حکمتوں کو سمیٹے ہوئے ہے، نبی کریمﷺ کے گھرانے کے حالات امت کی تعلیم کے لیے تھے۔ اس لیے بعض ایسے واقعات بھی پیش آئے جن سے امت نے دوچار ہونا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپﷺ کسی بات پر سیدہ صفیہؓ سے ناخوش ہو گئے۔ آپؓ سیدھی سیدہ عائشہؓ کے پاس گئیں اور فرمایا آپ جانتی ہیں کہ میں اپنی باری کسی صورت کسی کو بھی نہیں دیتی لیکن اگر آپ میرا ایک کام کریں کہ نبی کریمﷺ کو مجھ سے راضی کر دیں تو میں اپنی باری کا دن آپ کو دیتی ہوں۔ سیدہ عائشہؓ اس کام کے لئے راضی ہو گئیں اور زعفران کی رنگی ہوئی ایک چادر لے کر اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو مہک جائے۔ اس کے بعد آپﷺ کی خدمت میں تشریف لے گئیں۔
آپﷺ نے فرمایا: عائشہؓ یہ تمہاری باری کا دن نہیں۔سیدہ عائشہؓ نے عرض کی یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ پھر تمام صورتحال آپﷺ کو سنائی اور آپﷺ سیدہ صفیہؓ سے راضی ہو گئے۔
واللہ! صفیہؓ سچی ہے:
آپﷺ کے مرضِ وفات میں تمام ازواجِ مطہراتؓ آپﷺ کی عیادت کے لیے سیدہ عائشہؓ کے حجرے میں تشریف لائیں۔ سیدہ صفیہؓ نے حضورﷺ کو بے چینی کی حالت میں دیکھا تو آپ کا دل بھر آیا چنانچہ آپؓ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ کاش آپ کی بیماری مجھے ہو جاتی۔ ازواجِ مطہراتؓ نے ان کی طرف دیکھا تو حضورﷺ نے فرمایا:واللہ وہ سچّی ہیں یعنی ان کا اظہارِ عقیدت سچے دل سے ہے۔
لونڈی کو آزاد کر دیا:
صفحہ 3 از 4