حادثہ جمل و صفین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حادثہ جمل و صفین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 10

ترجمہ: معتبر حدیثوں میں والد ہیں کہ جب حضرت علیؓ اپنے ساتھیوں کی نافرمانی منافقت کفر اور مخالفت سے تنگ دل ہوگئے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کا لشکر حضرت کے ملک پر یلغار کر رہا تھا اور حضرت کے ساتھی آپ کی مدد نہیں کر رہے تھے خود مشکل کشا ہو کر غیروں سے طلب مدد؟ شیعوں کے لیے معمہ ہے تو آپ نے منبر پر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر دعا کرتا ہوں کہ خدا مجھے تم سے اٹھالے اور جنت کے باغوں میں جگہ دے پھر فرمایا اے اللہ میں ان سے تنگ آگیا ہوں اور یہ مجھ سے تنگ آگئے ہیں میں ان سے دل برداشتہ ہو گیا ہوں اور یہ مجھ سے دل برداشتہ ہیں اے اللہ مجھے ان سے وفات دے کر آرام بخش اور ان کو ایسے شخص سے مبتلا کر کہ مجھے یاد کریں بقول شیعہ عہدِ معاویہؓ میں شیعہ پر سختی کی وجہ دعائے مرتضوی ہی ہے۔

نہج البلاغہ فروعِ کافی روضہ کافی و غیرہ کے جو خطبات ان شیعہ علیؓ کی مذمت اور غداری و نفاق پر آپ نے دیئے ہیں یہاں ان کی تفصیل کا موقعہ نہیں۔ صرف اتنا اشارہ کافی ہے کہ اور تو اور اشتر نخعی جیسے خاص مصاحبِ علوی کے متعلق بھی خود علماء شیعہ نے نفاق و تردد کا اظہار کیا ہے حالانکہ بہ روایت صاحبِ مجالس المؤمنین حضرت علی المرتضیٰؓ نے فرمایا اشتر کو مجھے سے وہی نسبت ہے جو مجھے حضور اکرمﷺ سے تھی شوستری صاحب لکھتے ہیں: اشتر کے ان اوصاف و کمالات کے باوجود سید عارف میر مختوم قدس سرہ نے اشتر کے متعلق ترددو انفاق اور تنزلزل کی نسبت کی ہے وہ شخص بڑا کمینہ ہے جو امتحان و آزمائش کے وقت ثابت قدم نہ رہے۔ حضرت شاہِ اولیا سے ان کی زندگی میں اس قدر خوارق باتیں اور ظاہری زندگی کے کاموں میں کمزوری ظاہر ہوئی کہ آپ کے تمام دوستوں کے قدم ڈگمگا گئے حتیٰ کہ ما لک اشتر بھی بجز حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے جو آپ کے فرزند روحانی اور یکے از اسماءِ حسنیٰ تھے اور جو لوگ ولایتِ خاصہ کا دودھ نہیں پیتے وہ نفاق و ارتداد سے محفوظ نہیں رہتے۔ 

(مجالس المؤمنین: صفحہ، 289) 

نہج البلاغہ کے ایک خطبہ کے موافق آپ چاہتے تھے کہ اپنے دس دس فوجی دے کر حضرت امیرِ معاویہؓ سے ایک ایک فوجی کا سودا کر لیں کیونکہ ان کے فوجی عمال وفادار و منتظم تھے۔(ونحوہ فی البدایہ)

کہا جاتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ان پر عطایا کی بارش کی ہوئی تھی لہٰذا وہ دولت کے لیے اتنے وفادار تھے مگر دولت کی عطاء میں حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت امیرِ معاویہؓ سے کم فیاض تو نہ تھے پانچ پانچ صد درہم انعام پر صفین کے شرکاء بھرتی ہوئے تھے۔ نصربن مزاحم نے واقعہ صفین میں ایک لطیفہ لکھا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کی فوج میں سے ایک شخص بھاگ گیا تو اس کی لڑکی نے پوچھا یا ابت این الخمسمائة۔

ترجمہ: ابا! 500 روپیہ کہاں ہے؟ کہنے لگا میں تو بھاگ آیا ہوں وہ ثابت قدموں کے لیے ہے۔

تعجب ہے کہ شیعہ کے خیال میں حضرت امیرِ معاویہؓ کے پاس صرف دنیا تھی مگر وہ وفاداری اور اطاعت میں ضرب المثل تھے حضرت علی المرتضیٰؓ کے پاس دنیا و آخرت دونوں تھیں مگروہ غداری کرتے تھے۔ شاید اسکی وجہ یہی نہ ہوکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسولﷺ پر بدگمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان بلوائیوں سے وفا اطاعت اور ایمان و اخلاص کی دولت چھین لی تھی۔

ایک شبہ کا ازالہ:

ممکن ہے شاید آپ کہیں کہ پھر حضرت علی المرتضیٰؓ کی خلافت راشدہ کیسی تھی یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ میں خلافت و حکومت کی صلاحیت کم تھی؟ مگر یہ رائے سطحی اور قلت تدبر کا نتیجہ ہے گو حضرت شاہ ولی اللہؒ جیسے محققین کی نظر میں خلافت کے دو درجے ہیں خلافتِ خاصہ اور خلافتِ عامہ خلافتِ خاصہ تو حضرتِ عثمانؓ پر ختم ہوگئی۔ جس میں خلفاء کے مثالی اوصاف کے ساتھ مملکت میں نہایت امن و استحکام تھا مگر خلافتِ عامہ حضرت علیؓ پر ختم ہوئی جس میں خلیفہ کے مثالی اوصاف کے باوجود ملک کا نظم ونسق خلل پذیر ہوگیا تھا لیکن در حقیقت حضرت علیؓ بہت معذور تھے ان منافقین کے جھرمٹ میں پھنسے رہنے کے باوجود جس طرح حضرت علیؓ نے خلافت کے وقار کو سنبھالا اور کانٹوں کے درمیان اس گل ترکی حفاظت کی وہ آپ کی کمال لیاقت اور مدبری کی دلیل ہے اگر ان کی جگہ کوئی ایسا شخص خلیفہ ہوتا جو اہلیت میں ان سے کم ہوتا تو یقیناً مدینہ کی طرح مملکتِ اسلامیہ سے بھی خلافت کا خاتمہ ہو جاتا اور اس کی جگہ سبائیوں کی فاسق اور گمراہ حکومت قائم ہو جاتی سبائیوں کے پیدا کردہ حالات میں جتنا کام آپ نے کیا اور جس حد تک انہوں نے مفسد گروہ کے شہر سے امت کو محفوظ رکھا اس سے زائد کا تصور نہیں ہو سکتا بلاشبہ آپ کا یہ بڑا کارنامہ ہے باقی یہ بات صحیح ہے کہ جس طرح فضیلت عند اللہ کے اعتبار سے ان کے پیش رو خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مرتبہ ان سے بلند ہے اس طرح تدبیر مملکت کی حیثیت سے بھی وہ حضرات حضرت علیؓ سے بلند و برتر نظر آتے ہیں۔

از افادات مولانا سندیلوی شیخ الحدیث لکھنؤ۔ 

عہدِ مرتضوی پر ایک نظر:

صفحہ 8 از 10