اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نہ ماننے والا جہنمی…

اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نہ ماننے والا جہنمی ہے تو اس سیدہ کا قاتل کیونکر رضی اللہ عنہ رہ سکتا ہے۔ مہربانی کر کے تاریخِ اسلام: جلد، 2 صفحہ، 44 نجیب آبادی ملاحظہ کر کے فتویٰ صادر فرمائیں۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 4

3: کاملین بھی بدزبانوں کے حملہ سے نہیں بچ سکتے اور انجام کار ان کے حق میں مفید ہوتا ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام اور بنی اسرائیل کے راہب پر بدکاری کی تہمت لگی تھی اور ان کی برأت خاندانِ زلیخا کے بچے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور نومولود بچے نے دی تھی اسی طرح سیدہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ پر منافقوں نے تہمت لگائی تھی تو سابقہ برأتوں سے بڑھ کر خود خدا تعالیٰ نے برأت کی اور سورت نور کے 2 رکوع صرف اسی برأت کے لیے اتارے تمام مفسرین اور محدثین اس واقعہ پر متفق ہیں اللہ نے متنبہ کر کے فرمایا:

اللہ تم کو نصیحت فرماتا ہے کہ اس قسم کی ایمان و کردار میں عیب لگانے والی بات دوبارہ کبھی نہ کرنا اگر تم مؤمن رہنا چاہتے ہو۔

4: اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت پیغمبرﷺ اور آپ کی زوجہ مطہرہ میں مناسبت و مطابقت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ‌ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِ‌ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ‌ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ۞

(سورۃ النور: آیت 26)

ترجمہ: گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق اور پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لائق ہیں، اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لائق یہ پاکباز مرد اور عورتیں ان باتوں سے بالکل مبرا ہیں جو یہ لوگ بنا رہے ہیں ان پاکبازوں کے حصے میں تو مغفرت ہے اور باعزت رزق۔

یعنی اگر تمہارے اعتقاد میں پیغمبرِ اکرمﷺ پاک ہیں تو ان کی بیویاں بھی پاک ہیں ان کے ایمان و کردار پر شبہ کرنا روا نہیں اور اگر العیاذ باللہ آپ کی بیویاں ایمان و کردار کے لحاظ سے گندی ہیں تو پیغمبرِ اکرمﷺ پر بھی حرف آتا ہے ایسی ازواج زوجات الرسولﷺ بننے کے بجائے گندے لوگوں کے عقد میں آتیں ازواجِ الرسول اور امہات المؤمنین کے دشمن ان چار آیات پر غور کریں کیا وہ ان کے حق میں بدگوئی کر کے مسلمان رہ سکتے ہیں یہ کس قدر واضح بات ہے کہ بیوی کا رشتہ اس قدر محبوب اور اس قدر نازک ہوتا ہے کہ اس کے دفاع اور حرمت کی خاطر قریب ترین رشتہ داروں سے بھی دشمنی ہو جایا کرتی ہے اور انسان کے جذبات نازک صورت اختیار کر جاتے ہیں سخت ترین کفار کو بھی اس کمینگی کی جرأت نہ تھی کہ وہ حضورﷺ کی ازواجِ مطہرات کے متعلق نازیبا بات کہتے حالانکہ انہوں نے آپ سے دشمنی اور ایذاء رسانی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا تھا مگر نہایت افسوس کی بات ہے کہ پیغمبرِ اکرمﷺ پر ایمان کا مدعی ایسا ٹولہ بھی ہے جو حضور پاکﷺ کی پاک بیویوں کے ایمان و کردار پہ پاگل جانور کی طرح چھوٹ چھوٹ کر حملے کرتا ہے حالانکہ ایسی معمولی سی بات اگر ان کی بیویوں کے متعلق کوئی کہہ دے خواہ وہ کتنے گھٹیا اور اوباش قسم کے ہوں تو وہ لڑائی دنگے پر اتر آئے مگر سرکارِ دو عالمﷺ جن کی عزت و حرمت پہ دونوں جہان قربان ہو سکتے ہیں کی پاک حرم کے لیے وہ ہر قسم کی بدگوئی ایمان سمجھتا ہے ہم اس پہ اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ ایسے لوگ کمینگی میں کفار سے بھی بدتر ہیں اور خدا اور رسولﷺ کی لعنتیں ان کے مذہب پر اعمال پر اور عقائد پر برستی رہیں۔ 

اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ۞

(سورۃ الاحزاب: آیت 57)

ترجمہ: جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ 

 اسی طرح جو نام نہاد نعرہ بازی اور مرثیہ خوانی کے شوقین سنی ان لوگوں کی مجلسوں کی رونق کو دوبالا کرتے ہیں اور طنزاً و کنایتاً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و امہات المومنینؓ اہلِ بیتِ نبویﷺ کے گلے سنتے ہیں وہ ہر غیرت سے یکسر محروم ہیں کہا جاتا ہے کہ یہ بدگوئی اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ آپ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جنگ کی حالانکہ یہ سب قاتلانِ عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ منافقوں کی سازش تھی تو واضح رہے کہ سیدنا علیؓ نے جنگ کے بعد فرما دیا تھا ولها بعد حرمتها الأولىٰ۔ (نہج البلاغہ: جلد، 2 صفحہ، 63)

اس کے بعد بھی ان کی وہی عزت ہے جو پہلے تھی گویا اس واقعہ کے بعد بھی بنصِ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ایمان اور مقام میں فرق نہیں آیا جیسے سچے محبانِ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اہلِ سنت و الجماعت کا مذہب ہے جنگِ جمل کے بعد دو شخصوں نے سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو برا بھلا کہا تھا تو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کو 100، 100 درے سزا دی پھر رخصت کرنے کے لیے چند میل تک خود مشایعت کی اس کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ و حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا مکہ سے ہوتی ہوئیں مدینہ تشریف لے گئیں۔ 

(طبری و ابنِ اثیر)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مقام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں:

 بخاری شریف کی چند احادیث ملاحظہ ہوں:

 1: ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے عائشہؓ یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کھڑے ہیں آپ کو سلام کہتے ہیں میں نے کہا وعلیہ السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ حضور! آپ جبرئیل علیہ السلام کو دیکھتے ہیں، میں نہیں دیکھتی۔ 

2: سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مردوں میں سے بہت سے حضرات کامل ہو گزرے ہیں مگر عورتوں میں سے سوائے مریم بنتِ عمرانؑ اور آسیہ زوجہ فرعون کے کوئی کامل نہیں ہوئی ہاں سیدہ عائشہؓ کی فضیلت سب عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی سب کھانوں پر۔

ثرید عرب کے اس مرغوب کھانے کا نام ہے جو گوشت اور روٹی سے چوری بنا کر کھایا جاتا ہے۔

3: حضورﷺ مرضِ موت میں سب ازواج کے ہاں باری باری رہتے تو فرماتے میں کل کہاں ہوں گا کل کہاں ہوں گا سیدہ عائشہؓ کے گھر کے شوق میں یہ کہتے جب سیدہ عائشہؓ کی باری پہنچی تو آپ مستقل یہیں ٹھہر گئے اور وفات پائی اور اسی حجرہ کو روضہ اقدس بننے کا شرف حاصل ہوا۔

صفحہ 2 از 4