حادثہ جمل و صفین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حادثہ جمل و صفین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 10

ترجمہ: تمہارے صاحب حضرت علیؓ کی اطاعت ہم جائز نہیں سمجھتے کیونکہ اس نے ہمارے خلیفہ کا قتل کیا ہماری جماعت کو تتر بتر کر دیا ہمارے قاتلوں اور حملہ آوروں کو پناہ دی تمہارے بزرگ کا خیال ہے کہ اس نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو قتل نہیں کیا تو ہم اس کے منکر نہیں ہیں لیکن بتلاؤ تو تم نے سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو دیکھا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ وہ تمہارے صاحب کے فوجی ہیں وہ ہمارے سپرد کر دیئے جائیں تاکہ ہم انہیں قصاصِ عثمانؓ میں قتل کریں پھر ہم تمہاری اطاعت اور جماعت میں شرکت کریں گے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر (العیاذ باللہ) لعنتی اور جہنمی کا فتویٰ لگانے والے شیعہ معترض آنکھیں کھول کر دیکھیں اور انصاف سے کہیں کیا حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اطاعت مشروط بالقصاص نہ کر دی پھر بھی قصاص نہیں لیا گیا جبکہ نہج البلاغہ کی تصریح کے مطابق آپ قصاص لینا واجب جانتے تھے۔

قارئین کرام ! کتبِ شیعہ و تاریخ کے حوالوں سے تمام حقائق آپ کے سامنے ہیں آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ حضراتِ طالبین قصاص اپنے موقف میں کسی قدر معذور اور درست تھے اور کس قدر غلطی پر تھے۔

یہی وہ تلخ حقائق ہیں جن کی بناء پر مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بحث میں پڑنے سے علمائے اہلِ سنت نے منع فرمایا ہے کیونکہ فریقین سے بدظنی پیدا ہوتی ہے اگر ایک فریق مشکلات کی بناء پر معذور ہے تو دوسرے گروہ کوبھی محترم صحابیت اور حد شرعی کے نفاذ کا مطالبہ اور "اصلاحی اقدام" کرنے میں معذور جاننا چاہیئے اور زبان طعن نہ کھولنی چاہیئے اہلِ سنت نے ان جنگوں کے اس اندرونی پسِ منظر کو جانتے ہوئے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور آپ کے مخلص ساتھیوں اور طالبینِ قصاص کے حق میں یہ متفقہ فیصلہ دیا کہ یہ خانہ جنگیاں اجتہادی غلطی کا نتیجہ میں طرفین سے طلب صواب ہی میں یہ کام ہوا نیت ہر ایک کی نیک تھی دونوں کے مقتول بھی جنتی ہیں اور طعن و تشنیع بھی کسی پر روا نہیں۔

(کتب عقائد اہلِ سنت) 

کیوں کہ خدائے علام الغیوب ان کا یہ حال جاننے کے باوجود ان کو رضا و جنت کی سند قرآن میں دے چکا تھا تو آیتِ تعمد قتل کی زد میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آتے ہی نہیں تفصیلی مواد کے لیے ملاحظہ ہو راقم کی کتاب عدالتِ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بابِ پنجم، اگر اہلِ سنت کا یہ فیصلہ نہ ہوتا تو مسلمانوں کی عظیم اکثریت حضرت علیؓ سے اسی طرح الگ یا بدظن ہوتی جیسے خود ان کے عہدِ حکومت کے آخر میں سوائے صوبہ حجاز اور کچھ عراق کے پبلک حضرت امیرِ معاویہؓ کی طرف فدا ہو گئی تھی۔ 

(ازالتہ الخفاء) کیونکہ شاذ و نادر ہی کوئی گھر یا قبیلہ ایسا ہو گا جس کا کوئی آدمی ان جنگوں میں نا مارا گیا ہو طبری میں تصریح ہے کہ حضرت علیؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی درخواست پر مصالحت کر کے ان کی حیثیت مستقل طور پر تسلیم کر لی تھی گویا آخری عمل نے اول کو منسوخ کر دیا

عن ابى اسحاقؒ لما لم يعط أحد الفريقين صاحبه الطاعة كتب معاويةؓ الی علیؓ اما اذا شئت فلك العراق ولى الشام وتكف السيف عن هذه الامة ولا تهرق دماء المسلمين ففعل ذالك وتراضيا علىؓ ذالك فاقام معاويةؓ بالشام بجنوده يجيبها وماحولھا و على بالعراق يجيبها ويقسمها بين جنوده۔

(طبری: جلد، 5 صفحہ، 140)

ترجمہ: محدث ابو اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں جب فرکین میں سے کوئی بھی دوسرے کا مطیع نہ ہوا تو حضرت امیرِ معاویہؓ نے حضرت علیؓ کو لکھا آپ چاہیں تو عراق پر آپ حکومت کرتے رہیں اور میں شام پر حاکم ہوں آپ اس امت پر تلوار چلانا چھوڑ دیں اور مسلمانوں کا خون نہ بہائیں حضرت علیؓ نے اسے مان لیا اور دونوں اس فیصلے پر رضامند ہو گئے حضرت امیرِ معاویہؓ اپنے لشکر سمیت شام میں حاکم رہے وہاں کے محاصل جمع کرتے اور حضرت علیؓ عراق میں محاصل جمع کرتے اور لشکر میں تقسیم کرتے۔

بڑے درد سے یہ لفظ لکھنے پڑتے ہیں کہ جب حضرت علیؓ سریر آرائے خلافت ہوئے تو صوبہ شام کے سوا سب مستحکم و پائیدار مملکت اسلامیہ آپ کے زیرنگیں آئی لیکن آخری ایام میں مؤرخین کی تصریح کے مطابق کچھ عراقی و حجاز کے علاوہ سب مملکت آپ کے تصرف سے نکل کر حضرت امیرِ معاویہؓ کے زیر نگین آگئی جیسے طبری کے حوالہ بالا سے بھی معلوم ہو چکا۔

شیعہ پر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ناراضگی:

قدرت کی یہ نیرنگی بھی دیکھئے آغازِ خلافت میں جو لوگ آپ کے معتمد خاص اور شیعہ علیؓ کہلائے اور ان کی موجودگی میں حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جیسے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے قدیم رفقاء کو بھی دربارِ علوی میں جگہ نہ مل سکی اور جمل و صفین کے خونی معرکوں میں انہوں نے ہیرو کا پارٹ ادا کیا آج وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے معتوب بد اعتماد اور غدار ثابت ہوئے اور آپ ان سے جان چھڑانے کے لیے موت کی آرزو کرتے تھے۔ 

شیعہ کے خاتم المحدثین لکھتے ہیں:

 ور احادیث معتبره وارد شده است که چون علیؓ از نافرمانی و نفاق و کفر و شقاق اصحاب خود دل تنگ شد و لشکر معاویہؓ بر اطراف نواحی ملک آنحضرت غارت میاورند واصحاب آنحضرت یاری او نمے نمودند بر منبر فرمود بخدا سوگند مے دارم که حق تعالیٰ مرا از میان شما بیرون برد و در ریاض رضوان جادھد پس فرمود خداد ندا من از ایشان بتنگ آمده ام و ازیشان از من بتنگ آمده اند و من ازیشان ملال یافته ام وایشاں ازمن ملال یافته اند خدا وندا مرا ازیشان راحت بخش و ایشان را مبتلا کن بکسے کہ مرا یاد کنند۔ 

(جلال العيون: صفحہ، 184)

صفحہ 7 از 10