مفتی محمد ذو الفقار خان نعیمی ککرالوی رحمۃ اللہ کا فتویٰ -…

مفتی محمد ذو الفقار خان نعیمی ککرالوی رحمۃ اللہ کا فتویٰ


صفحہ 2 از 6

5: فاطمہ کون ہے؟ فاطمہ کون ہے، جو پنجتن میں پانچواں تن ہے۔ بلکہ یہ کہوں کہ پنجتن میں پہلا تن فاطمہ، لیکن میں نے چونکہ عورت ہونے کے حساب سے پانچواں بیان کیا۔ ترتیب کے اعتبار سے تو وہ پہلی ہے لیکن میں نے پانچویں نمبر پہ بیان کیا۔ یہ فاطمہ کون ہے؟ فاطمہ کون ہے؟ ایک جملہ میں منقبت فاطمہ۔

(محفل یوم مباہلہ و شب اعلان ولایت مولائے کائنات تعزیہ کمیٹی مالکیاؤں: 8 ستمبر 2017ء)

6: کائنات کو دینے والا رسول، کائنات کو دینے والا رسول، حجرہ فاطمہ میں ہاتھ پھیلا کر یوں داخل ہوتا ہے۔

(ذکر حسین و فضائل اہلِ بیت، مالیگاؤں: 17 اکتوبر 2016ء)

(حضور اکرمﷺ کے امام الانبیاء و مالک کل ہونے کے باوجود فقر کی وجہ بیان کرتا ہے) کیونکہ جس کے سر سے اتارا جاتا ہے اتارا اس کے ہاتھ میں نہیں دیا جاتا بلکہ قلاش، فقیر اور محتاج کے ہاتھ میں دیا جاتا ہے۔

قدرت نے اپنے خانہ خدا سے ایک بارات نکالی وہ معراج کے دولہے کی بارات تھی۔ زمین سے لے کر آسمان تک عرش سے لے کر فرش تک شرق سے لے کر غرب تک پوری کائنات لے کر محمد پہ یوں صدقہ کیا (نعرہ رسالت) (وارنے کا اشارہ) محمد سے یوں شمار کیا، یوں شمار کیا اور جو ضرورت مند کھڑے تھے سب کی جھولی بھر دی داؤد و سلیمان کو بادشاہ بنا دیا کسی کو تاجدار بنا دیا، ان کے ہاتھ میں رکھتا تو یہ محبت کی غیرت کے خلاف تھا اس لیے ان کو وہ نہیں دیا کیونکہ صدقہ جس کا ہے اس کو ہاتھ میں نہیں دیا جاتا۔

( ذکر حسین و فضائل اہلِ بیت مالیگاؤں: 17 اکتوبر 2016ء)

حضور وہ ہیں حسنِ یوسف جس کے دروازہ پر کاسنہ گدائی لحن داؤدی بھیک مانگے آدم کی صفوت و سطوت اس کے دروازے پہ خیرات مانگے ۔

( یوم مباہلہ و یوم اعلان ولایت مولائے کائنات مالیگاؤں: 8 ستمبر 2017ء)

7: علی کعبہ میں پیدا ہوئے، آج تک اندر پیدا ہونے کا شرف حاصل ہو صرف تنہا اس میں مولائے کائنات

شیر خدا علی مرتضیٰ کی ذات ہے۔

پوری کائنات میں ایک بندہ ہے جس کو کعبہ میں پیدا ہونے کا شرف حاصل ہے۔

یہ قدرت کے فیصلے تھے جس میں مولود کعبہ کی عظمت کو ظاہر کرنا تھا۔

اس سے پہلے سنایا جا چکا ہے، اس سے پہلے معلوم ہو چکا ہے، یہ بات پتہ ہے کہ مریم کعبہ کے اندر رہتی تھی۔ توجہ فرمائیں! مریم بتول کنواری پاک دامن جس کی پاکی کا اعلان قرآن کر رہا ہے وہ مریم بیت المقدس میں رہتی تو اس کنواری مریم کو جب بچہ کی پیدائش کا وقت آیا تو اللہ کے منادی نے اعلان کیا مریم تو بچپنے سے لے کر آج تک تو مسجد میں رہی لیکن اب بچے کی ولادت کا وقت ہے خبردار مسجدوں میں بچے پیدا نہیں ہوتے، بچے کی پیدائش کا وقت ہے۔ تو باہر آ، تو مریم جو مسجد میں رہتی تھی اس کو باہر نکلنے کا حکم ہوا اور مریم باہر نکلی تو جناب عیسیٰ کی ولادت ہوئی لیکن قربان جائیں ہم غیر نبی کو نبی کے برابر کا درجہ نہیں دیتے افضل تو دور کی بات ہے لیکن جب مریم کا بچہ پیدا ہونے کا وقت آتا ہے تو الله اكبر مسجد میں رہنے والی مریم کو باہر نکالا جاتا ہے لیکن جب علی کی ولادت کا وقت آتا ہے تو باہر رہنے والی فاطمہ بنت اسد کو اندر بلایا جاتا ہے۔

(جشنِ ولادت علی سنی دعوت اسلامی اجتماع: 2 مئی 2015ء ٹمپوسٹانڈ، ڈونگری ممبئی)

الفاظ مقرر: کائنات انسانی میں دو بتول ہیں، ایک مریم ایک فاطمہ، اللہ نے فاطمہ کو شوہر والی بنایا اور بچے عطا کیے لیکن مریم کو شوہر والی نہیں بنایا، بغیر شوہر کے بچہ دیا اللہ تیری حکمتوں پر قربان۔ تجھ پہ اعتراض تو کوئی نہیں کر سکتا، اعتراض کرے وہ مومن نہیں رہ جاتا۔ مولیٰ اگر تو نے مریم کو وہ شوہر دے دیا ہوتا تو مریم پر زنا کا الزام نہ لگتا بتول پہ یہ الزام لگا دینا تھا بتول پہ زنا کا الزام لگا اس لیے کہ تو نے شوہر کے بغیر بچہ اسے عطا کیا، جبرائیل کی پھونک سے عطا کیا، جبرائیل کے دم سے عطا کیا۔ مولیٰ شوہر دے دیتا تو زنا کا، جب تو نے بتول ہی بنانا تھا الزام سے بچ جاتی، حالانکہ تو نے قرآن اتار کر تو نے الزام دور کر دیا لیکن اتنے دنوں تک مریم کو گالیاں پڑتی رہیں عیسیٰ کو گالیاں پڑتی رہیں مولی شوہر دیتا تو اچھا ہوتا۔ قدرت کا نقیب آواز دے گا، نادان صرف دو ہی کو بتول بنایا ہے ۔ ایک مریم ایک فاطمہ مریم کا شوہر علی ہے۔ معاف کیجئے فاطمہ کا شوہر علی ہے فاطمہ کا شوہر علی ہے مریم کو شوہر دیتا نا اگر مریم کو شوہر دیتا تو انسان ہی ہوتا مریم کا شوہر بھی انسان ہی ہوتا۔ وہ کھڑے ہو کر سینہ تان کر محشر میں کہتا کہ علی کی بیوی بھی بتول ہے۔ اور میری بیوی بھی بتول ہے اور میں علی کے برابر ہوں اللہ نے فرمایا اگر مریم پہ الزام لگے گا قرآن نازل کر کے دور کر دوں گا لیکن علی کی برابری کی کسی کو اجازت نہیں دوں گا۔

(دوسرا دن محرم: 2013)

8: الفاظ مقرر تم خود آؤ، ہم خود آتے ہیں، آقا نے کہا علی تم بھی چلو، علی تم بھی چلو، کیوں چلو، اس میں بظاہر علی کا ذکر نہیں تو گویا کہ قرآن بتا رہا ہے انفسنا کہ یعنی ہم خود میں علی اور محمد عربی یہ دونوں ہیں ایک ہی ذات ہے۔ گویا کہ اللہ انفسنا کہہ کر بتا رہا ہے کہ قالب تو دو ہیں اور روح ایک ہے، اس دو قالب کا نام ایک کا علی اور دوسرے کا محمد ہے اور اس ایک روح کا نام علی مرتضی ہے انفسنا یہ دو جسم ایک جان جو کہتے ہیں اسی کا نام محمد و علی ہے۔

ہم یہ نہیں کہتے، ہم یہ نہیں کہتے کہ علی رسول ہے، یا رسول علی ہے، ہم حلول کے قائل نہیں لیکن آپ نے کہا ہے کہ نہ کہ محبت ایسی ہوتی ہے کہ تومن شدی تومن شدی من تو شدم تو تن ہو جا میں جان ہو جاؤں تو من ہو جا میں جان ہو جاؤ پھر کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ تو الگ ہے اور میں الگ ہو، اگر میں اس فنائیت کا جلوہ دیکھتا ہے تو قرآن کہتا ہے انفسنا علی کو رسول کی ذات میں وہ فنائیت حاصل تھی کہ اللہ نے حسین کا ذکر الگ کیا ہے سیدہ کا ذکر الگ کیا ہے اور علی اور رسول کا ذکر ایک ساتھ کیا ہے، یہ مولائے کائنات کی شان ہے یہ علی مرتضیٰ کا مرتبہ ہے۔

(شہادت مولا علی: 9 جولائی 2015ء مالیگاؤں مہاراشٹرا)

صفحہ 2 از 6