اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نہ ماننے والا جہنمی…

اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نہ ماننے والا جہنمی ہے تو اس سیدہ کا قاتل کیونکر رضی اللہ عنہ رہ سکتا ہے۔ مہربانی کر کے تاریخِ اسلام: جلد، 2 صفحہ، 44 نجیب آبادی ملاحظہ کر کے فتویٰ صادر فرمائیں۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 4

 بعض مؤرخین نے یہ الزام لگایا ہے کہ حضرت طلحہٰؓ کو جنگِ جمل میں اس نے شہید کیا تھا ہماری تحقیق میں یہ الزام بھی غلط ہے کیونکہ مردان کٹر عثمانی اور طالبِ قصاصِ عثمانؓ تھا سیدنا طلحہٰؓ اسی مقصد کے لیے کمان کر رہے تھے ایک مشخص عمداً ایسے موقعہ پر اپنے ہی سالارِ لشکر کو مار ڈالے عقل و نقل کے خلاف ہے لیکن اس واقعہ کی صحت و غلطی سے قطع نظر مروان پر کسی نے اس الزام کا ذکر نہیں کیا کہ وہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا بھی قاتل ہے تمام مؤرخین اور علماءِ رجال سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے تذکرہ میں یا مروان کے ترجمہ میں اس کا اشارہ بھی نہیں کرتے۔ 

حافظ ابنِ حجر تقریب التہذیب: صفحہ، 332 پر بغیر کسی تنقید کے یہ لکھتے ہیں 64ھ کے آخر میں خلیفہ بنا اور 65ھ میں 61 سال کی عمر میں وفات پائی اس کا صحابی ہونا ثابت نہیں طبقہ ثانیہ کا تابعی ہے اور ابنِ حجرؒ نے مقدمہ فتح الباری: صفحہ، 443 پر اسماعیلی کا قول قتلِ سیدنا طلحہٰؓ کا مروان پر الزام کا ذکر کیا ہے اور بشرطِ صحت اسے متاول قرار دیا ہے لیکن قتلِ عائشہؓ کا الزام اس پر نہیں لگایا۔ 

علامہ سید سلیمان ندوی المتوفىٰ 1952ء نے سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی سیرت پر تین سو صفحات کی مفصل علمی کتاب لکھی ہے اس کے صفحہ، 153 پر تذکرہ وفات کا عنوان باندھ کر طبقاتِ ابنِ سعد صفحہ، 51 جزء نساء کے حوالہ سے لکھا ہے۔

 58ھ میں رمضان کے مہینہ میں بیمار پڑیں چند روز تک علیل رہیں کوئی خیریت پوچھتا تو فرماتیں میں اچھی ہوں جو لوگ عیادت کو آتے بشارت دیتے تو فرماتیں جیسے ہر متقی کہا کرتا ہے کاش میں جنگل کی ایک بوٹی ہوتی۔

 اگر ایسی کوئی لغو افواہ ہوتی تو علامہ صاحب اس کا ضرور ذکر کرتے اللہ تعالیٰ روافض کی زبان سے ہر مسلمان کو بچائے۔


صفحہ 4 از 4