حادثہ جمل و صفین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حادثہ جمل و صفین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 10

2: البدایہ والنہایہ: جلد 7 صفحہ، 299 تاریخِ طبری وغیرہ میں ہے کہ حضرت ابو درداءؓ اور حضرت ابو امامہ باہلیؓ جیسے بزرگ حضرت علیؓ کی طرف سے نمائندے بن کر حضرت امیرِ معاویہؓ کے پاس گئے اور کہا اے حضرت امیرِ معاویہؓ آپ اس شخص سے کیوں لڑتے ہیں جو بخدا آپ سے اور آپ کے باپ کے اسلام لانے میں مقدم ہیں آپ سے بڑھ کر حضورﷺ کے قریبی رشتہ دار ہیں اور اس امر کے تجھ سے زیادہ مستحق ہیں شاید ان بزرگوں کا خیال ہو گا کہ اس طرز سے حضرت امیرِ معاویہؓ کو شوقِ خلافت ہے مگر حضرت امیرِ معاویہؓ نے اپنی زبان سے اس خدشہ کی تردید کر دی آج بھی کچھ لوگ یہی سمجھتے ہیں اگر انسان کا قول و عمل جب اس کے خلاف ہو تو دلوں پہ بدگمانی جائز نہیں اسے علیم بذات الصدور ہی خوب جانتا ہے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ نے فرمایا میں خلافت کے لیے نہیں لڑتا میں تو صرف حضرت عثمانؓ کے خون پر آپ سے لڑ رہا ہوں کیونکہ آپ نے حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو پناہ دے رکھی ہے تم دونوں حضرت علیؓ کے پاس جاؤ اور کہو کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے ہمیں قصاص دلا دو پھر اہلِ شام میں سے سب سے پہلا شخص میں ہوں گا جو حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کرے گا چنانچہ وہ دونوں حضرت علیؓ کے پاس گئے اور یہ پیغام پہنچایا تو حضرت علیؓ نے فرمایا وہ یہ ہیں جن کو تم دیکھ رہے ہو ہیں ایک انبوہِ کثیر اٹھ کھڑا ہو اور کہنے لگے ہم سب سیدنا عثمانؓ کے قاتل ہیں جو کوئی چاہے ہم سے قصاص لے لے حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ یہ ماجرا دیکھ کر واپس ہوگئے اور کسی طرف سے جنگ میں شرکت نہ کی۔ (البدایہ وغیره) مزید تفصیل ہماری کتاب عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں دیکھیں۔

3: حضرت امیر المؤمنین امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ و حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے اپنے گمان میں دیندار اور نیک نیت ہونے کا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اعتراف کیا ہے چنانچہ شیعہ کتاب کشف الغمہ: صفحہ، 509 پر ہے:

الا ان اعجب العجب ان معاویہ بن سفیانؓ و عمرو بن العاصؓ السهمی یحرضان الناس على طلب الدين بزعمهما وانی والله لما اخالف رسول اللهﷺ‎ قط ولم اعصه فی امرہ قط۔

ترجمہ: کیا ہی عجیب تر بات ہے کہ حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اپنے گمان کے مطابق لوگوں کو دین کے مطالبے پر ہی ابھارتے ہیں حالانکہ میں نے بھی کبھی حضورﷺ کی مخالفت اور کسی حکم میں آپ کی نافرمانی نہیں کی۔

4: اسی طرح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سے جو سفراء حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تھے وہ ایسے تلخ اور تہدید آمیز گفتگو کرتے تھے جس سے بجائے صلح اور سکون کے خواہ مخواہ جنگ اور اشتغال انگیزی کی فضا پیدا ہو جاتی ان میں شبث بن ربعی کی تلخ کلامی اور فساد انگیزی سب مؤرخین نے لکھی ہے حالانکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سفیر یہ وہی صاحب ہیں جو کے تحکیم کےموقعہ پر خارجی بن گے پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر بھی مخالف ہو گئے پھر شعیانِ حسین میں سے ہو کر کوفہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا تھا پھر بر وقت آپ سے غداری اور بے وفائی کر کے نصرت سے باز رہے اور آپ نے ایسے اس کا دعوتی نوشتہ دکھا کر شرمندہ کیا تھا (جلاء العیون) افسوس کہ بد قسمتی سے قاتلانِ عثمان اور بلوائی نام نہاد ایسے شیعان اہلبیت رضی اللہ عنہم بنے جن کی سازشوں اور غداریوں بلکہ تلواروں سے اھلبیت رضی اللہ عنہم اور دیگر مسلمانوں کے خون سے تاریخ کا ایک ایک ورق رنگین ہے مگر غضب یہ ہے کہ شیعہ آج بھی انہی لوگوں کی عقیدت کا دم بھرتے اندوہناک حادثات کو اچھالتے اور اپنے تخریب کار وجود پر فخر کرتے ہیں جب صلح کی کوشش ناکام ہوگئی تو جنگ کا آغاز بھی سنیئے۔

فاخذ علیؓ يامر الرجل ذ الشرف فيخرج معه جماعة ويخرج اليه من اصحاب معاويةؓ آخر معه جماعة فيقتتلان في خيليهما ورجالهما۔

(طبری: جلد، 4 صفحہ، 574)

ترجمہ: پس حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ایک ایک بہادر مرد کو حکم دیتے تھے اس کے ساتھ ایک جماعت نکلتی تھی پھر حضرت امیرِ معاویہؓ کی طرف سے بھی ایک ایک آدمی با جماعت نکلتا تھا تو یہ سوار اور پیادہ جنگ کرتے تھے۔

مایہ ناز شیعہ علی اور آپ کا باڈی گارڈ شمر ذی الجوشن (قاتلِ حسین )بھی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑتا اور عربی کے اشعار پڑھنا تھا۔ (طبری: جلد، 4) 

جن کا ترجمہ اردو شاعر نے یہ کیا ہے:

علی میرا امام ہے اور میں علی کا غلام علی کے واسطے لڑتا ہوں میں بلشکرِ شام 

ان متفرق جھڑیوں میں مسلمان ایک دوسرے کے احترام میں تیزی نہ دکھاتے پھر ایک دوسرے کے مقتولوں کی تجہیز و تکفین میں بھی رات کو شریک ہوتے تھے سات ماہ اسی حالت میں گزر گئے تا آنکہ ایک رات حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کن جنگ کی ٹھانی اور لیلۃ الحریر میں مشہور حملہ کیا اور اتنی خوف ناک جنگ ہوئی کہ ستر ہزار نفوس کام آئے اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ ۞ اس کے باوجود حضرت علیؓ کو حسبِ منشاء فتح نہ ہوئی۔

(قاضی نور اللہ مجالس المؤمنین: صفحہ، 204 میں لکھتے ہیں:

گر در صفین ظفر نیافت او در حنین فتح نیافت۔

ترجمہ: اگر حضرت علیؓ نے صفین میں فتح نہ پائی تو حضورﷺ نے بھی حنین میں فتح نہ پائی۔

واضح رہے کہ جنگِ جمل و صفین میں حضرت علیؓ کے بالمقابل حضرات تو صرف خونِ عثمانؓ کا بدلہ چاہتے تھے اہلِ جمل کا نظریہ گزر چکا ہے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا خط بھی آپ نے پڑھا ایک اور حوالہ ملاحظہ ہو:

وأما الطاعة لصاحبكم فانا لا نراها ان صاحبكم قتل خليفتنا و فرق جماعتنا واوى ثارنا وقتلتنا وصاحبكم يزعم انه لم يقتله فنحن لا نرد ذلك عليه ارايتم قتلة صاحبنا الستم تعلمون انهم ا اصحاب صاحبكم فيدفعوا الينا فنقتلهم به ثم نحن نجيبكم إلى الطاعة والجماعة۔(طبری: جلد، 5 صفحہ، 6)

صفحہ 6 از 10