مفتی محمد ذو الفقار خان نعیمی ککرالوی رحمۃ اللہ کا فتویٰ -…

مفتی محمد ذو الفقار خان نعیمی ککرالوی رحمۃ اللہ کا فتویٰ


صفحہ 6 از 6

10: مقرر کی درج بالا ہفوات و مزخرفات یقیناً شیعہ مذہب کی طرف مائل ہونے کی گواہی دے رہی ہیں۔ عید غدیر خم کبھی نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے منائی نہ کسی تابعی نے، نہ کسی مجتہد نے، نہ کسی عالم و فقیہ نے، اور نہ کہیں اہلِ سنت مناتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ عید غدیر خم اہلِ تشیع کا شعار ہے، اہلِ سنت کا نہیں۔ یوم غدیر اہلِ تشیع کی عید اکبر ہے۔ اور اس کو وہ خاص اس لیے مناتے ہیں کہ ان کے مطابق اس دن سیدنا علیؓ کو خلافت بلا فصل ملی تھی بلکہ امامت کے بھی قائل ہے۔ نیز یہ بھی مشہور ہے کہ اس دن چونکہ سیدنا عثمان غنیؓ کی شہادت ہوئی تھی اس لیے وہ اس دن جشن مناتے ہیں۔ یہ ساری وجوہات ہو سکتی ہیں۔ البتہ اصل وجہ سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل اور امامت ہے۔ اس عید غدیر کا بانی عراقی شیعہ حاکم معزالدین احمد بن ابویہ دیلمی ہے۔ سب سے پہلے اس نے رافضیوں کے ساتھ 18 ذی الحجہ 352 ہجری کو بغداد میں عید غدیر منائی۔ 

حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ تحفہ اثناء عشریہ کے صفحہ نمبر 390 پر فرماتے ہیں کہ عید غدیر نکال بیٹھے ہیں، ذی الحجہ کی اٹھارویں تاریخ اس کو مناتے ہیں، عید الفطر و عید الاضحیٰ ہر دو پر اس کو فضیلت دیتے ہیں ، اس لیے عید اکبر اس کا نام رکھا ہے۔ یہ حکم بھی شریعت کے صریح مخالف ہے۔

الحاصل: عید غدیر اہلِ تشیع کا مذہبی شعار ہے اور کسی کافر قوم کے مذہبی شعار کو اپنانا یقیناً تشبہ کے درجہ میں آتا ہے جس کے بارے میں حضور اکرمﷺ نے فرمایا من تشبه بقوم فهو منهم جس نے کسی قوم سے مشابہت کی وہ انہیں میں سے ہے۔

الغرض: سوالات میں مندرج عبارات میں اکثر عبارات رفض زدہ ہیں، اور سخت ضلالت و کفر پر مشتمل ہیں۔ اور دو عبارات میں تاویل بعید کا احتمال ہے لیکن اس کے ظاہری پہلو پر نظر کرتے ہوئے اسے بھی کفر مانا جائے گا جیسا کہ ہم پیچھے لکھ آئے ہیں۔

لہٰذا مقرر موصوف پر لازم ہے کہ توبہ تجدیدِ ایمان تجدیدِ نکاح اور تجدیدِ بیعت کرے۔ اور جس طرح ان جملوں کو استعمال کیا ہے اسی طور پر توبہ بھی کرے۔ مطلب یہ کہ اگر اعلانیہ ان جملوں کا ارتکاب کیا ہے ظاہر ہے تقریر ہے تو اعلانیہ ہی کیا ہو گا تو اسی طرح اعلانیہ توبہ لازم ہے۔ حضور اکرمﷺ فرماتے ہیں کہ جب تو کوئی گناہ کرے تو فوراً توبہ کر، پوشیدہ کی پوشید اور ظاہر کی ظاہر۔

اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ جس طرح اس مذہب خبیث کا اعلان کیا ہے ویسے ہی توبہ رجوع کا صاف اعلان کریں کی توبہ نہاں کی نہاں ہے اور عیاں کی عیاں۔

اس سب کے بعد اپنی عورتوں سے تجدیدِ نکاح کریں کہ کفر خلافی کا حکم یہی ہے۔ علامہ حسن شرن لالی شرح وہانیہ پھر علائی شرح تنویر میں فرماتے ہیں کہ جو بالاتفاق کفر ہو اس سے اعمال، نکاح باطل ہو جاتے ہیں، تمام اولاد، اولاد زنا قرار پا جاتی ہے اور جس میں اختلاف ہو وہاں استغفار، توبہ اور تجدیدِ نکاح کروایا جائے گا۔ اور جب تک زید توبہ تجدیدِ ایمان وغیرہ نہ کر لے تب تک لوگ اس سے مذہبی سماجی ہر طرح کا بائیکاٹ رکھیں۔ اسے کسی جلسہ میں مدعو نہ کریں اس کی تقریریں نہ سنیں۔ الله تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں

وَاِمَّا يُنۡسِيَنَّكَ الشَّيۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ۞

(سورۃ الانعام: آیت نمبر 68)

علاؤہ ازیں خطیب موصوف کو مشورہ دیں کہ اہلِ تشیع کی کتابوں کا مطالعہ ہرگز ہرگز نہ کرے بلکہ اہلِ سنت کی تصانیف کا جلیلہ مطالعہ میں رکھے تا کہ خود بھی گمراہی سے محفوظ رہے اور عوام کو بھی محفوظ رکھ سکے۔ 

تنبيہ: مقرر موصوف کی تقریروں کے جو ویڈیو اور آڈیو مجھے بھیجے گئے ان میں سے جس قدر بھی سن سکا اس سے یہ اندازہ لگایا کی مقرر موصوف کی تقریریں رافضیت زدہ ہوتی ہیں۔ شیعی روایات کی اس قدر بھر مار ہے کہ کہیں کہیں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ مقرر موصوف اہلِ سنت سے ہیں یا کسی غیر مذہب سے۔

موضوع و من گھڑت واقعات و روایات یا تنازعہ فیها مسائل مقرر موصوف کی تقریر کا اصل چربہ ہے۔ علماء وفقہاء کے اجماع و اتفاق سے ہٹ کر موصوف اختراعی باتیں بیان کرنے میں میری معلوم ہوئے۔ اور اس طرح کی تقریریں یقیناً مسلمانوں کے ایمان کیلئے خطرہ ہیں۔ اس لئے مسلمانان اہلِ سنت پر لازم ہے کہ اس طرح کی تقریریں نہ سنیں اور کسی کو سننے نہ دیں۔

 تصديق فتوى بقلم مفتی جامعه نعیمیه مراد آباد 

مفتی محمد سلیمان صاحب جامعه نعیمیه مراد آباد

زید سے متعلق جو سوالات کیے گئے اور ان کے تفصیلی تحقیقی جوابات حضرت مفتی محمد ذوالفقار نعیمی صاحب نے دیے، وہ قرآن وحدیث و اقوال فقہاء کی روشنی میں اتم ہیں، اور براہین و دلائل سے مملو و مزین ہیں۔ اہلِ حق پر لازم ہے کہ وہ عمل کریں اور زید پلید کو جب تک توبہ تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح و تجدیدِ بیعت نہ کرے اپنی محافل دینی و دنیاوی سے دور رکھیں، اور خود بھی دور رہیں۔ اور فرمان رسولﷺ پر عمل پیرا رہیں ایاکم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونکم کے مصداق بنیں، کہ اسی میں سعادت دارین ہے، اور الحب في الله والبغض في الله کو اپنائیں۔

(فتاویٰ اتراکھنڈ: جلد، 2 صفحہ، 52)



صفحہ 6 از 6