مفتی محمد ذو الفقار خان نعیمی ککرالوی رحمۃ اللہ کا فتویٰ -…

مفتی محمد ذو الفقار خان نعیمی ککرالوی رحمۃ اللہ کا فتویٰ


صفحہ 3 از 6

الفاظ مقرر: علی کو کس حیثیت سے؟ انفسنا علی کو گویا کہ نبی نے نفس رسول قرار دیا نفس رسول آپ سمجھتے ہیں؟ نفس رسول سمجھتے ہیں؟ اور نفس رسول نفس رسول کا مطلب کیا ہے؟ نفس رسول کا مطلب کیا ہے؟ تو میں اور میں تو۔ اسی کو کہتے ہیں نفس۔ اسی کو کہتے ہیں نفس۔ میں تو، تو میں۔

حضور اکرمﷺ فرماتے ہیں علی! علی! انت، منی و انامنه دمّک دمیّ، لحمک لحمی تو مجھ سے ہے، میں تجھ سے ہوں۔ تیرا خون، میرا خون ہے اور تیرا گوشت میرا گوشت ہے۔ (سبحان اللہ سبحان اللہ) تو پتہ چلا جو قد نبی کا تھا وہی قد علی کا تھا۔ اور جو توازن نبی کے جسم کا تھا وہی علی کے جسم کا تھا۔

(یوم مباہلہ و یوم اعلان ولایت مولائے کائنات مالیگاؤں: 8 ستمبر 2017ء)

9: الفاظ مقرر جب آیتِ تطہیر نازل ہوئی تو حضور اکرم ﷺ نے اپنی کمبل کو حضور اکرمﷺ نے اپنی نوری چادر کو اللہ اکبر پھیلایا اور پھیلانے کے بعد کہا علی آجاؤ، فاطمہ آجاؤ، حسن آجاؤ، حسین آجاؤ، اور چاروں تن کو لے کر، آقا نے چاروں تن کو لے کر، ایک تن حضور اکرمﷺ کا ہے، توجہ فرمائیں! ایک تن حضور اکرمﷺ کا ہے، توجہ آپ کی، ایک تن حضور اکرمﷺ کا ہے دو تن حسنین کے ہیں دو تن علی و فاطمہ کے ہیں اس طرح یہ ہے پنجتن، یہ ہے پنجتن ہے، یہ عبا کے اندر ہے انہیں چار تن کے ساتھ انہیں چار تن کو آل عبا کہتے ہیں۔

اور یہ چار تن ہیں آپ غور فرمائیں چار تن کو ساتھ لیا اُم سلمہ وہ بھی آیتِ تطہیر میں شامل ہیں۔ آیت تطہیر ان کے گھر میں داخل ہوئی لیکن اُم سلمہ نے چادر لیا اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی، آقا نے چادر کھینچ لی، اور کہا اُم سلمہ خیر پر ہو آیت کی برکت تمہیں بھی ملے گی لیکن چادر میں آنا نہیں کیوں کیوں؟ حالانکہ آیت ان ہی کے گھر نازل ہوئی، ہمارا عقیدہ ہے آیتِ تطہیر میں امہاتُ المومنین اول درجہ پر ہے اس کے بعد قربان جائیے حضورﷺ نے چار تن کو لیا پانچواں تن نبی کا تھا نبی بتا رہے ہیں اس چادر کے اندر تن پانچ ہیں لیکن روح ایک ہے (سبحان الله سبحان الله) اسی لیے تو کہتے ہیں بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصود کائنات مقصود کائنات مقصود کائنات آقا سے اللہ نے فرمایا ہے حبیب تجھے پیدا کرنا نہ ہوتا تو کائنات کو پیدا نہ کرتا اگرچہ یہ چا رتن الگ ہیں لیکن ان میں روح، روح مصطفیٰ ہے روح مصطفیٰ ہے۔ (سبحان اللہ، سبحان الله)

(دوسرا دن محرم: 2013ء)

10: الفاظ مقرر 10 ہجری میں 18 تاریخ یعنی یہی جو کل کا دن آنے والا ہے اعلان کس نے کیا؟ اعلان کرنے والا نبی، کس کی ولایت کا اعلان ہوا؟ علی مرتضیٰ کی۔ اب سب سے پہلے منانے والا کون؟ سب سے پہلے ولایت علی منانے والا کون؟ غدیر خم پر مبارک باد دینے والا کون؟

(یوم مباہلہ و یوم اعلان ولایت مولائے کائنات، مالیگاؤں: 8 ستمبر 2017ء)

الفاظ مقرر: میں وہ کہہ رہا تھا نہ کہ سنی کمیٹی کو کوئی طعنہ نہ دے کہ یہ کیا ہو گیا؟ اور ولایت علی تو رافضی مناتے ہیں۔ اچھا! کب سے مناتے یہ؟ جن کو تم رافضی کہتے ہو؟ ذرا بتانا کب سے مناتے ہیں؟ نبی نے اعلان کیا تبھی تو کوئی منائے گا۔ پہلے اعلان کس نے کیا؟ اعلان کرنا نبی کی سنت ہے اور سب سے پہلے ولایت علی منانے والوں کے نام حدیث کی روشنی میں پیش کرتا ہوں یا رو! آپ کو پتہ نہیں ہے، آپ بہکوں میں الجھ گئے ہیں۔ ذرا اصل کی طرف آئیے۔ حقیقی سنیت کی طرف آئیے (سبحان الله سبحان الله) حقیقی سنیت کی طرف آئیے آپ۔

(یوم مباہلہ و یوم اعلان ولادت مولائے کائنات مالکیاؤں: 8 ستمبر 2017ء)

الفاظ مقرر: جب یہ اعلان نبیﷺ نے کیا سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے علیؓ مبارک ہو، مبارک ہو، تو میرا بھی مولا ہے اور سارے مؤمنین کا مولا ہے۔ پھر اس کے بعد عمر بن خطابؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے علی مبارک ہو مبارک ہو، تو میرا بھی مولا ہے سارے مؤمنوں کا مولا ہے۔ پتا چلا ولایت علی منانا رافضیت نہیں ہے صدیقیت اور فاروقیت ہے، صدیقیت اور فاروقیت ہے۔

(يوم مباہلہ و یوم اعلان ولادت مولائے کائنات مالکیاؤں: 8 ستمبر 2017ء)

الفاظ مقرر: نبی نے اعلان کیا تبھی تو کوئی منائے گا، اعلان کرنا نبی کی سنت ہے۔

(یوم مباہلہ و یوم اعلان ولادت مولائے کائنات مالکیاؤں: 8 ستمبر 2017ء)

الفاظ مقرر: اور ہم یہ یوم مباہلہ منا کر، یا شب اعلان ولایت علی منا کر، ہم دو ثبوت دے رہے ہیں۔ ایک تو اپنے حلالی ہونے کا، اور ایک تو اپنے ایمان والا ہونے کا (نعرہ حیدری! یا علی یا علی، نعره حیدری یا علی یا علی، نعره رسالت! یا رسول الله سبحان الله سبحان الله، حق ہے، سبحان الله)

(یوم مباہلہ و یوم اعلان ولادت مولائے کائنات مالکیاؤں: 8 ستمبر 2017ء)

جواب: سوالات مذکورہ میں درج باتیں اگر واقعی مقرر موصوف نے کہیں ہیں تو یقیناً وہ از روئے شرع سخت مجرم ہے۔ اس پر توبہ تجدیدِ نکاح تجدیدِ بیعت لازم و ضروری ہے۔ ہم پہلے یہاں بالترتیب سوالات کے جوابات پیش کرتے ہیں اور پھر مقرر موصوف کی گمراہ کن عبارات کا شرعی حکم نقل کرتے ہیں، ملاحظہ کریں۔

1: حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ جلّ شانہ نے اپنے دین کی تبلیغ کیلئے مبعوث فرمایا، نہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولایت کے ڈنکے بجانے کیلئے۔ اس میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی سراسر توہین ہے۔ اس میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے مبعوث ہونے کے اصل مقصد کا انکار بھی لازم آرہا ہے، اور اس میں بظاہر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام پر سیدنا علیؓ کی برتری بھی ثابت ہو رہی ہے۔ حالانکہ اہلِ سنت والجماعت کا اس پر اجماع ہے کہ کسی غیر نبی کو نبی پر فضیلت دینا ہرگز ہرگز جائز نہیں، بلکہ کفر ہے۔

علاؤہ ازیں یہ عقیدہ و نظریہ اہلِ تشیع کا ہے:

صفحہ 3 از 6