حادثہ جمل و صفین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حادثہ جمل و صفین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 10

 کہ حضرت علیؓ نےجمل سے فراغت کے بعد ہی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کو بصرہ پر خلیفہ بنایا اور وہاں سے ہی کوفہ چلے وہاں جنگِ صفین کیلئے تیاری کی اور لوگوں سے مشورہ لیا ایک جماعت نے مشورہ دیا کہ خود نہ جائیں لشکروں کو بھیج دیں دوسروں نے جانے کا مشورہ دیا حضرت علیؓ نے جانے پر ہی اصرار کیا، پھر لوگوں کا لشکر تیار کر کے چل پڑے جب سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو اس نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بلا کر مشورہ کیا تو اس نے کہا جب آپ کو خبر ملی ہے کہ وہ خود آ رہے ہیں تو آپ بھی خود چلیں اور اپنی عقل اور تدبر کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔

(طبری: جلد، 4 صفحہ، 563)

 شانِ صحابیت کا تقاضہ تھا کہ مصالحت کی گفت و شنید ہو چنانچہ بہت سے حضرات نے مصالحت کی کوشش کی مگر سبائی جماعت نے اپنی تمام تر قوتیں اس میں صرف کردیں کہ طرفین میں محبت اور رعایت کے بجائے دشمنی اور نفرت کا جذبہ تیز ہو جائے چنانچہ یہ غدار اور مفسده برداز گروہ اپنی مکروہ کوششوں میں کامیاب ہو گیا اور مصالحت کی ساری جد و جہد نقش بر آب ثابت ہوئی۔ 

(تاریخ اسلام اردو از نشتر: جلد، 2 صفحہ، 237)

 چند تاریخی حقائق ملاحظہ ہوں:

1: شام کے ایک عابد و زاہد بزرگ ابو مسلم خولانؒی چند آدمیوں کو ساتھ لے کر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی مخالفت سے باز رہنے کا اصرار کیا تو سیدنا امیرِ معاویہؓ نے جواب دیا کہ میں فضیلت میں ان کی برابری کا مدعی نہیں ہوں ۔ آپ کو معلوم ہے کہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ مظلوم شہید کیے گئے ان لوگوں نے کہا ہاں حضرت امیرِ معاویہؓ نے کہا ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ قاتلوں کو ہمارے حوالے کیا جائے ہم ان کی خلافت تسلیم کریں گے ابو مسلم خولانؒی نے کہا تم اسے لکھ کر دے دو میں حضرت علیؓ کے پاس لے کر جاؤں گا چنانچہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے یہ خط لکھا: اما بعد! خلیفہ سیدنا عثمانؓ تمہارے یہاں تمہاری موجودگی میں قتل کیے گئے تم ان کے گھر کا شور و غل سنتے رہے اور اپنے قول و عمل سے نہ روکا میں سچی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم سچائی اور اخلاص سے ان کی مدافعت کیے ہوتے تو ہم میں کوئی تمہاری مخالفت نہ کرتا۔ دوسرا الزام تم پر یہ ہےکہ تم نے قاتلینِ سیدنا عثمانؓ کو پناہ دی اور وہ اس وقت تمہارے قوت و بازو و تمہارے اعوان و انصار اور تمہارے مشیر کار ہیں ہم کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم حضرت عثمانؓ کے خون سے برأت کرتے ہو اگر تم اس میں سچے ہو تو قاتلوں کو قصاص کے لیے ہمارے حوالے کر دو ہم سب سے پہلے تمہاری بیعت کے لیے تیار ہیں اگر ایسا نہیں کرتے تو ہمارے پاس تمہارا جواب صرف تلوار ہے خدائے واحد کی قسم ہم لوگ بحر و بر سے سیدنا عثمانؓ کے قاتلوں کو تلاش کر کے قتل کریں گے یا خود جان دے دیں گے۔

ابو مسلم یہ خط لے کر کوفہ گئے اور حضرت علیؓ کی خدمت میں پیش کر کے عرض کیا کہ آپ خلیفہ ہیں اگر آپ اس کے حقوق پورے کریں تو اللہ کی قسم یہ منصب ہم کسی دوسرے کے لیے پسند نہیں کرتے۔ سیدنا عثمانؓ مظلوم شہید کیے گئے ان کے قاتلوں کو آپ ہمارے حوالے کیجئے آپ ہمارے امیر ہیں اس کے بعد اگر کوئی شخص آپ کی مخالفت کرے گا تو ہم آپ کے مدد گار ہیں اور آپ کے لیے بھی دلیل اور معقول عذر ہو جائے گا۔

یہ مطالبہ سن کر حضرت علیؓ نے ابو مسلم کو ٹھرا لیا اور فرمایا کل اس کا جواب دوں گا دوسرے دن ابو مسلم جامع کوفہ میں آپ سے ملے یہاں دیکھا کہ دس ہزار مسلم آدمی نعرہ لگا رہے ہیں کہ ہم سیدنا عثمانؓ کے قاتل ہیں یہ رنگ دیکھ کر ابو مسلم نے کہا معلوم ہوتا ہے انہیں میرے آنے کا سبب معلوم ہو گیا ہے اور انہوں نے اپنے بچاؤ کی یہ تدبر نکالی ہے حضرت علیؓ نے فرمایا میں نے ہر چند اس معاملہ کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن قاتلوں کا حوالہ کرنا میرے امکان ہی میں نہ تھا اور حضرت امیرِ معاویہؓ کے خط کا یہ جواب دیا کہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے قتل سے میرا کوئی تعلق نہیں میں نے کسی کو ان کے خلاف نہیں بھڑکایا البتہ جب زیادہ ہنگامہ برپا ہوا تو میں خانہ نشین ہو گیا مجھ کو خوب معلوم ہے کہ قاتلینِ حضرت عثمانؓ کے حوالہ کرنے کے مطالبہ کو تم اپنے حصول مقصد کا ذریعہ بنانا چاہتے ہو اگر تم اس فتنہ انگیزی سے بے راہ روی سے باز نہ آؤ گے تو جو سلوک باغیوں سے کیا جاتا ہے وہ تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔

(تاریخ اسلام ندوی بحوالہ اخبار الطوال: صفحہ، 173، 174)

صفحہ 5 از 10