حادثہ جمل و صفین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حادثہ جمل و صفین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 10

مقام کی مناسبت سے خلافتِ مرتضوی کا ذکرِ خیر ہوا مگر حضرت امیرِ معاویہؓ کو شرعی باغی اور ملعون قرار دینا درست نہیں جو شیعہ لوگ حضرت امیرِ معاویہؓ اور اہلِ جمل و صفین کو نشانہ طعن بناتے رہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کو بدستور ابتغاءِ قصاصِ عثمانؓ میں حسنِ نیت کی بدولت کامیابی دے رہے ہیں اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا یہ اندیشہ صحیح ثابت ہو کر رہا کہ حضرت امیرِ معاویہؓ پوری ملتِ اسلامیہ کے ایک دن خلیفہ بن جائیں گے کیونکہ ربِ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ‌ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا ۞(سورۃ الاسراء: آیت 33)

ترجمہ: جو ظلماً قتل کیا جائے اس کے وارث کو ہم قوت بخشتے ہیں پس وہ قتل میں حد سے نہ گزرے بلاشبہ منجانب اللہ اس کی مد د ہوگی۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا قطعی فیصلہ:

شرکاءِ اور شہداءِ جمل و صفین کے متعلق معترض کو قاضی امت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے اس قطعی فیصلے پر ایمان لا کر اپنے کفر سے توبہ کر لینی چاہیئے جسے آپ نے گشتی مراسلہ کے طور پر پوری مملکت میں پھیلایا۔ 

و من كتاب له عليه السلام کتبہ الى الامصار يقص فيه ماجرى بينه و بين اهل صفين وكان بدء امرنا التقينا و القوم من اهل الشام و الظاهر ان ربنا واحد و نبينا واحد ودعوتنا فی الاسلام واحدة ولا نستزيدهم فی الایمان بالله والتصديق برسوله ولا يستزيد وننا الامر واحد الاما ختلفنا فيه من دم عثمانؓ ونحن منہ براء۔(نہج البلاغہ: جز، 3 صفحہ، 125)

ترجمہ: آپ کا ایک خط یہ بھی ہے جو آپ نے گشتی مراسلہ کے طور پر اپنے مملکت میں پھیلایا اور اس میں جنگِ صفین کی روائیداد بیان کی کہ ہماری اور شامیوں کی جنگ ہو گئی اور ظاہر ہے کہ ہمارا رب ایک ہے اور ہمارا پیغمبرﷺ ایک ہے ہماری اسلام میں دعوت ایک ہے ہم ان سے خدا اور رسول پر ایمان میں اضافہ نہیں چاہتے نہ ہم سے یہ اضافہ چاہتے ہیں مذہب و عقیدہ میں سب اتفاق ہے بجز اس کے دمِ عثمانِ غنیؓ میں ہمارا اختلاف ہو گیا اور ہم اس الزام سے پاک ہیں

حضرت علیؓ کے اس فرمان نے حضرت امیرِ معاویہؓ اور اہلِ شام کو بر حق اور کامل مومن بنا دیا اور اختلاف کی وجہ بھی بتا دی کہ وہ قصاصِ عثمانؓ ہے نہ کہ خلافتِ علوی کا انکار اور اپنے لیے دعویٰ خلافتِ اس فیصلہ کا منکر منکرِ علیؓ ہے اور منکرِ علیؓ شیعہ کے ہاں جہنمی ہے اب بتلائیے جب اہلِ شام مؤمن کامل ہوئے تو ان کے قاتل پر کیا فتویٰ ہو گا معترض صاحب فتویٰ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لگانا چاہتے ہیں مگر اپنے ممدوح سمیت خود اس کی زد میں آگئے ہے۔

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا۔

ہمارے نزدیک قرآنی آیت اور اس کا فتویٰ جماعتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر نہیں لگ سکتا جیسے عنقریب سوال 64 کے تحت مفصل آئے گا۔


صفحہ 10 از 10