اسماعیلیہ کے اعتقادات ابتدائی دور میں - ردِ رافضیت | دفاع…

اسماعیلیہ کے اعتقادات ابتدائی دور میں

  سید تنظیم حسین

صفحہ 2 از 2

اگرچہ تاویلات بیان کرنے کے لئے یہاں تک احتیاط برتی جاتی تھی کہ داعیوں کو یہ ہدایت تھی کہ ابتداء میں رمز و اشارہ سے کام لیا جائے اس کا اصطلاحی نام حد الرضاع تھا تاکہ آہستہ آہستہ مقاصد کی تصریح کی جاسکے لیکن اس کے باوجود تاویلات کا علم جیسے ہی لوگوں کو ہوا تو انہوں نے ظاہری اعمال ترک کر دیئے مثلاً جب یہ معلوم ہوا کہ "جنت" سے مراد "دعوت" ہے اور اعمال شریعت کے ممثولات "دعوت" کے ارکان ہیں تو ارکان کو تسلیم کر کے ظاہری اعمال سے فراغت حاصل کرلی اس اثر سے خود اسماعیلی داعی بھی محفوظ نہ رہ سکے ڈاکٹر زاہد علی دو معروف داعیوں کے متعلق لکھتے ہیں۔ 

(تاریخِ فاطمینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 194) 

کہ جب ان کو شراب کے باطن کا علم ہوا تو انہوں نے شراب کو حلال سمجھ لیا مختصراً تاویلات کی صحیح حیثیت کے اخفاء سے خود اسماعیلی کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ 

(تاریخِ فاطمینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 194)

تاویلات کی حیثیت:

اوپر بیان کیا گیا ہے کہ اسماعیلی اعتقادات کے اعتبار سے نبی کا کام صرف ظاہری شریعت بیان کرتا ہے اور تاویل بیان کرنا وصی یا ائمہ کا کام ہے لہٰذا صاف واضح ہے کہ ائمہ کی اپنی حیثیت سے بیان کردہ تاویلات کی سند براہِ راست احادیثِ نیوی میں تلاش کرنا عبث ہے اس صورت میں ایک سیدھے سادے مسلمان کے لئے بھی اسماعیلی تاویلات کی حیثیت کے تعین میں کوئی مشکل نہیں رہتی۔

 علم حقیقت:

عالمِ روحانی اور عالمِ جسمانی کی ابتداء، انتہاء، رسالت، وصایت، امامت، قیامت، بعثت و حشر سے متعلق بیان کو علمِ حقیقت کہتے ہیں ان حقائق کا اختصار قریب قریب ناممکن ہے کیوں کہ ایک بیان دوسرے بیان سے اس طرح وابستہ ہے کہ جب تک پہلی بات تفصیلی طور پر سمجھ میں نہ آئے دوسری بات کا سمجھ میں آنا ناممکن ہے دوسرے اس میں اس قدر پیچ در پیچ ہیں کہ ان کو ذہن نشین کرنا ہی مشکل ہے اس مقصد کے لئے ایک علیحدہ کتاب کی ضرورت ہے لیکن ہم کوشش کریں گے کہ مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر چند چیزوں سے متعلق حقائق پیش کر کے علم حقیقت کا تعارف کرا سکیں۔

عالم روحانی کی ابتداء:

عالم ابداع: مبدع تعالیٰ نے ابتداء میں اپنی قدرت سے بے انتہا نورانی صورتیں آنِ واحد میں پیدا کیں جو حیات، علم، قدرت میں یکساں تھیں ان کا جلال، شرف، فضل و کمال انتہائی تھا ان صورتوں کا نام "عالم ابداع" ہے۔ 

عقلِ اول: ان میں ایک صورت نے بغیر کسی تعلیم اور الہام بغیر کسی تعلیم اور الہام کے قابل غور ہے کے اپنے مبدع کی وحدانیت کی گواہی دی اور اسے "علمِ ماکان و یکون" کی دولت مل گئی عقلِ اول کے دوسرے نام مبدع اول۔ سابق، قلم ہیں۔ 

عقلِ ثانی و ثالث یا عقلِ عاشر:

دو اور صورتوں نے پہلی صورت عقلِ اول کو دیکھ کر یکے بعد دیگرے وحید کا اقرار کیا ان دو صورتوں میں پہلی صورت کو سبقت کی وجہ سے علم وما کان و یکون مل گیا اس کے نام منبعث اول یا نفسِ کلی اور لوح ہوئے تیسری صورت میں دو میں سے دوسری نے عقلِ ثانی کی سبقت کا اعتراف نہ کیا یہ گناہ ہوا لہٰذا اس کو کوئی درجہ نہ ملا اس کو عقلِ ثالث کہا گیا لیکن گناہ کے اعتراف کے بعد عقلِ عاشر کہلائی۔

دوسری سات عقلیں:

عقلِ اول اور ثانی کی دعوت پر سات عقلوں نے دعوت کا جواب دیا ہر عقل کے ساتھ صورتوں کی ایک بڑی جماعت ان کی پیروی کرتی تھی۔

ہیولیٰ اور جسمِ کلی:

عقلِ عاشر نے معافی گناہ کے بعد ان صورتوں کو توحید کی دعوت دی جو اس کے اتباع میں گمراہ ہوئی تھیں ان گمراہ صورتوں کا نام ہیولیٰ اولیٰ ہے مگر یہ گمراہ صورتیں راہِ راست پر نہ آئیں اور ان میں تاریکی بڑھتی گئی ان کی پہلی، دوسری اور تیسری حرکت سے ان کی ذات میں طول و عرض و عمق پیدا ہوا اور یہ صورتیں مجسم ہو کر جسمِ کلی کی صورت میں ظاہر ہوئیں یہ سب کچھ عقلِ عاشر کے ارادے سے ہوا اس لئے عقلِ عاشر کو عالمِ طبیعت کا مدبر کہتے ہیں۔ 

تخلیق زمین و آسمان و شخص بشریٰ کو ظہور:

 عقلِ عاشر نے ان گناہ گار صورتوں سے افلاک و کواکب بنائے ان ہی سے عناصر یعنی پانی، مٹی، ہوا اور آگ تیار کی اور ان صورتوں کے ایک گروہ سے صحرہ بنایا جو بہت سخت پتھر کا گولہ ہے اور افلاک کا مرکز ہے جس کے گرد وہ گھومتے ہیں۔ صحرہ کو ہم زمین کہتے ہیں افلاک و سیاروں کی حرکت سے عناصر میں تبدیلیاں ہوئیں اور موالید ثلاثہ یعنی معدنیات نباتات اور حیوانات ظہور میں آئے ہر سیارے کے دور میں لوگوں کے خمائر جمع خمیر تیار ہوئے تقریباً پچاس ہزار سال میں انسان وجود میں آیا وہ اس طرح کہ مختلف مراحل سے گذر کر دو قسم کے پانی ملنے سے 9 ماہ بعد ایک شئی بن گئی جو انسان کہلایا ابتداءً نر بچے تیار ہوئے پھر مادہ بچے پیدا ہوئے اور دنیا کے تمام جزیروں میں انسان پیدا ہونے لگے۔


صفحہ 2 از 2