اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نہ ماننے والا جہنمی…

اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نہ ماننے والا جہنمی ہے تو اس سیدہ کا قاتل کیونکر رضی اللہ عنہ رہ سکتا ہے۔ مہربانی کر کے تاریخِ اسلام: جلد، 2 صفحہ، 44 نجیب آبادی ملاحظہ کر کے فتویٰ صادر فرمائیں۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 4

 4: لوگ حضورﷺ کی خدمت میں ہدایا اس دن زیادہ بھیجتے جس دن حضرت عائشہؓ کی باری ہوتی ایک مرتبہ تمام ازواج کے مشورہ سے حضرت امِ سلمیٰؓ نے آپ سے عرض کی حضرت لوگوں سے فرمائیں کہ وہ ہدیے جہاں بھی ہوں بھیج دیا کریں حضورِ اکرمﷺ نے بار بار اس بات سے اعراض فرما کر بالآخر یہ فرمایا:

 يا ام سلمة لا توذينی فی عائشة فو الله ما نزل على الوحی وانا فی لحاف امرأة منكن غيرھا۔

(بخاری: جلد، 1 صفحہ، 532)

ترجمہ: اے سیدہ امِ سلمہٰؓ سیدہ عائشہؓ کے بارے میں مجھے مت ستا خدا کی قسم اس کے سوا تم میں سے کسی کے ساتھ بیٹھے ہوئے مجھ پر وحی نہیں اتری۔ 

ذاتی حالات و علمی خدمات:

نسب یہ ہے حضرت عائشہ صدیقہؓ بنتِ ابوبکر صدیقؓ بن ابو قحافہؓ آپ کی ماں سیدہ امِ رومان بنتِ عامر بن عویمر بن عبد شمس ہے آپ نے آنحضرتﷺ سے بہت زیادہ احادیث روایت کی ہیں اور حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت فاطمہؓ سے بھی احادیث روایت کی ہیں آپ سے لا تعداد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعینؒ نے روایت کی ہیں جن میں حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابنِ عباسؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت عمرو بن العاصؓل سائبؓ بن یزید عبد اللہ بن زبیرؓ، عروہ بن زبیرؓ رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔

جب مسروق تابعیؒ آپ سے روایت کرتے تو کہتے مجھ سے حضرت عائشہ صدیقہؓ بنتِ ابوبکر صدیقؓ بعینہ حبیب اللہ تعالیٰ نے حدیث بیان کی جس کی سات آسمانوں سے برأت کی گئی ہے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ جیسے زبردست فقیہ عالم صحابی کہتے ہیں اصحابِ محمدﷺ جب کسی مشکل مسئلے میں اٹکے اور حضرت عائشہؓ سے جا کر ہم نے پوچھا تو یقیناً اس کا جواب اور حل ہم نے ان کے پاس پایا قبیصہ بن ذویب کہتے ہیں حضرت عائشہؓ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بہت بڑی عالمہ تھیں آپ سے چھوٹے بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسائل پوچھتے تھے خصوصاً علمِ فرائض و میراث میں امام زہریؒ کہتے ہیں اگر تمام ازواجِ مطہرات اور دیگر سب عورتوں کا علم ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے میں صرف حضرت عائشہؓ کا علم رکھا جائے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا زیادہ ہوگا حضرت عمرو بن العاصؓ نے ایک مرتبہ حضورﷺ‎ سے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ کون شخص پسند ہے فرمایا حضرت عائشہؓ میں نے کہا مردوں میں سے کون سب سے زیادہ پیارا ہے فرمایا اس کے والدہ حضرت ابوبکر صدیقؓ آپ کی وفات رمضان 58ھ میں ہوئی اور رات کو دفن کرنے کی وصیت کی تھی حضرت ابوہریرہؓ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔

(تہذيب التہذيب مختصراً)

 الغرض آپ کے فضائل و مناقب لا تعداد ہیں 9 سال کی عمر میں آپ کو شرفِ زوجیت الرسولﷺ‎ حاصل ہوا اور 18 سال کی عمر میں آپ کی گود میں حضورﷺ‎ کا وصال ہوا آپ نے آخری مرتبہ مسواک دانتوں سے چبا کر حضورﷺ‎ کو کروایا آپ ہی کے حجرہ کو مدفنِ نبوی ﷺ اور روضہ اقدس ہونے کا شرف حاصل ہوا سیدنا ابو ہریرہؓ کے بعد سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر آپ سے ذخیرہ علم و احادیث 2200 کی تعداد میں مروی ہے گویا ایک چوتھائی علم سے زائد فقط آپ نے حضورﷺ سے روایت کیا ہے اور اسم بامسمیٰ ام المؤمنین تھیں کیونکہ جیسے باپ کماتا ہے اور ماں اس کمائی کو انتظام و سلیقہ کے تحت اولاد کو کھلاتی پلاتی اور پرورش کا حق ادا کرتی ہے اسی طرح ام المومنینؓ نے نے حضورﷺ کی احادیث اور شریعت کو نہ صرف مؤمنین تک پہنچایا بلکہ تفقہ استنباط اور استدلال کا بہترین ذخیرہ تیار کر کے اپنی مؤمنین اولاد کے سامنے دسترخوانِ نبویﷺ پر چن دیا اب جو واقعی اولاد ہے وہ اپنے ماں باپ پر مطمئن ہو کر ان کے دسترخوان سے کھانا کھاتی ہے اور جو لے پالک اور دعی قسم کی ہے وہ اس دسترخوان سے ناک بھوں چڑاتی ماں پر اعتراض کرتی اور غیروں کے آگے دریوزہ گری کرتی ہے ہر چیز اپنے اصل کی طرف جاتی ہے۔

قتل کا سانحہ غلط ہے:

 معترض صاحب نے تاریخ نجیب آبادی سے جو نشاندہی کی ہے کہ مروان بن حکم نے آپ کے لیے کھانے کی دعوت تیار کی ایک کنواں کھدوا کر اس میں تلواریں اور تیر رکھے اوپر معمولی سا چھپر بنا کر سیدہ ام المومنینؓ کو بٹھانے کا انتظام کیا جب آپ وہاں گئیں تو کنویں میں گر گئیں اور اسی سے وفات پائی یہ بالکل غلط ہے کسی مؤرخ اور صاحبِ علم کی اس پر شہادت نہیں مل سکتی نجیب آبادی صاحب زمانہ حال کے اردو مؤرخ ہی۔ نہ معلوم انہوں نے یہ قصہ کہاں سے لیا ہے حوالہ بالکل نہیں دیا سنسنی خیز اور تعجب انگیز ہونے کی وجہ سے بلا رد و قدح لکھ دیا معترض صاحب کو کسی قدیم مأخذ کا حوالہ دینا چاہیئے سیدہ ام المومنینؓ، معلمہ امت اور حبیبہ حبیب رب العالمین ہیں اگر یہ اچانک حادثہ ان کی وفات کا سبب ہوتا تو یقیناً تواتر سے منقول ہوتا جب کہ سانحہ کربلا کی طرح حضرت عائشہؓ کا تذکرہ ہزاروں کتب میں پایا جاتا ہے اگر ایسا ہوتا تو سب مؤرخین اس کا ذکر کرتے اور قاتل پر لعنت بھیجتے مدینہ طیبہ میں کہرام مچ جاتا اہلِ مدینہ مروان کو کبھی زندہ نہ چھوڑتے اور واقعہ حرہ کا سا حشر برپا ہوتا فرض کیجیئے مروان بن حکم سے یہ کمینگی ہوئی تو خلیفہ وقت حضرت امیرِ معاویہؓ تو شیعہ کے خیال میں بھی سیدہ ام المومنینؓ کے ساتھی اور حامی تھے کیا وہ مروان کی گُدی نہ کھینچ دیتے حقیقت یہ ہے کہ مروان سے شیعہ کو جو ضد و عناد ہے اسی نے ان کے اسلاف کو بے سروپا عقل و نقل کے خلاف قصہ گھڑنے پر مجبور کیا ہے تاکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بھی بدنامی ہو جو اسلام دشمنوں کا شروع سے شعار چلا آرہا ہے مروان متفقہ طور پر صحابی نہیں بیشتر اقوال میں تابعی ہیں بعض نے ان پر نقد و جرح بھی کی ہے مگر وہ ایسی ہی بے سروپا کہانیوں کے پروپیگنڈہ اور حقیقتِ حال سے بے خبری پر مبنی ہے ان سے امام بخاریؒ امام ترمذیؒ ابو داؤدؒ، ابنِ ماجہؒ اور نسائیؒ وغیرہم جیسے محدثین مصنفین نے احادیث روایت کی ہیں اور حضرت سہلؓ بن سعد جیسے بزرگ صحابی کے علاؤہ حضرت عروة بن زبیر حضرت علی بن الحسين حضرت ابو بكر بن عبد الرحمٰن بن الحارث جیسے فاضل تابعین نے احادیث روایت کی ہیں۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 10)

صفحہ 3 از 4