رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 17

ترجمہ: تم میں سے شان والے اور گنجائش والے اس بات کی قسم کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں مسکینوں اور مہاجروں کو نہ دیں گے۔

باتفاقِ مفسرین یہ آیت حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حق میں نازل ہوئی جب آپ نے قذف بر عائشہ صدیقہؓ کی وجہ ث حضرت مسطحؓ کو مالی امداد نہ دینے کی قسم کھائی تھی یہاں آپ کو صاحبِ فضیلت فرمایا ہے جو مرتبہ عنداللہ میں افضلیت کا متقاضی ہے اور مالی لحاظ سے صاحبِ وسعت فرمایا۔

آپ نے مغفرت خدائی کو پسند کیا تو اللہ پاک نے چند روزہ امانت کی بندش کو بھی معاف فرما دیا۔

سورت برأت میں آپ کو صَاحِبہٖ صاحبِ پیغمبرﷺ فرمایا جو صرف آپ ہی کے ساتھ مخصوص ہے اور ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ فرمایا یعنی دونوں میں سے دوسرا اگر حضورﷺ اول ہیں تو حضرت ابوبکر صدیقؓ ثانی ہیں قرآن کا فیصلہ واضح ہے اپنے مقام پر تفصیل گزر چکی ہے۔ 

امرِ دوم: کے لحاظ سے بھی افضلیت واضح ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا مقصد بعثت عباد کا قیام ہی ہوتا ہے نماز بالاتفاق سب سے افضل ہے اور امامت سے ہی کامل ادا ہوتی ہے حضورِ اکرمﷺ نے سنی شیعہ احادیث اور تایخی حقائق کی روشن میں آپؓ ہی کو امام نماز بنایا تو آپؓ ہی سب سے افضل ہوئے دوسری اہم عبادت حج ہے جو مالی اور جسمانی عبادت سے مرکب ہے اس میں بھی امیر و پیشوا کی ضرورت ہوتی ہے امیر حج بھی حضورِ اکرمﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی کو بنایا احادیث و تاریخ سے یہ حقیقت بھی نا قابلِ انکار ہے۔

ابنِ اسحاق نے کہا کہ رسول اللہﷺ بقیہ رمضان شوال و ذی قعده کے پورے دو ماہ مقیم رہے پھر 9ھ کے لیے حضرت ابوبکرؓ کو امیرِ حج بنا کر بھیجا کہ وہ جاکر مسلمانوں کے حج کا انتظام کریں بہرحال حضرت ابوبکرؓ اور وہ مسلمان جو ان کے ساتھ جانے والے تھے مکہ کے لیے روانہ ہوگئے۔

(سیرت ابنِ ہشام: جلد، 2 صفحہ، 654)

پھر سورت براۃ نازل ہوئی اس کی آیات پیش کرنے کے بعد اعلانِ برات کے عنوان سے لکھا ہے:

ابنِ اسحاق نے کہا مجھ سے حکم بن حکیم بن عبد بن حنیف نے ابو جعفر محمد بن علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کی روایت بیان کی کہ جب رسول اللہﷺ پر سورت برات نازل ہوئی اور اس وقت آپﷺ حضرت ابوبکرؓ کو حج کا انتظام کرنے کے لیے روانہ فرما چکے تھے تو آپﷺ سے کہا گیا یا رسول اللہﷺ! کیا اچھا ہو کہ آپ حضرت ابوبکرؓ کے پاس کسی کو برات کے لیے روانہ فرمائیں اس پہ آپﷺ نے فرمایا میری طرف سے یہ فرض کوئی انجام نہیں دے سکتا بجز میرے اہلِ خانہ میں سے ایک شخص کے اس کے بعد حضرت علیؓ بن ابی طالب کو بلایا اور فرمایا:

اخرج بهذه القصة من صدر براءة واذن فی الناس يوم النحر اذا اجتمعوا بمنى انه لا يدخل الجنة كافی ولا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عريان ومن كان له عند رسول اللهﷺ عهد فهو الى مدته۔

ترجمہ: شروع سورت برات سے اس قصہ کو لے جاؤ اور عید کے دن لوگوں میں جب کہ وہ منیٰ میں جمع ہوں یہ اعلان کرو کہ کافر جنت میں داخل نہ ہوگا اور اس سال کے بعد مشرک حج نہ کرے گا اور بیت اللہ کا ننگے طواف نہ کرے گا جس کا حضورِ اکرمﷺ کے ساتھ معاہدہ ہے وہ تا مدت بحال رہے گا۔

چنانچہ اس سال کے بعد کسی مشرک نے حج نہ کیا اور نہ کسی نے برہنہ ہوکر بیت اللہ کا طواف کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کے پاس واپس آگئے (سیرت ابنِ ہشام: صفحہ، 558) 

کچھ آگے یہ بھی ہے کہ جب سیدنا علیؓ سیدنا ابوبکرؓ کو جا ملے تو آپ نے پوچھا امیر ہو کر آئے ہو یا مامور بن کر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مامور ہو کر ہاں سورت برات نازل ہوئی ہے تو اعلانِ برات حضورﷺ نے میرے ذمہ لگایا ہے۔

جیسے صحیح بخاری: جلد، 2 صفحہ، 671 کتاب التفسیر میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ اس سال مجھے بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یوم النحر میں ان اعلان کرنے والوں میں منیٰ بھیجا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ ننگے طواف کرے حمید کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت علیؓ بن ابی طالب کو یہ حکم دے کر بھیجا کہ برأت کا اعلان کریں حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ہمارے ساتھ اہلِ منیٰ میں نحر کے دن برأت کا اعلان کیا یعنی سورت برأت کا اول ربع سنایا اور یہ بھی کہا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک نہ حج کرے نہ ننگے طواف کرے۔

اس سے یہ بھی معلوم علوم ہوا کہ حضرت ابوبکرؓ بدستور امیرِ حج رہے ان کا منصب ان سے نہیں لیا گیا البتہ قومی دستوں کی بنا پر نقض معاہدہ کا اعلان حضورﷺ نے اپنے بجائے حضرت علیؓ سے کروایا جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ کو معزول کیا گیا یا ان میں سورت برأت کی تبلیغ کی بھی اہلیت نہ تھی وہ بڑے بے انصاف اور حقائق کے منکر ہیں معتصب شیعہ بھی اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جب ث ابوبکرؓ حضورِ اقدسﷺ کے پاس واپس آئے تو پوچھا یا رسول اللہﷺ میرے متعلق کوئی نئی بات ہوئی تو آپ نے فرمایا تجھ میں بدستور نیکی ہی ہے لیکن مجھے یہ حکم ملا ہے کہ اس نقض عہد کی تبلیغ یا میں کروں یا جو میرا رشتہ دار ہو۔ 

(کشف الغمہ: صفحہ، 411)

امرِ سوم: کے لحاظ سے بھی حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ و حضرت عثمانؓ حضرت علیؓ سے افضل ہیں کیونکہ سب صحابہ کرامؓ (کلاس پیغمبرﷺ کے طلباء) نے ان تینوں حضرات پر بالترتیب اتفاق کیا۔ شیعہ سنی حوالہ جات مذکور ہوچکے ہیں۔ عہد نبوی ہی میں اسی ترتیب سے ان کو دیکھا جاتا تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ صدیق اور ثانی اثنین کے لقب سے اور سیدنا عمرؓ فاروق اور ناطق الملک علی لسانہ کے لقب سے عہد نبوی میں ہی مشہور تھے (رجال کشی)

حضورِ انورﷺ بھی ان کو اسی ترتیب سے بلاتے تھے مثلاً حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے بحکمِ وحی سیدہ فاطمہؓ کا حضرت علیؓ سے نکاح کرنے کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اسی طرح بلایا:

فانطلق فادع لى ابابكرؓ و عمرؓ و عثمانؓ وعلياؓ وطلحةؓ والزبيرؓ و بعددهم من الانصار۔ 

(وكشف الغمہ: صفحہ، 470)

ترجمہ: جا اور میرے لیے ابوبکرؓ عمرؓ عثمانؓ علیؓ طلحہٰؓ اور زبیرؓ کو بلالا اور اتنے ہی انصار حضرات کو بلاتے آ۔

صفحہ 2 از 17