حادثہ جمل و صفین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حادثہ جمل و صفین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 10

مولانا شاہ معین الدین ندوی تاریخِ اسلام میں لکھتے ہیں تعمیری کاموں کے لحاظ سے آپ کا عہد آپ کے پیشروں کے مقابلے میں ناکام رہا اور یہ ان حالات کا لازمی نتیجہ تھا جن میں آپ کو منصب خلافت ملا تھا اور جو بعد میں پیش آتے رہے ایسے مخالف حالات میں بڑے سے بڑا مدبر فرمانروا بھی مشکل سے عہدہ برآ ہو سکتا تھا اور جس حد تک بھی آپ نے ان کا مقابلہ کیا وہ بھی کسی دوسرے فرمانروا سے ممکن نہ تھا پھر علل و اسباب کے تجزیہ میں مشکلات کا حضرت ابو بکرؓ کے دور سے موازنہ کرتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں: عہدِ رسالت کے بعد سے اسلامی روح مضمحل ہو چکی تھی بہت سے اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو خلافت کے رکنِ اعظم تھے اٹھ چکے تھے اور انکی جگہ نئی پود لے رہی تھی جس میں اپنے اسلاف کا سا اخلاص اور سچا جوش و ولولہ تھا ان کے اعراض بالکل مختلف تھے متعدد اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حالات نے حضرت علیؓ سے جدا کر دیا تھا حضرت طلحہٰؓ و حضرت زبیرؓ جو عشرہ مبشرہ میں تھے آپ سے الگ ہو گئے حضرت علیؓ کے ساتھ جو بزرگوار تھے ان کا دین و تقویٰ مسلم لیکن ان میں بہت کم صاحبِ تدبیر و سیاست تھے پھر اپنے ضمیر کی آواز کے مقابلہ میں حضرت علیؓ صاحبِ تدبیر و سیاست بزرگوں کا مشورہ تک نہ قبول کرتے تھے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کو آغازِ خلافت میں مشورہ دیا کہ بغیر بیعت لیے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو معزول نہ کیجئے ورنہ وہ آپ کے خلاف ایک فتنہ کھڑا کر دیں گے لیکن آپ نے قبول نہ فرمایا جس کا نتیجہ جنگِ صفین کی صورت میں ظاہر ہوا حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ جیسے مدبر کو محض نوجوانوں کے ورغلا نے سے مصر سے ہٹا دیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مصر ہاتھوں سے نکل گیا تمام عثمانی عمال کو معزول کر کے اپنے خلاف بنالیا آپ کے حاشیہ نشینوں اور مشیروں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ نوجوان نسل جدید الاسلام عرب اور نو مسلم عجمی بھی تھے جن کے دلوں میں اسلام کے لیے کوئی تڑپ نہ تھی بلکہ وہ صرف اپنی غرض کے لیے ساتھ تھے۔

آپ میں نہ حضرت ابوبکرؓ جیسا تحمل اور تواضع تھا جو مخالفین کو بھی اپنا بنا لیتا تھا اور نہ حضرت عمرؓ جیسا دبدبہ و شکوہ تھا جس سے بڑے بڑے لوگ تھراتے تھے حضرت عمرؓ جب حضرت امیرِ معاویہؓ کو طلب کرتے تھے تو ان پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا لیکن وہی حضرت امیرِ معاویہؓ نے آپ کے خلاف اٹھ کر ایک انقلاب عظیم برپا کردیتے ہیں آپ میں خود اعتمادی بہت تھی جو رائے قائم کر لیتے تھے پھر اس میں کسی کا مشورہ نہ قبول فرماتے تھے جس سے بعض اوقات نقصان اٹھانا پڑتا تھا ان سب سے زیادہ آپ کو نا کام رکھنے والے وہ نومسلم مجوسی تھے جو محبت اہلِ بیتؓ کی آڑ میں مسلمانوں سے اپنی قومی تباہی کا انتقام لینا چاہتے تھے جنہیں حضرت علیؓ کیا اسلام سے بھی کوئی ہمدردی نہ تھی بہت سے جدید الاسلام عرب بھی اپنی غرض کے لیے آپ کے ساتھ ہو گئے تھے انہی لوگوں نے اہلِ بیتؓ اور بغیر اہل بیتؓ کا سوال پیدا کر کے مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی کا خاتمہ کیا حضرت عثمانؓ کو شہید کر کے خانہ جنگی کا دروازہ کھولا پھر حضرت علیؓ کی لاعلمی میں آپ کے ساتھ ہو کر اختلاف کی آگ بھڑکائی اگر یہ عنصر نہ ہوتا تو جمل و صفین کے واقعات پیش نا آتے۔

ضمیر کے فیصلہ کے مقابلہ میں آپ مصلحت اندیشی کو بالکل راہ نہ دیتے تھے گو یہ صداقت کا بڑا درجہ ہے اور اگر ان دونوں میں تصادم نہ ہو تو ایک فرمانروا کے لیے مصلحت وقت کا لحاظ ضروری ہے لیکن آپ پر دل کے جذبات کی سچائی کا اتنا غلبہ تھا کہ اس کے مقابلہ میں مصلحت وقت کو نظر انداز فرما دیتے تھے مثلاً عمالانِ عثمانی کی معزولی خصوصاً حضرت امیرِ معاویہؓ کی بر طرفی مصلحت کے بالکل خلاف تھی لیکن آپ نے تخت نشین ہونے کے ساتھ یک قلم تمام عثمانی عمال کو معزول کر دیا جو کل آپ کے خلاف ہو گئے آپ جس تقویٰ دینداری اور عدل کے ساتھ حکومت کرنا چاہتے تھے حالات کے تغیر سے لوگوں میں اس کے قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہ رہ گئی تھی ایران کے شیعہ محقق محمدجواد مغنیہ نے فی ظلال نہج البلاغہ: جلد، 1 صفحہ، 175 پرعلی والخلافتہ کے عنوان سے لکھا ہے: امام کی بیعت خلافتِ ذی الحجہ 35 ہجری میں ہوئی اور رمضان سن 40 ہجری میں شہادت پائی خلافت پانچ سال رہی چار ماہ بعد اصحابِ جمل سے جنگ کی پھر صفین میں حضرت امیرِ معاویہؓ اور اہلِ شام سے جنگ کی پھر نہروان میں خوارج سے لڑے تو کیا فضاء چھٹ گئی؟ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مسائل سلجھ گئے اور ان عظیم جنگوں کے بعد ہر مشکل ختم ہوگئی؟ ہرگز نہیں بلکہ اس کے بعد اور خوفناک اور کڑوا مرحلہ پیش آیا خوارج وغیرہ حق سے منحرفین لوگوں کے اندرونی حملے علی الاعلان تھے جو بندوں کے امن کو تہ و بالا کرتے تھے۔

حضرت امیرِ معاویہؓ باہر سے حملہ آور تھا ہلاکت موت گھبراہٹ اور بزدلی لگاتار تھی حضرت کا لشکر سست کم ہمت اور نا کام ہو چکا تھا آپ کے ساتھی کہتے تھے ہم نے سنا اور نافرمانی کی جسے بنی اسرائیل کہتے تھے خوبیاں صرف اللہ اور اس کے کلام کی ہیں۔

(جلد، 1 صفحہ، 176 طبع بیروت) 

شیعہ حضرات اپنے ممدوحِ اعظم کے متعلق جیسا کچھ لکھیں ہمیں اس سے بحث نہیں ہم اہلِ سنت کو بہر حال حضرت علیؓ کی تحریم و تعظیم میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرنا چاہیئے کیونکہ وہ چہارم خلیفہ راشد عادل تھے شیعہ رافضی اگر ان کو خدا و رسول کی صفات میں شریک کر کے غالی محب و گمراہ ہیں خارجی ان کے ایمان و اعمال صالحہ کی نفی کر کے موردِ لعن ہیں تو من کل الوجوہ آپ کی ناکامی اور خلیفہ راشد نہ ہونے پر پروپیگنڈہ کرنے والے سنی نما ناصبی مؤلفین بھی راہِ راست پر نہیں ہیں جب کہ آپ کی خلافت کی درستی پر اجماعِ امت ہے اور مندرجہ ذیل علماء نے اس پر شافی بحثیں کی ہیں: علامہ نوویؒ ابنِ ہمامؒ امام غزالیؒ حضرت عبدالقادر جیلانیؒ ابنِ تیمیہؒ علامہ سیوطیؒ حضرت شاہ ولی اللہؒ ازالۃ الخفاء: صفحہ، 32 پر لکھتے ہیں اثباتِ خلافتِ عامہ برائے خلفاء اربعہ از اجل بدیہات است۔

خلفائے اربعہ راشدین کے لیے خلافتِ عامہ کا ثبوت بالکل واضح ترین بات ہے۔

صفحہ 9 از 10