مفتی محمد ذو الفقار خان نعیمی ککرالوی رحمۃ اللہ کا فتویٰ -…

مفتی محمد ذو الفقار خان نعیمی ککرالوی رحمۃ اللہ کا فتویٰ


صفحہ 5 از 6

یہ پوری روایت حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین پر مشتمل ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ یہ روایت شیعہ نظریات سے ماخوذ ہے۔

شیعہ مذہب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سیدنا علیؓ کی برتری و افضلیت ثابت کرنے کیلئے حضرت حلیمہؓ کے حوالہ سے ایک روایت بیان کی جاتی ہے جو قدرے طویل ہے لیکن یہاں بالضرورت نقل کی جاتی ہے۔ ملاحظہ کریں تحفہ اثناء عشریہ کے صفہ نمبر 113 پر حضرت مولانا شاہ عبد العزیزؒ رقم طراز ہیں

حلیمہ نے کہا کہ حجاج ایک دوسرا نکتہ بھی سن (حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سیدنا علیؓ کی برتری سے متعلق) کہ مریم بنت عمران کو جب دردِ زه لاحق ہوا تو وہ بیت المقدس میں تھیں۔ حکم الٰہی پہنچا کہ فوراً جنگل کا رخ کر اور وہاں کسی خشک کھجور کے درخت کے نیچے وضع حمل کر، تاکہ تیرے نفاس کی گندگی سے بیت المقدس نا پاک نہ ہو، حالانکہ سیدنا علیؓ کی والدہ کو جو بنت اسد تھیں جب دردِ زہ لاحق ہوا تو اُن کو وحی الٰہی پہنچی کہ کعبہ میں جا اور میرے گھر کو اس مبارک بچے کی پیدائش سے شرف یاب کر۔

اب ذرا انصاف کر! ان میں کون سا بچہ افضل و اشرف ہے؟ حجاج نے حلیمہ کے حق میں دعائے خیر کی اور عزت و احترام سے ان کو رخصت کیا۔

اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ رقم طراز ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا وہ محض لچر اور تاریخ کے لحاظ سے سراسر بے اصل ہے۔

کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت میں بہت بڑا اختلاف ہے، بعض کے نزدیک فلسطین میں ہوئی، بعض مصر میں مانتے ہیں اور بعض دمشق میں۔ مگر مشہور قول یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی ولادت بیت اللحم میں ہوئی۔ لیکن کسی مؤرخ نے یہ نہیں لکھا کہ حضرت مریم علیہا السلام کو بیت المقدس میں دردِ زہ لاحق ہوا۔ اور اگر بالفرض ایسا ہوا بھی تو یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ ان کو مسجد سے نکالا گیا بلکہ عبارت قرآنی صاف بتاتی ہے کہ ان کو دردِ زہ کی وجہ سے سخت بے چینی لاحق ہوئی انہوں نے چاہا کہ کسی چیز سے ٹیکا لیں اس لیے ویرانے کی طرف نکل کھڑی ہوئیں، چونکہ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا علوق قرار پایا تھا، اس لیے شرماتی تھیں، لا محالہ جنگل کا راستہ لیا، ایسی حالت میں جنگل کی طرف جانا اور بغیر کسی کی مدد کے وضع حمل کرنا چونکہ بہت دشوار تھا اس لیے بے اختیار موت کی آرزو کرنے لگیں جیسا کہ فرمایا فاجاءها المخاض الى جذع النخلة، قالت يليتني مت قبل هذا وكنت نسيا منسيا

اب یہ جو کہا ہے کہ فاطمہ بنت اسد کو وحی آئی کہ خانہ کعبہ میں جا کر وضع حمل کریں یہ در حقیقت ایک بے لطف جھوٹ ہے۔ اس لیے فرق اسلامیہ میں سے کوئی فرقہ ان کی نبوت کا قائل نہیں۔ پھر حجاج نے اس کو کیسے تسلیم کیا، یہ قابل تعجب ہے؟

مشہور روایت میں یوں آیا ہے کہ ایام جاہلیت میں یہ معمول تھا کہ رجب کی پندرھویں تاریخ کعبہ کے دروازے کھولتے اور اس مبارک گھر کی زیارت کیلئے اندر جاتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی اسی روز ہوئی تھی۔ اس لیے اس دن کو یوم الاستفتاح یا روز مریم کہتے ہیں۔ یہ رسم تھی کہ اس دن سے ایک دو دن پہلے عورتیں زیارت کعبہ کرتیں۔ اتفاق سے ایک انہیں عورتوں کی زیارت کے ایام میں فاطمہ بنت اسد نے بھی زیارت کا ارادہ کیا؟ اگرچہ مدت حمل پوری ہو چکی تھی، چونکہ یہ دن سال میں ایک ہی مرتبہ آتا تھا اس لیے ایسے دنوں میں حرکت دشوار ہونے کے باوجود رنج و مشقت سے خود کو کعبہ کے دروازے تک پہنچایا۔ اُس زمانہ میں کعبہ کا دروازہ ذمین سے قد آدم اونچا تھا اب بھی اگرچہ ایسا ہی ہے مگر اُس زمانے میں سیڑھی کا زینہ بھی تھا اب تو لکڑی کا زینہ بچوں کی گاڑی کی شکل کا بنا لیا ہے بوقتِ ضرورت اس کو دہلیز کعبہ سے لگا دیتے ہیں۔ چنانچہ اس سخت حرکت سے دردِ زہ اُٹھ کھڑا ہوا حضرت فاطمہؓ نے سوچا کہ کچھ دیر بعد جاتا رہے گا، میں زیارت کعبہ سے کیوں محروم ہوں۔

جیسے ہی وہ دروازے میں داخل ہوئیں درد کی شدت نے طول کھینچا اور پھر سیدنا علیؓ پیدا ہوئے درد کی و شدت اور اس کی مدت کھچ جانے سے اور کچھ مایوسی پیدا ہونے کے سبب ابو طالب طلب شفا ان کو کعبہ میں لے گئے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے فضل فرما دیا کہ جلد ولادت ہو گئی۔

خلاصہ کلام یہ کہ اگر خانہ کعبہ میں پیدا ہونے سے سیدنا علیؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہو جائیں تو وہ خود پیغمبر علیہ السلام سے بھی افضل ہوں گے۔ حالانکہ شیعہ و سنی ہر دو فریق میں سے کوئی اس کا قائل نہیں۔ اور صحیح تاریخوں میں ایسا ثابت ہے کہ حکیم بن حزام بن خویلد ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے بھی کعبہ میں پیدا ہوئے، مسلم شریف میں ہے قال مسلم بن الحجاج ولد حكيم بن حزام في جوف الكعبة یعنی حکیم بن حزام کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔

(مسلم شریف: کتاب البيوع باب الصدق في البیع والبيان)

تو چاہیے کہ وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلکہ تمام پیغمبروں سے افضل ہوں حالانکہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہیں۔

8: مقرر موصوف کو اہلِ تشیع کی روایات اور ان کے باطل و گمراہ کن عقائد و نظریات کافی حد تک ازبر ہیں۔ مقرر موصوف کا سیدنا علیؓ کو نفس رسول قرار دینا اور یہ کہنا کہ گویا کہ الله تعالیٰ انفسنا کہہ کر بتا رہا ہے کہ قالب تو دو ہیں اور روح ایک ہے، اس دو قالب کا نام ایک کا علی اور دوسرے کا محمد ہے، اور اس ایک روح کا نام علی مرتضیٰ ہے

گمراه کن جملہ ہے۔ اور اس جملہ سے کفریہ عقیدہ حلول کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے۔ یہ عقیدہ نظریہ بھی اہلِ تشیع کا ہے۔

9: یہ نظریہ بھی رفض زدہ اور کفر و ضلالت کی طرف منجر ہے۔ فرقہ شمسیہ کے بارے میں شاہ صاحبؓ تحفہ اثناء عشریہ کے صفحہ نمبر 19 پر لکھتے ہیں کہ

یہ کہتے ہیں کہ پانچوں در حقیقت شخص واحد ہیں کہ ایک ہی روح سب میں حلول کئے ہوئے ہیں

صفحہ 5 از 6