مفتی محمد ذو الفقار خان نعیمی ککرالوی رحمۃ اللہ کا فتویٰ -…

مفتی محمد ذو الفقار خان نعیمی ککرالوی رحمۃ اللہ کا فتویٰ


صفحہ 4 از 6

(تحفہ اثناء عشریہ کے صفحہ نمبر 578 پر اہلِ تشیع کے ہفوات کے تحت چھٹا ہفوہ بیان کرتے ہوئے حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ ہفوہ چھٹا یہ کہ اللہ تعالیٰ جلّ شانہ نے تمام انبیاء اور رسولوں علیہم السلام کو علی رضی اللہ عنہ کی ولایت کیلئے بھیجا تھا، در پردہ تمام نبیوں کے ساتھ اور ظاہر محمد مصطفیٰﷺ کے ساتھ جو اس کا انکار کرے وہ کافر ہو جاتا ہے، ابن طاؤسؒ اور دوسروں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اس ہفوات کو بیان کرنے کے بعد ان ہفوات کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ تمام ہفوات تمام شریعتوں کے مخالف نصوصِ قرآنیہ کی تکذیب کرنے والے اور کفر وزندیقیت کی جڑ اور بنیاد ہے۔

الغرض: مقرر موصوف کی تقریر کے مذکورہ الفاظ سے ظاہری طور پر انبیاء کرام علیہم السلام کی تنقیص شان اور غیر نبی کا ان سے برتر و اعلیٰ اور افضل ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ اور اس بات کے کفر ہونے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ تو اس لحاظ سے مقرر موصوف پر شرعا حکم کفر عائد ہوتا ہے۔

2: پنجتن کے نام کی برکتیں الگ، البتہ یہ کہنا کہ ان کے نام کے بغیر اللہ تعالیٰ جل شانہ کا نام بھی فائدہ نہ دے کا شریعت پر افتراء ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ کا نام بالذات موثر ہے، فائدہ پہنچانے میں کسی نام کا محتاج نہیں ہے۔ اس طرح کا جملہ بلا شبہ بارگاہ الہی کے تقدس کے خلاف ہے۔ نیز حضرت آدم علیہ السلام بحیثیت نبی کسی غیر نبی کے وسیلہ کے محتاج نہیں ہیں۔

انداز بیان سے حضرت آدم علیہ السلام پر حضرت علی حضرت فاطمہ اور حضرات حسنین کریمین کی فضیلت ظاہر ہو رہی ہے اور صاف پتہ چل رہا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام معاذ اللہ ان چاروں نفوس قدسیہ کے محتاج ہیں۔ اور مقرر کا یہ جملہ بھی اس کی وضاحت کر رہا ہے کہ آدم نے جو وسیلہ لیا تھا یہ یوں ہی نہیں لیا تھا بلکہ اس وقت تو یہ پنجتن آدم کی ضرورت تھے

اور اس میں یقیناً حضرت آدم علیہ السلام کی تنقیص نشان ظاہر ہے۔ اور کسی نبی کی توہین و تنقیص از روئے شرع کفر ہے۔ اعلیٰ حضرت ذخيرة العقبی کے حوالے سے فرماتے ہیں

یعنی بے شک تمام امت مرحومہ کا اجماع ہے کہ حضور اکرمﷺ خواہ کسی نبی کی تنقیص شان کرنے والا کافر ہے۔ خواہ اسے حلال جان کر اس کا مرتکب ہوا ہو یا حرام جان کر، بہر حال جمیع علماء کے نزدیک کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔

3: مقرر موصوف نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نہلانے میں نبی کے ہاتھ کے ساتھ خدا تعالیٰ جلّ شانہ کے ہاتھ کا ذکر کیا اور آیت متشابہ کو مستدل بناتے ہوئے آیت کو ظاہری معنیٰ پر محمول کیا ہے جس پر لفظ حقیقت صاف دال ہے۔ 

حالانکہ آیات متشابہ کے ظاہری معانی مراد لیا بالکل روا نہیں ہیں اور وہ بھی ایسے معانی جن سے خدا تعالیٰ جل شانہ کی ذات پاک و منزہ ہے بلاشبہ کھلی گمراہی بلکہ کفر ہے۔

4: مقرر موصوف کے یہ جملے سخت قبیح و شنیع ہیں۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بھکاری کہنا حضرت جبرائیل علیہ السلام جیسے مقدس فرشتہ کی ہتھک شان اور توہین ہے۔ اور فرشتوں کی تنقیص شان کا مرتکب عند الفقہاء کافر ہے۔

5: مقرر کے ان جملوں سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نبی کریمﷺ پر تقدم ثابت ہو رہا ہے، حالانکہ یہ سراسر گمراہی ہے، نبی کریمﷺ پہلے تن ہیں۔ ذاتی اعتبار سے سب سے اول ہیں۔ جیسا کہ حدیث پاک كنت نبيا و آدم بین الماء والطین اس پر شاہد ہے، اور جسمانی اعتبار سے بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اول ہیں۔ کیونکہ سیدہ فاطمہؓ کے والد ہیں۔ اس کا ظاہری مفہوم منجیر الی الکفر ہے۔ تاویل بعید سے گنجائش بھی نکال لی جائے تب بھی مقرر موصوف عند الفقهاء توبہ تجدیدِ ایمان وغیرہ کے حکم سے بچ نہیں سکیں گے۔

6: معاذ اللہ مقرر کے ان جملوں سے نبی کریمﷺ بلکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی بارگاہوں کا تقدس مجروح ہوتا نظر آرہا ہے۔ نبی کریمﷺ اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کیلئے اس طرح کے توہین آمیز جملے گستاخانہ انداز۔کے ساتھ بیان کرنا کسی مؤمن کی شان سے بعید ہے۔ کسی نبی کو فقیر قلاش بھکاری ہاتھ پھیلانے والا کہنا بلا شبہ توہین ہے، اس میں کسی طرح کی تاویل کفر کو فروغ دینے کے مترادف ہو گی۔ اور نبی کیلئے اس طرح کے نازیبا کلمات کے تعلق سے اعلیٰ حضرت نسیم الریاض کے حوالے سے رقم طراز ہے

اقول وبالله التوفيق توفیق جامع و تحقیق لامع یہ ہے کہ ان اوصاف کا اطلاق بروجہ تقریر و اثبات خواہ حکم قصدی میں ہو یا وصف عنوانی میں، اگر قول قائل کے سیاق یا سباق یا مساق سے طرز تنقیص ظاہر و ثابت ہو یقیناً کفر ہے اور اگر ایسا نہیں اور قائل جاہل ہے اور اس سے صدور نادر ہو اور وہ اس پر غیر مصر تو ہدایت و تنبیہ و زجر و تهدید کریں، اور حاکم شرع اس کے مناسب حال تعزیر دے کہ وہ ضرور سزاوار سزا ہے۔ اور اگر قائل مدعی علم ہے یا ایسے کلمات کا عادی یا بعد تنبیہ بھی ان پر مصر تو مریض القلب بد دین گمراہ اور مستحق عذاب شدید ہے، سلطان اسلام اسے قتل کرے گا اور زمین کو اس کی ہستی ناپاک سے پاک اور عام مسلمانوں کو اس کی صحبت و مجالست سے احتراز لازم اور اسے واعظ یا امام بنانا اس کا سننا اس کے پیچھے نماز ممنوع و حرام ہے۔ 

7: اس روایت میں مجموعی طور پر جھوٹ، افتراء اور حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین بھی لازم آرہی ہے۔ مقرر موصوف کا یہ کہنا کہ اللہ کے منادی نے اعلان کیا

یہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ اور الله تعالیٰ جل شانہ پر افتراء ہے۔ نیز یہ جملہ آج تک تو مسجد میں رہی لیکن اب بچے کی ولادت کا وقت ہے خبردار مسجدوں میں بچے پیدا نہیں ہوتے بچے کی پیدائش کا وقت ہے

پیغمبر کی پیدائش پر مسجد سے یہ کہہ کر نکالنا کہ مسجد میں بچے پیدا نہیں ہوتے اس کا ظاہری مفہوم نبی کی توہین کا مؤجب ہے۔ سیدنا علیؓ کی ولادت کے وقت کعبہ میں داخل ہونے کا حکم دینا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر کی ولادت کے وقت مسجد سے نکالا جانا کہ مسجد میں بچے پیدا نہیں ہوتے، کیا اس میں سیدنا علیؓ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر برتری نہیں ہے؟ بلا شبہہ ہے۔

صفحہ 4 از 6