ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ…

ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 4
آپﷺ کو ان کی تیاریوں اور اسلحہ جمع کرنے کا علم ہوا تو آپﷺ نے سیدنا سباع بن عرفطہ غفاریؓ کو حاکمِ مدینہ مقرر فرمایا اور خود 1400 افراد پر مشتمل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قافلے کے ہمراہ خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔ ادھر رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی نے کسی طریقے سے یہودیوں کو خفیہ طور پر مسلمانوں کی روانگی کی اطلاع دے دی۔ پہلے تو یہود نے کھلے میدان میں لڑنے کا فیصلہ کیا اور ایک میدان میں نکل آئے ان کا خیال یہ تھا کہ مسلمانوں کو خیبر پہنچنے میں کچھ دن لگ جائیں گے، چند دن بعد آپﷺ نے مقامِ رجیع میں فوجیں اتاریں، خیمے، مستورات اور بار برداری کا سامان یہاں اتار دیا گیا جبکہ اصل لشکر نے خیبر کا رخ کیا۔
مقامِ صہباء پر پہنچ کر نمازِ عصر ادا کی گئی اور اس کے بعد آپﷺ نے باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ ستو نوش کیا۔ رات ہوتے ہوتے لشکر خیبر کے قریب پہنچ گیا تھا اور عمارتیں نظر آنے لگیں، آپﷺ نے رکنے کا حکم دیا اور یہاں رک کر دعا فرمائی دوسرے دن خیبر پہنچے۔ یہود ایسی بزدل قوم تھی جب انہوں نے اہلِ اسلام کی جنگی تیاریاں دیکھیں تو کھلے میدان کے بجائے قلعہ بند ہو کر لڑنے لگے۔
قلعہ قموص کی فتح:
خیبر کی آبادی دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک حصے میں پانچ قلعے تھے۔
  1.  قلعہ ناعم
  2.  قلعہ صعب بن معاذ
  3.  قلعہ زبیر
  4.  قلعہ اُبی
  5.  قلعہ نزار
ان میں سے مشہور تین قلعوں پر مشتمل علاقہ نطاۃ کہلاتا تھا اور بقیہ دو قلعوں پر مشتمل علاقہ شق کے نام سے مشہور تھا خیبر کی آبادی کا دوسرا حصہ کتیبہ کہلاتا تھا۔ اس میں صرف تین قلعے تھے۔
  1. قلعہ قموص یہ بنو نضیر کے خاندان ابوالحقیق کا قلعہ تھا
  2. قلعہ وطیح
  3. قلعہ سلالم۔
یہودیوں نے اپنی خواتین اور بچے قلعہ قموص اور نطاۃ میں جب کہ دیگر سامان و اسلحہ وغیرہ قلعہ ناعم میں محفوظ کرلیا اور ہر قلعے پر تیر انداز تعینات کر دیے۔ مسلمانوں نے پانچ قلعوں کو ایک ایک کر کے فتح کیا جس میں 50 مجاہدین زخمی اور ایک شہید ہوئے۔
قلعہ قموص سب سے بنیادی اور بڑا قلعہ تھا جو ایک پہاڑی پر بنا ہوا تھا۔ آپﷺ نے اس قلعے کو فتح کرنے کے لیے چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھیجا لیکن یہ فتح نہ ہوا۔ اس کے بعد آپﷺ نے ارشاد فرمایا: کل میں اسے علم دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ شکست کھانے والا اور بھاگنے والا نہیں ہے۔ خدا اس کے ہاتھوں سے فتح عطا کرے گا۔ یہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خواہش کرنے لگے کہ کاش یہ سعادت انہیں نصیب ہو۔ دوسرے دن آپﷺ نے سیدنا علیؓ کو طلب کیا۔ آپﷺ کو بتلایا گیا کہ انہیں آنکھ کی تکلیف ہے اس کے باوجود سیدنا علیؓ تشریف لائے توآپﷺ نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھ پر لگایا آپؓ کی آنکھ کی تکلیف بالکل ختم ہو گئی۔
دوسرے دن سیدنا علیؓ میدان میں اترے تو یہودیوں کے مشہور پہلوان مرحب کا بھائی حارث مسلمانوں پر حملہ آور ہوا مگر سیدنا علیؓ نے اسے ایک ہی وار میں قتل کر دیا اور اس کے ساتھی بھاگ گئے۔ اس کے بعد مرحب رجز جنگی اشعار پڑھتا ہوا میدان میں اترا۔ اس نے زرہ اور خَود پہنا ہوا تھا۔ آپؓ نے بھی جواب میں رجز پڑھا اور مرحب کے سر پر اتنے زور سے تلوار کا وار کیا جس سے خَود دو ٹکڑے ہو گئی اور مرحب دو دھڑوں میں کٹ گیا۔
زِرہ: لوہے کا بنا ہوا جنگی لباس جس کے ذریعے تیر و تلوار وغیرہ کے حملوں سے جسم کو بچایا جاتا ہے۔
خَوْد: خ کو زبر کے ساتھ پڑھنا ہے۔ لوہے کی بنی ہوئی جنگی ٹوپی۔
اس کی ہلاکت کے بعد باقی یہودی خوفزدہ ہو کر قلعہ میں جا گھسے۔ سیدنا علیؓ نے قلعہ کا دروازے کو دونوں ہاتھوں سے پورا زور سے اکھاڑ لیا۔ اس کے بعد آپؓ نے اس دروازے کو قلعہ قموص کے آگے والے گڑھے پر رکھا تا کہ اسلامی فوج گھوڑوں سمیت قلعہ میں داخل ہو سکے، اسلامی فوج داخل ہوئی، یہودی سہم گئے انہوں نے اپنے ہتھیار ڈال دیے اور قلعہ قموص بھی فتح ہو گیا۔ اس پورے غزوے میں 93 یہودی ہلاک ہوئے جبکہ 15 مسلمان شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔
خیبر کی نصف پیدا وار:
فتح کے بعد خیبر کی زمین تقسیم کی گئی لیکن اہلِ خیبر نے گذارش کی کہ زمین ایسے ہی رہنے دی جائے ہم پیداوار کا نصف ادا کیا کریں گے۔ آپﷺ نے منظور فرمایا اور کاشت کے وقت آپﷺ سیدنا عبداللہ بن رواحہؓ کو بھیج دیتے جو فصل کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد اہلِ خیبر سے کہتے کہ ان میں سے جو حصہ چاہو لے لو۔
خیبر میں قیام:
آپﷺ فتح کے بعد کچھ عرصہ تک خیبر میں مقیم رہے، تمام تر امن و امان کے باوجود بھی یہودیوں کی اسلام دشمن سازشیں ختم نہ ہوئیں۔ اسی دوران ایک واقعہ پیش آیا جب آپﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مرحب کی بھابھی زینب نے کھانے کی دعوت دی اور کھانے میں زہر ملا دیا۔
آپﷺ نے ایک نوالہ لینے کے بعد کھانے سے ہاتھ روک لیا جبکہ ایک صحابی سیدنا بِشرؓ نے پیٹ بھر کر کھایا۔ زہر کی وجہ سے سیدنا بشرؓ شہید ہو گئے۔ بعد میں زینب نے جرم کا اقرار کیا، آپﷺ نے اسے ذاتی طور پر معاف فرمایا لیکن وہ سیدنا بشرؓ کے قصاص میں قتل کر دی گئی۔
مالِ غنیمت کی تقسیم:
غزوہ خیبر میں کئی نامور پہلوان جنگجو اور یہودیوں کے سردار مارے گئے۔ سیدہ صفیہؓ کے خاندان کے سارے افراد اسی غزوے میں قتل کر دیے گئے یا جنگی قیدی بنا لیے گئے۔ جنگ کے بعد تمام قیدی اور مالِ غنیمت ایک جگہ جمع کئے گئے۔
اسی دوران سیدہ صفیہؓ اور ان کی ایک رشتہ دار خاتون کو سیدنا بلالؓ پکڑ کر لائے۔ راستے میں مقتولین کی لاشیں خاک و خون لتھڑی ہوئی پڑی تھیں۔ ان میں سیدہ صفیہؓ کے والد، بھائی، شوہر اور خاندان کے بعض دوسرے لوگوں کی بھی کی لاشیں بھی تھیں۔ سیدہ صفیہؓ نے ان لاشوں کو دیکھا لیکن بالکل تحمل کا دامن نہیں چھوڑا۔ جبکہ آپ کے ساتھ قید ہونے والی دوسری خاتون نے جب لاشیں دیکھیں تو بے قابو ہو کر رونا پیٹنا شروع کیا۔ آپﷺ کو جب اس عورت کے رونے کا علم ہوا تو آپﷺ نے سیدنا بلالؓ کی تربیت کرتے ہوئے فرمایا: بلالؓ تمہارے دل میں رحم پیدا نہیں ہوا کہ ان عورتوں کو اس راستے سے لائے ہو جہاں ان کے باپ اور بھائی خاک و خون میں لتھڑے پڑے ہیں۔
صفحہ 2 از 4