ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 26

نہ معلوم اب 1400 سال تک جھگڑا کس بات پر ہے۔ مدعی سست گواہ چست کی مثال اس پر صادق آتی ہے کیا یہ سب کچھ فرقہ پرستی اور حضرت ابوبکرؓ دشمنی کا آئینہ دار نہیں ان حقائق سے قاضی نور اللہ شوستری مجالس المومنین: صفحہ، 53 جیسے لوگوں کے اس سوال کا بھی جواب ہوگیا کہ حضرت ابوبکرؓ نے بطورِ تبرع ہی دے کر سیدہ فاطمہؓ کیوں خوش نہ کر دیا۔

اگر حضرت ابوبکرؓ اموالِ فے فدک خبیر صدقات مدینہ سیدہ فاطمہؓ کو سب دے دیتے تو خلاف اصول ہوتا کیونکہ دیگر چھے مصارف کا بھی حصہ تھا نیز سیدنا ابوبکرؓ پر جانبداری از خویش نوازی کا الزام آتا کہ مسلمان خلیفہ نے اپنے پیغمبر کی صاحبزادی کا لحاظ کیا یا اپنی نواسی کو اتنی بڑی جائیداد سب مسلمانوں سے کاٹ کر دے دی یہاں یہ اعتراض کوئی وزن نہیں رکھتا کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ نے جب یہ دعویٰ کیا کہ مجھے حضورﷺ نے کچھ مال دینے کا وعدہ فرمایا تھا تو سیدنا ابوبکرؓ نے ان کو تین دفعہ مٹھی بھر کر دراہم دیئے (بخاری) اس لیے کہ برعکس سیدہ فاطمہؓ کا دعویٰ فدک جیبر اور مدینہ کے صدقات پر تھا کما فی بخاری اور شیعہ روایات کی روشنی میں تو بہت بڑی جائیداد تھی ایک روایت کے مطابق یہ بڑا شہر تھا جہاں کھجوروں کے بہت باغات تھے۔ 

(شرح ابنِ ابی الحدید: جلد، 7 صفحہ، 348 مناقب فاخرہ: صفحہ، 178 اصول کافی: صفحہ، 355 کی روایت کے مطابق: 

حد اول عریش مصر حد دوم دومة الجندل حد سوم تیا حد چہارم جبل احد۔

 گویا سب مملکت اسلامیہ پر سیدہ فاطمہؓ کا دعویٰ تھا تیسری روایت کے مطابق سیدنا موسیٰ کاظم رحمہ اللہ نے ہارون الرشید کے دربار میں جو حدودِ فدک بیان کی تھیں،

  • حد اول: عدن 
  • حد دوم: سمرقند 
  • حد سوم: افریقہ اور 
  • حد چہارم: سیف البحر یعنی جزر اور ازمینیہ سے تمام ملک گویا سب خلافت عباسیہ-

ان هذا كله مما لم يوجف على أهله رسول اللهﷺ بخیل و لا ركاب فقال كثير النظر فيه۔

(اصول کافی: صفحہ، 546 باب الفںٔی)

ترجمہ: پھر سیدنا موسیٰؒ نے فرمایا یہ سب وہ فدک والی جائیداد ہے جس پر حضورﷺ نے گھڑ دوڑ اور لشکر کشتی نہیں کی ہارون نے کہا یہ تو بہت ہے اچھا میں غور کروں گا۔

حضرات! یہ شیعہ تصریحات کی روشنی میں بنام حقِ فدک سب ملتِ اسلامیہ کے رقبہ پر دعویٰ ہے اس کو تسلیم کرنے کا معنیٰ یہ ہے خلیفہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نام حکومت کا سب رقبہ انتقال کرا دے اور زمانہ خلافت آپ کو دے دے اور سب مسلمان مصارفِ حکومت کے لیے دریوزہ گری کریں کیا اس کا حضرت جابرؓ کے تین مٹھی دراہم پر دعویٰ سے موازنہ کرنے کا کوئی تک ہے جو تجلیات صداقت میں کیا گیا ہے۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سوال کا منشاء کیا تھا:

یہ سوال واقعی اہم ہے ہم شیعہ دماغ سے اس کا جواب نہیں دے سکتے کیونکہ ان کے ہاں جب پیغمبرﷺ نے منصبِ نبوت اور شاہانہ رعب سے یہ صوبے کفار سے لے کر (العیاذ بالله) خود اپنی ملکیت خاص بنا لیے اور پھر لختِ جگر حضرت فاطمہؓ ہی کو ہبہ کر دیئے تو سیدہ فاطمہؓ نے 6 ماہ 75 دن کی زندگی کے لیے اتنی بڑی جائیداد، دنیا کو بلا شرکت غیر اپنا ہی حق سمجھ کر مطالبہ کی زحمت اٹھائی گواہ بھی دربارِ خلافت میں پیش کیے جب نصاب نامکمل ہونے کی وجہ سے رد ہوگئے تو لوگوں کے سامنے فریاد کرتی پھریں حضراتِ حسنینؓ وغیرہ معصوم بچوں کو خچر پر بیٹھا کر لوگوں سے استغاثہ اور ہمدردی چاہتیں مگر کوئی سنے والا نہ تھا غصب فدک کے غم میں رو رو کر جان نڈھال کر دی پھر اسی صدمہ سے جان بحق ہوگئیں شیعہ ذاکرین بالکل اس انداز میں مظلوم حضرت فاطمہؓ کی صورت و سیرت فخریہ طور پر پیش کرکے ہزاروں روپے کے نذرانے پنج تن کے نام پر بھکاری کی طرح قوم سے وصول کرتے ہیں جیسے امام ویسے مقتدی کتبِ اہلِ سنت میں مطالبہ کی صورت بظاہر سیدہ فاطمہؓ کی زاہدانہ سیرت کے منافی معلوم ہوتی ہے اہلِ سنت و الجماعت چونکہ اپنے مذہبی اصول کی رو سے بزرگانِ دین خصوصاً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے دفاع باعثِ سعادت جانتے ہیں لہٰذا بظاہر قادح یا منافی سیرت اعمال میں مناسب توجیہ و تاویل کے قائل ہیں۔

1: شیعہ اعتقاد کے علی الرغم ذاتی حق یا دنیوی لالچ کے پیش نظر یہ مطالبہ نہیں کیا بلکہ مقصد یہ تھا کہ مالِ فے کی جن جائیدادوں سے ہمیں آمدنی ملا کرتی تھی وہ حضورﷺ کی تحویل میں تھیں اب بطورِ وراثت و قرابت میری تحویل میں آجائیں تو میں رفاہی اور ملی کاموں میں صرف کر کے خدمتِ اسلام بجا لاؤں چونکہ یہ منصب جانشینِ پیغمبرﷺ کا تھا جیسے سیدنا جعفر صادق رحمہ اللہ کے ارشاد: و ھو الامام من بعده يضعه حيث يشاء۔

ترجمہ: وہ امام کے قبضے میں رہے گا جہاں چاہے رکھے گا، اور فرمانِ نبوی بروایتِ سیدنا صدیقؓ گزر چکا ہے لہٰذا آپ نے معذرت فرما دی یہی وجہ ہے کہ سیدنا عباسؓ بھی آپ کے ساتھ مطالبہ میں شریک تھے اور معین جائیداد فدک کا مطالبہ نہ تھا خیبر فدک مدینہ تینوں مقامات کے صدقات کی تولیت کا مسئلہ تھا بقول شیعہ اگر حیاتِ نبویﷺ میں ہبہ ہوچکا ہوتا تو نہ سیدنا عباسؓ ساتھ ہوتے نہ میراث کا سوال اٹھتا اور نہ خیبر و مدینہ کے صدقات کی صراحت ملتی علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے عرف الشذی: صفحہ، 485 پر علامہ سمودیؒ سے نقل کیا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کا سوال صرف ان اموالِ فے میں بطورِ قرابت رشتہ داری متولی بننے کے متعلق تھا۔

2: میراث فدک و فے کا سوال اس وجہ سے اٹھا کہ ان اموال کی حیثیت ذو الوجہین تھی اس لحاظ سے کہ یہ صرف حضور اکرمﷺ کی تحویل اور قبضے میں تھے اور کسی مسلمان کو تصرف کا حق نہ تھا ملکیت خاصہ کا شبہ ہوتا تھا اور اس لحاظ سے کہ یہ قرآن کے آٹھ مصارف اور دیگر رفاہی و ملی کاموں میں آپ صرف فرماتے تھے یہ اموال خالصہ در تصرف پیغمبرﷺ بیتُ المال کا حق معلوم ہوتے تھے سیدہ فاطمہؓ کے ذہن میں پہلی وجہ آئی تو آپؓ نے دعویٰ فرمایا حافظ ابنِ القیم زاد المعاد: جلد، 2 صفحہ، 163 پر رقمطراز ہیں:

صفحہ 9 از 26