رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 17

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذہن میں حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ اس قدر مقبول تھے کہ بطورِ مدح اگر کسی اور کا ذکر ہوتا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شیخینؓ مراد لیتے مثلاً ایک دفعہ حضورﷺ نے فرمایا کہ اے قریش یا تو باز آجاؤ گے یا تم پر اللہ اس شخص کو مسلط کر دے گا جس کا اللہ نے ایمان کے لیے دل آزما لیا ہے بعض حاضرین نے کہا کیا سیدنا ابویکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں؟ فرمایا نہیں کیا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں؟ فرمایا نہیں بلکہ وہ جوتا مرمت کرنے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔

(کشف الغمہ: صفحہ، 281)

مجلسی نے اسی حقیقت کو یوں جل کر بد زبانی سے ادا کیا ہے کہ سب قریش مسلمان اپنے دو بتوں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی بہت تعظیم کرتے تھے اور ان کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔ (حیات القلوب: جلد، 2)

امر چہارم: خلفاء اربعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اوصاف حسنہ میں موازنہ:

معترض کا یہ کہنا کہ جنگوں میں نمایاں کارواںٔی کس کی ہے کیا حضرت علیؓ سے زیادہ بہادر عالم، عابد سخی، امین کوئی اور بزرگ بھی ہے گو بے معنیٰ بات ہے کیونکہ جب قرآنِ پاک عمل پیغمبرﷺ اور اتفاق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ایک بات ثابت ہو جائے تو اوصافِ حسنہ کے ایک ایک جزئیہ میں تقابل کرنا اور ایک کو کم دوسرے کو زیادہ دکھانا کوئی مستحسن بات نہیں خصوصاً ہمارے جیسے لوگ جو ان کی خاکِ پاکے بھی برابر نہیں اور یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی امیدوار کے مجموعی نمبرات کے اضافے اور ممتحن کے فیصلے سے صرف نظر کر کے ہر سوال کے جواب کا جزوی طور پر دوسرے کمتر امیدوار کے ہر سوال سے مقابلہ کرے پھر دو چار سوالوں کے فرق کو اہمیت دے کر یہ کہنے لگے کہ یہ ثانی بہتر کامیاب اور پہلے کا نتیجہ غلط نکالا گیا ہے تاہم اس خطرناک وادی میں ہم مجبوراً اترتے ہیں تاکہ شیعہ کو عذر کا موقعہ نہ رہے۔

واضح رہے کہ مختصراً افضلیت کے اسباب تین ہو سکتے ہیں:

1: قوت ایمانی 2: کثیر الہدایت ہونا 3: ذاتی خوبیوں کا مالک ہونا ہر ایک کا موازنہ ملاحظہ ہو:

 قوت ایمانی:

ایمان ایسی دولت ہے کہ اس کی وجہ سے اعمال میں جان اور وزن ہوتا ہے اور جوں جوں اس کی کیفیت میں اضافہ ہو اعمال کا درجہ بڑھتا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم اہلِ سنت کے اعتقاد کے مطابق انبیاء کی دو رکعت نماز امتی کے تمام عمر کے فرائض سے افضل ہے صحیحین کی حدیث معتبر کے مطابق ایک صحابی کا تین پاؤ غلہ راہِ خدا میں صرف کرنا غیر صحابی کے احد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرنے سے افضل ہے گو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایمان کامل تھا تاہم اصحابِ حدیبیہ، اہلِ احد، اہلِ بدر پھر مہاجرین، عشرہ مبشرہ اور خلفائے اربعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بالترتیب سب سے افضل تھا اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی فوقیت مندرجہ ذیل وجوہ سے ہے:

1: آنحضرتﷺ ہمیشہ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرماتے تھے۔

ما سبقكم ابوبكرؓ بصوم ولا صلواۃ ولكن بشیء وقر فی صدره۔

(مجالس المؤمنین: صفحہ، 206)

حضرت ابوبکرؓ تم سے صرف روزے اور نماز کی وجہ سے افضل نہیں بلکہ اس چیز قوتِ ایمانی و اخلاص کی وجہ سے جو ان کے دل میں معزز بنادی گئی ہے۔

2: حضورِ اکرمﷺ کا ارشاد ہے جس شخص کو بھی میں نے اسلام کی دعوت دی اس کو کچھ نہ کچھ جھجک اور تردد اور فکر ضرور پیدا ہوئی سوائے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے کہ جیسے ہی میں نے ان کو اسلام کی دعوت دی فوراً بلا تردد و تامل انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ذرا بھی دیر نہ لگائی۔

(راز ابنِ اسحاق حیاۃ الصحابہ: جلد، 1 صفحہ، 57)

مگر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو جب آپ نے دعوت دی میں تم کو بھی اللہ کی طرف بلاتا ہوں جو تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کی عبادت کا حکم دیتا ہوں اور یہ کہ لات و عزی کو بالکل چھوڑ دو سیدنا علیؓ نے کہا یہ ایسی بات ہے کہ آج سے قبل میں نے کبھی نہیں سنی میں اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دے سکتا جب تک کہ اپنے والد ابو طالب سے بیان نہ کر لوں آپﷺ کو حضرت علیؓ کا یہ فرمانا ناگوار گزرا فرمایا اے علیؓ اگر تم اسلام نہیں لاتے تو اس معاملہ کو ابھی پوشید رکھنا پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے دوسرے دن از خود ایمان قبول کر لیا (بدایہ) اور اسلام لے آئے اور ابو طالب کے ڈر سے آپ کے پاس چھپ چھپ کر آتے رہے اور اپنے اسلام کو چھپائے رکھا ظاہر نہ ہونے دیا۔ 

(بدایہ: جلد، 3 صفحہ، 24)

3: اس کے برعکس سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اسلام لاتے ہی ظاہر کر دیا اور کفار کی سختیاں برداشت کرتے رہے۔

چنانچہ حضرت علیؓ خود فرماتے ہیں حضرت ابوبکرؓ مجھ سے چار باتوں میں بڑھ گئے پہلے اسلام آشکارا کیا مجھ سے پہلے حجت کی نبی کے یار غار ہوئے نماز قائم کی جب کہ وہ اسلام ظاہر کرتے تھے میں چھپاتا تھا۔ 

(تنزیہہ المكانة الحیدریہ: صفحہ، 27)

4: سابقين إلى الاسلام حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں سے سیدنا ابوبکرؓ ہی آزاد مرد بالغ تھے چنانچہ اپنے اثر و قوت سے جو حضورﷺ کی اعانت اسلام کی وہ دوسروں سے نہ ہوئی۔

5: اسلام قبول کرتے ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضورﷺ کے مشن کے مبلغ بن گئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے بعد سیدنا عثمانؓ رضی اللہ عنہ حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ حضرت زبیرؓ رضی اللہ عنہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے یہ حضرات بھی آپ کی دعوت سے مسلمان ہوگئے دوسرے روز سیدنا ابوبکرؓ حضورﷺ کے پاس حضرت عثمان بن مظعون ابو عبیدہ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسدؓ، حضرت ارقم بن الارقمؓ کو لے کر حاضر ہوئے اور یہ سب بھی مشرف باسلام ہوئے۔  

(بدایہ: جلد، 3 صفحہ، 29 عن حافظ ابو الحسن طرابسی) 

صفحہ 3 از 17