حادثہ جمل و صفین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حادثہ جمل و صفین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 10

قعقاع بن عمرو کی کوشش سے حضرت عائشؓہ، حضرت طلحہٰؓ و حضرت زبیرؓ نے اپنے اصلاحی اقدام کو مصالحت کی شکل دی اور ہر شر انگیز مشورہ کوردکر دیا، حضرت علیؓ نے اپنی جماعت کو پر امن رکھنے کے لیے ایک دن اس کے سامنے تقریر کی کہ ان لوگوں سیدنا طلحہٰؓ و سیدنا زبیرؓ کے بارے میں اپنے ہاتھ اور زبان کو قابو میں رکھو پیش آنے والے واقعات کا صبر کے ساتھ انتظار کرو اور پیش دستی سے بچو آج جو شخص جنگ کی ابتداء کرے گا کل خدا کے نزدیک وہ دشمن سمجھا جائے گا غرض فریقین ہر ممکن طریقہ سے جنگ کی روک تھام اور صلح کی کوشش کرتے رہے اس درمیان میں بہت سے محتاط مسلمان اس جنگ سے کنارہ کش ہوگئے چنانچہ احنف بن قیس چھ سو آدمیوں کی جماعت لے کر علیحدہ ہو گئے اب حضرت علیؓ ذی قار سے بصرہ پہنچ چکے تھے۔ آپ اور حضرت طلحہٰؓ و حضرت زبیرؓ میں صلح کی آخری گفتگو ہوئی اور مختلف فیہ مسائل پر بحث و مباحثہ ہونے کے بعد بالاتفاق طے پایا کہ امت کی فلاح صلح ہی میں ہے مصالحت کی تکمیل کے بعد فریقین اپنے اپنے لشکر گاہوں پر مسرور و مطمئن واپس گئے اور اطمینان وسکون کے ساتھ سوئے مگر سبائیوں کے لیے یہ صلح بڑی شاق تھی اس لیے انہوں نے طے کیا کہ صبح ہونے سے پہلے ہی اندھیرے میں دونوں فوجوں پر حملہ کر دیا جائے چنانچہ ان لوگوں نے راتوں رات اندھیرے میں دونوں فوجوں پر حملہ کر دیا اور صبح ہوتے ہوئے ہنگامہ بپا ہو گیا اس غیر متوقع حملہ نے دونوں کو گھبرا دیا کسی کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ واقعہ کیا ہے حضرت علیؓ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اس وقت بھی روکنے کی کوشش کی حضرت علیؓ پکار پکار کر کہتے تھے کہ لوگو رک جاؤ حضرت عائشہ صدیقہؓ فوراً اونٹ پر بیٹھ کر روکنے کے لیے پہنچیں لیکن اس ہنگامہ میں کون کسی کی سنتا، اصل حقیقت کی کسی کو خبر نہ تھی اس لیے ہر فریق نے یہی گمان کیا کہ دوسرے نے بد عہدی کی۔

ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے جان نثاروں کی جانبازی اور جنگ کا خاتمہ:

سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی اونٹ پر سواری مال کار جاں نثاروں کی حوصلہ افزائی میں تبدیل ہوگئی اور ہر طرف سے محمل پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی تیروں کی کثرت سے محمل ساہی بن گیا تھا جاں نثاروں نے جانبازی کا حق ادا کر دیا قبیلہ بنی ضبہ اور ازد نے اونٹ کو اپنے حصار بچاؤ میں لے لیا اس کی حفاظت میں دو ہزار سات سو ازد اور دو ہزار بنی ضبہ نے جانیں فدا کیں اونٹ کی مہار پکڑنا گویا موت کے منہ میں جانا تھا لیکن جاں نثاروں نے تانتا نہ ٹوٹنے دیا جیسے ہی ایک گرتا تھا فورا دوسرا اس کی جگہ لیتا تھا اس طریقہ سے چالیس آدمیوں نے یہ سعادت حاصل کی۔

حضرت علیؓ نے دیکھا کہ جب تک اونٹ اپنی جگہ پر قائم رہے گا اس وقت تک یہ خونریزی بند نہیں ہو سکتی اس لیے انہوں نے حکم دیا کہ اونٹ کے پاؤں زخمی کر کے اسے گرا دیا جائے اس حکم پر چند آدمی آگے بڑھے اور ایک شخص اعین بن ضبہ نے اونٹ کے پاؤں زخمی کر دیے وہ بلبلا کر بیٹھ گیا اس کے بیٹھتے ہی لڑائی کا رنگ بدل گیا اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کی فوج کی ہمت چھوٹ گئی۔

(تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 260)

القصہ قاتلانِ عثمانؓ نے اور حضرت علیؓ کے فوجیوں کی سازش سے یہ خونی معرکہ پیش آیا جس میں دس ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ 

کشف الغمہ کے شیعہ مؤرخ نے بڑے فخر سے اس خونریزی کے متعلق لکھا ہے:

جنگ خوب گرم ہوئی حتیٰ کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے اونٹ کی ٹانگیں کاٹ دی گئیں اور وہ گر پڑا سب میدان خون سے سرخ ہو گیا جمل والے بصری، شکست کھا گئے جمل کے مقتول لشکر کی تعداد 16790 تھی اور وہ کل 39 ہزار تھے حضرت علیؓ کے ساتھیوں سے 1070قتل ہوئے جبکہ 20 ہزار تھے۔ (کشف الغمہ: صفحہ، 330)

فریقین کے مقتولوں کے متعلق اس میں جانبداری اور کذب و مبالغہ ضرور کار فرما ہے لیکن وجہ ظاہر ہے کہ جمل والوں پر اچانک صلح کے بعد یہ سوتے ہوئے حملہ ہوا اور حضرت علیؓ کا معقول لشکر بیدار اور فتنہ بھڑکانے میں تھا اس نے نیند میں غافل مسلمانوں کو ذبح کر کے بہادری کا بڑا ڈپلوما حاصل کیا۔

تاریخ کے ان حقائق کی روشنی میں یہ خونی معرکہ قاتلانِ حضرت عثمانؓ کی سازش کا مرہون منت تھا اہلِ سنت و الجماعت کے اعتقاد کے مطابق ذمہ دار اور گنہگار وہی بلوائی ہیں جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فوجی تھے نہ سیدنا علی المرتضیٰؓ پر ہم کوئی طعن کرتے ہیں نہ بلوائیوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے والے حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہ پر کوئی ذمہ داری یا الزام ہے شیعہ کو اگر زیادہ اصرار ہی ہے تو ان تفصیلات میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ممانعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باوجود مدینہ سے لشکر لانا پھر اپنے لشکریوں کے مکر سے بقول شیعہ عالم الغیب اور مشکل کشا ہونے الغیب اور مشکل کشا ہونے کے باوجود بے خبر رہنا اور سازش کو ختم نہ کرنا حتیٰ کہ 18 ہزار یا 10 ہزار مسلمانوں کا گاجر مولی کی طرح کٹ جانا آج بھی ان خونی معرکوں کو مزے سے بیان کرنا اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اس بہادری پر فخر کرنا معائنہ کر کے انصاف سے شیعہ ہی بتلائیں کہ اس خونریزی کا ذمہ دار کون ہوا قیامت کے دن یہ 18 ہزار کا خون کس کے سر ہو گا۔ اور ان کا منقولہ فتویٰ قرآنی کس پر چسپاں ہوا۔

پس منظر جنگ صفین:

صفین کی نوعیت بھی یہی ہے کہ قاتلانِ عثمانؓ کی سازش سے رونما ہوا آپ غور کریں کہ حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہی جنگِ جمل سے پہلے اہلِ شام پر لشکر کشی کی مدینہ سے تیاریاں کیوں ہو رہی تھیں حضرت امیرِ معاویہؓ نے تو خونریزی سے بچتے ہوئے اہلِ جمل کی بھی آکر مرد نہیں کی پھر بھی ایک عظیم لشکر یہیں سے شام کو چہل قدمی کرتا ہے اور صفین کے مقام پر اس کو جنگ پر ابھارا جاتا ہے۔

ان علياؓ حرض الناس يوم صفين فقال ان الله قد دلکم علی تجارة تنجيكم من عذاب اليم۔

(طبری: جلد، 5 صفحہ، 16)

ترجمہ: بے شک حضرت علیؓ نے لوگوں کو صفین کے دن جنگ پر ابھارا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسی تجارت بتائی ہے جو تمہیں درد ناک عذاب سے نجات دے گی۔

طبری: جلد، 4 صفحہ، 563 پر ہے:

صفحہ 4 از 10