حادثہ جمل و صفین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حادثہ جمل و صفین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 10

اور بصائر الدرجاتبسند ہائے معتبر روایت کرده است چون محمد بن ابی بکر گرو ہے از اشراف مصرا بخدمت امیر المومنين فرستاد عبد الرحمٰن بن ملجم درمیان ایشان بود: صفحہ، 183

کئی معتبر سندوں کے ساتھ بصائر الدرجات میں روایت ہے کہ جب حضرت محمد بن ابی بکرؓ نے مصر کے معززین کی ایک جماعت حضرت امیر المؤمنین کی خدمت میں بھیجی ان میں عبدالرحمٰن بن ملجم بھی تھا۔

2: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اس نفرین کے باوجود اس نے تین مرتبہ حضرت علیؓ کے دوستدار ہونے کی قسم کھائی۔

تا آنکه سه مرتبه بخدمت آنجناب آمد در مرتبه سوم با حضرت بیعت کرد چون پشت کر د حضرت بار دیگر اور ابطلبید و سوگندها داد که بیت نشکند۔(صفحہ، 185)

ترجمہ: تین مرتبہ وہ حضرت کی خدمت میں آیا تیسری مرتبہ حضرت کے ہاتھ پر بیعت کی جس وقت واپس ہوا تو حضرت نے پھر بلا کر قسمیں دلوائیں کہ بیعت نہ توڑنا۔

3: بعد از قتل آن ملعون گریست و گفت با امیر المؤمنین آیا تو نجات میتوانی داد کسی را که در جهنم است پس امیر المومنین برائے آن ملعون به امام حسینؓ سفارش کر۔(صفحہ، 203)

ترجمہ: حضرت علیؓ پر حملہ کے بعد وہ رونے لگا اور کہتا تھا اے امیر المؤمنین کیا آپ جہنم میں جانے والے کو نجات دے سکتے ہیں شیعہ کا آج بھی یہی عقیدہ ہے امیر المؤمنین نے اس ملعون کے لیے حضور حسنؓ سے سفارش کی۔

اسی سلسلہ میں ہے کہ ابنِ ملجم نے کہا میں نے تمہارے باپ کو قتل کرنے کا خدا سے عہد کر رکھا تھا وہ پورا کر دیا آپ اے سیدنا حسنؓ، مجھے چاہیں تو قتل کریں اگر معاف کریں تو میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کے پاس جاتا ہوں اور اس کو قتل کر کے اس کے شر سے تجھے راحت دیتا ہوں۔ (صفحہ، 218)

کوفی مصری اور بصری بلوائیوں کو اصحاب رسول سے جھوٹی تعبیر کر کے حضرت عثمانِ غنیؓ پر طعن کرنے والو! اپنے اس بڑے قسم خور محبِ علیؓ دشمنِ سیدنا امیرِ معاویہؓ اور عزادار علی کے مذہب پر بھی غور و فکر کر کے حسرت و ندامت کے آنسو بہایا کرو

یہاں تک اہلِ نہروان کا بیان ہوا جن کے قاتل حضرت علیؓ پر معترض صاحب کا فتویٰ صادر کرتے ہیں شاید اس وجہ سے ان سے عقیدت و ہمدردی ہو گی کہ وہ شیعہ کے پیشوایان اول اور عقیدہ امامت کو منجانب اللہ خدائی عہدہ مانتے تھے اور شوری رائے زنی کے قائل نہ تھے جو آج بھی شیعہ کا عقیدہ ہے سے قیاس کن ز گلستان من بہار مرا اور شاید یہی وجہ ہو کہ نماز پنجگانہ کے بعد حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ حضرت عائشہؓ حضرت حفصہؓ وغیرہم بزرگانِ دین پر شیعہ لعنت بھیجتے ہیں لیکن اس فہرست میں ابنِ ملجم کا نام نہیں ہے۔ (فروع کافی: صفحہ، 246)

اہل جمل کے قاتل:

شہدائے جمل کی داستان بڑی درد ناک ہے جب شہادت حضرت عثمان ذوالنورینؓ کے بعد بلوایانِ سیدنا عثمانؓ مدینہ منورہ پر قابض ہو گئے اور حضرت عثمانِ غنیؓ کے حامیوں اور جمہور مسلمانوں پر سختی ہونے لگی اور لوگ مدینہ سے بھاگنے پرمجبور ہو گئے جیسے ایک فراری عبید بن ابی سلمہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ کے استفسار پر فرمایا۔

اخذوا اهل المدينة بالاجتماع على على والقوم الغالبون على المدينة۔

(طبری: جلد، 5 حوادث، 36ھ)

ترجمہ: بلوائیوں نے پکڑ دھکڑ سے اہلِ مدینہ سے سیدنا علیؓ کی بیعت کروائی ہے اور وہ مدینہ پر پوری طرح قابض ہیں اور اس حالت کے عینی شاہد حضرت طلحہٰؓ اور حضرت زبیرؓ جیسے بزرگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی ام المؤمنین سے آ کر عرض کی:

فقالا وراءنا انا تحملنا بقلتنا هر ابا من المدينة من غوغاء و اعراب و فارقنا قوما جیاری لا یعرفون مقاولا ينكرون باطلا ولا يمنعون انفسھم۔ (طبری: جلد، 5 ايضاً)

ترجمہ: کہنے لگے ہمارے پیچھے مدینہ کی حالت یہ ہے کہ ہم اپنی قلت کی وجہ سے مدینہ سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں وہاں اجڈ گنواروں کا زور ہے ہم ایسی قوم سے جدا ہو کر ائے ہیں جو حیران ہیں حق نہیں پہچانتے باطل کا ارتکاب نہیں کرتے نہ فساد سے اپنے نفسوں کو روکتے ہیں۔

ان تاریخی شہادتوں کے علاوہ نہج البلاغہ میں بھی یہ حقیقت مسطور ہے کہ جب حضرت علیؓ سے اہلِ مدینہ نے قصاصِ عثمانِ غنیؓ کا مطالبہ کیا تو فرمانے لگے ابھی یہ کیسے ممکن ہے۔

هم یملكوننا ولا نملكهم۔

ترجمہ: ہمارے وہ مالک بنے ہوئے ہیں گویا حکومت ان کی کٹھ پتلی ہےاور ہم ان پر قابو یافتہ نہیں ہیں۔

ان حالات میں حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ کے سفر سے واپسی کا رخ کیا خلافتِ اسلامیہ کے وقار حضرت عثمانؓ مظلوم کے قصاص میں حضرت علیؓ کی اعانت اور بلوائیوں سے ان کی رہائی جیسے مقاصد حسنہ کے پیشِ نظر مکہ مکرمہ میں لشکر کی فراہمی شروع کی لیکن فتنہ بازوں نے حضرت علیؓ کو غلط رپورٹ پہنچائی آپ نے بھی عجلت سے کام لیتے ہوئے اہلِ مدینہ کو حضرت طلحہٰؓ حضرت زبیرؓ اور ام المؤمنین کے ساتھ جنگ کے لیے ابھارا مگر اہلِ مدینہ نے تنے چند کے سوا ساتھ نہ دیا۔

(البدایہ، و ابنِ اثیر: جلد، 5 صفحہ، 164) 

مجبوراً آپ نے کوفہ سے بلوائیوں کے رشتہ داروں کا لشکر فراہم کر کے بصرہ پر چڑھائی شروع کردی بزرگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے روکنے سے بھی نہیں روکے طبری سے کچھ تفصیلات ملاحظہ ہوں۔

حضرت محمد اور حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مدینہ میں تھے آپ کو خبر ملی کہ حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ وغیرہ قصاصِ عثمانِ غنیؓ کی تیاری میں بصرہ جانا چاہتے ہیں اور مقصد آپ کو معلوم ہوا جس پر حضرت طلحہؓ، حضرت زبیؓر، حضرت عائشہؓ اور ان کے سردار اور تابعدار متفق تھے یعنی قصاصِ عثمانؓ تو حضرت علیؓ نے جو تیاری شام پر چڑھائی کے لیے کر رکھی تھی اسی تیاری سے بصرہ پر چڑھائی کے لیے نکل کھڑے ہوئے آپ کے ساتھ کوفیوں، بصریوں کے 700فوجی تھے آپ کا خیال تھا کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیؓر کا محاصرہ کر کے ان کو اس اقدام سے باز رکھیں گئے۔

(طبری: جلد، 4 صفحہ، 455، 477)

اسی دوران حضرت عبداله بن سلامؓ نے حضرت علیؓ کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر فرمایا:

يا امير المومنين لا تخرج منها فو الله ان خرجت منها لا ترجع إليها ابد اولا يعود اليها سلطان المسلمین ابدا فسبوه فقال دعوا الرجل فنعم الرجل من أصحاب محمد۔

صفحہ 2 از 10