حادثہ جمل و صفین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حادثہ جمل و صفین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 10

اے امیر المؤمنین آپ مدینہ سے نہ نکلیں اللہ کی قسم اگر آپ یہاں سے نکل پڑے تو کبھی پلٹ کر نہ آئیں گے اور مسلمانوں کے خلافت کبھی مدینہ نہ آئے گی لوگ عبداللہ کو گالیاں دینے لگے تو حضرت علیؓ نے فرمایا اس آدمی کو کہنے دو حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے یہ بہت اچھا آدمی ہے۔

اسی روایت میں ہے کہ اور تو اور آپ کے فرزندِ اکبر حضرت حسن رضی اللہ عنہ بھی اس خروج کے مخالف تھے اور روکتے ہوئے فرمایا ابا جان آپ میری ہر بات میں مخالفت کرتے ہیں میں نے محاصرہ حضرت عثمانؓ کے وقت آپ کو باہر چلے جانے کا کہا تا کہ لوگ قتل کا الزام آپ پر نہ لگائیں میں نے کہا اس وقت تک لوگوں سے بیعت نہ لیں جب تک باہر کے لوگ بیعت نہ کریں میں نے کہا حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے آپ کے ہاتھوں سے نکل جانے پہ آپ خاموشی سے گھر بیٹھ رہیں تا آنکہ وہ صلح کر لیں تو حضرت علیؓ نے فرمایا؛

والله ما زلت مقهورا من ولیت منقوصا لا اصل الى شيء مما ينبغی وأما قولك واجلس في بيتك فکیف بما قد نزلنی او من تریدنی الخ۔

(طبری: جلد، 4 صفحہ، 456 البدایہ والنہایہ: جلد 7، صفحہ، 334)

ترجمہ: اللہ کی قسم جب سے میں حاکم بنا ہوں مجبور کیا جاتا ہوں اپنے مرتبے سے کم ہو رہا ہوں کرنے کے کام تک میری رسائی نہیں رہی تیری یہ بات کہ میں گھر میں بیٹھ رہوں تو خلافت کی ذمہ داری سر پر پڑھنے کے بعدیہ کیسے ہوسکتا ہے کیا تو چاہتا کہ عورتوں کی طرح دبک بیٹھوں۔

الفرض ان تلخ حقائق کی روشنی میں بلوائیوں کے اصرار اور دباؤ سے آپ بصرہ کی طرف جلدی میں چل تو پڑے لیکن جب فریقین کے بزرگ آپس میں ملے تو پتہ چلا کہ اختلاف فی نفسہ کچھ بھی نہیں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ قصاص لینے کے منکر نہیں نہ سیدنا طلحہٰ رضی اللہ عنہ و حضرت زبیرؓ رضی اللہ عنہا وام المؤمنین حضرت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے باغی اور مخالف ہیں بلکہ وہ تو فراہمی لشکر سے حضرت علیؓ کی حکومت سے قصاص کے مسئلہ پر تعاون کرنا چاہتے ہیں چنانچہ مصالحت کی بات چیت مکمل ہو گئی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ علیہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیج کر بتلایا کہ وہ بلاشبہ صلح و اتفاق کے لیے آئی ہیں پس یہ لوگ بھی خوش ہو گئے اور وہ لوگ بھی 

(طبری: جلد، 4 صفحہ، 489) 

پھر حضرت علیؓ نے لوگوں میں خطبہ دیا حمد و ثناء کے بعد زمانہ جاہلیت کی بد بختی اور بداعمالی کا ذکر کیا پھر اسلام کا ذکر کرتے ہوئے اس کی وجہ سے مسلمانوں کی آپس میں محبت اور ایک جماعت ہونے کا ذکر کیا۔

و ان الله جمعهم بعد نبيهم على الخليفة ابى بكر الصديقؓ ثم بعدہ عمر بن الخطابؓ ثم علیؓ عثمانؓ ثم حدث ھذا الحدث الذی جری علی الامة اقوام طلبوا الدنیا وحسدوا علی الفضیلتہ التی من اللہ بها واراد وارد الاسلام والاشياء علی ادبارها والله بالغ امرہ ثم قال الا انی مر تحل غدا فار تحلو او لا يرتحل معى أحد اعان علی قتل عثمان بشی ء من امور الناس۔

(طبری: جلد، 4 صفحہ، 493 البدايہ: جلد، 7 صفحہ، 339 ابنِ خلدون: جلد، 2 صفحہ، 1079 ابنِ اثیر: جلد، 3)

ترجمہ: اور بے شک اللہ نے اپنے نبی کے بعد مسلمانوں کو خلیفہ ابی بکر صدیقؓ پر پھر حضرت عمرؓ پھر حضرت عثمانؓ پر جمع کر دیا پھر امت پر یہ اختلاف کا حادثہ پیش آیا یہ فتنہ باز دنیا کے طالب ہیں اس امت پر اللہ کی نعمت اتفاق پر حسد کرتے ہیں اسلام اور اس کی اصلاحات کو پسِ پشت ڈال کر جاہلیت کا دور لانا چاہتے ہیں پھر فرمایا سنو میں کل واپس ہونے والا ہوں تم بھی واپس چلو اور میرے ساتھ ان میں سے کوئی بھی نہ چلے جنہوں نے کسی قسم کی قتلِ عثمانؓ میں مدد کی ہے۔

یہی تمام مؤرخین لکھتے ہیں کہ اس خطبہ کے بعد ہی بلوائیوں جو حضرت علیؓ کے لشکری تھے کے لیڈر اکٹھے ہوئے جیسے اشتر نخفی شریح بن ابی اوفیٰ عبد الله بن سبا المعروف بابن سودا سالم بن ثعليه، علباء بن الہثیم وغیرہ ڈھائی ہزار نفوس کے لگ بھگ ان میں صحابی کوئی نہ تھا الحمدللہ تو کہنے لگے یہ کیا بات ہے حضرت علیؓ اللہ کی قسم کتاب اللہ کو قصاصِ حضرت عثمانؓ کے طالبوں سے زیادہ جانتے ہیں اور اس بات پر عمل کرنے کے زیادہ قریب ہیں اور تم انکا فرمان سن چکے ہو بالآخر اس فیصلہ پر متفق ہوئے کہ دونوں لشکروں میں گھل مل کر سو جاؤ رات کو کسی وقت اٹھ کر تلوار چلانا شروع کر دو حضرت علیؓ کے لشکری کہیں حضرت طلحہٰؓ و حضرت زبیرؓ نے غداری کی اور کہیں حضرت علی المرتضیٰالمرتضیٰؓ نے غداری کی تم اس تدبیر سے قصاص سے بھی جاؤ گے وہ مسلمان اس فتنہ میں مبتلا ہو جائیں گے جو تمہارا مقصود ہے چنانچہ یہی کچھ ہوا ہر ایک نے فریق مخالف سے غدر سمجھ کر دفاعاً تلوار چلائی (جملہ تواریخ ) تاریخِ اسلام از شاه معین الدین احمد ندوی سے چند 

اقتباسات ملاحظہ ہوں:

صفحہ 3 از 10