ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 26

 پر ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت فاطمہؓ سے فرمایا کہ میں نے حضورﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی نبی کو خوراک کھلانے کے لیے دیتے ہیں فهو للذی یقوم من بعدہ تو اس میں تصرف کا حق اس خلیفہ کو ہے جو اس کا قائم مقام ہے اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ وہ مالِ فے یا باصطلاح شیعہ انفال بلا جنگ حاصل ہونے والا مال حضورﷺ کے بعد آپﷺ کے خلیفہ کے قبضے میں آئے گا تو آپ کا اس پر قبضہ متولیانہ و حاکمانہ ہوا نہ مالکانہ فهو المقصود ورنہ رشتہ داروں کو ملنا چاہئیے ہمارے اعتقاد میں جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ خلیفہ رسولﷺ ہیں تو اس متفقہ بین الفریقین اصول کی رو سے فدک وغیرہ کے متولی آپ ہوئے اور یہ تولیت بطورِ میراث کسی کا حق نہ ہوا، فهو المقصود۔

ابوداؤد: كتاب الخراج الفںٔی، جلد، 2 صفحہ، 59 مالک بن اوس الحدثان سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ و حضرت عباسؓ حضرت عمرؓ کے پاس اموالِ فدک کے علیحدہ علیحدہ متولی بننے کا جھگڑا لے کر آئے حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت سعدؓ اور حضرت عثمانؓ نے بھی پاس بیٹھے تھے تو حضرت عمرؓ نے ان سے کہا کیا تم جانتے نہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے۔

كل مال النَّبِیﷺ صدقة الاما اطعمه أهله وكساهم انا لا نورث قالوا بلیٰ۔

 ترجمہ: نبی کریمﷺ کا ہر مال مقبوضہ صدقہ ہوتا ہے مگر جو کچھ اپنے گھر والوں کو کھلا پہنا دیں ہم کسی کو وارث دنیوی نہیں چھوڑتے سب نے کہا جی ہاں۔ تو رسول اللہﷺ اس مال سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے تھے اور بقیہ صدقہ کر دیتے تھے اللہ نے جب اپنے نبی کو وفات دے دی تو دو سال حضرت ابوبکرؓ والی بنے وہ بھی یہی عمل کرتے رہے جو رسول اللہﷺ کرتے تھے میں بھی ایسا کرتا رہا پھر تم کو تقسیم من المسلمین کا متولی بنایا اب تم علیحدہ تقسیم کا مطالبہ کرتے ہو خدا کی قسم میں تاقیامت ایسا نہ کروں گا تم اگر مشترکہ تولیت سے عاجز ہو تو مجھے یہ اموال واپس کر دو۔ 

(کذا فی: جلد، 2 صفحہ، 57)

2 : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سنت نبوی کے مطابق اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو خرچ دیتے تھے:

جب فدک کا مال فے ہونا آٹھ مصارف میں قابلِ تقسیم ہونا حضورﷺ کا ذاتی ملکیت نہ ہونا بھر جانشین پیغمبر کا اس پر قابض ہونا اور مالکانہ حقوق و تقسیم کسی کو نہ دینا تنقیح اول سے معلوم ہوچکا تو اب واضح ہو کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور اسی طرح سیدنا عمر فاروقؓ سیدنا عثمانِ غنیؓ سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا حسن مجتبیٰؓ بھی سنتِ پیغمبر کے مطابق خرچ کرتے اور اہلِ بیتؓ کو راشن دیتے تھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھرے مجمع میں قسم دے کر سیدنا عمرؓ کا حاضرین سے پوچھنا اور سیدنا علیؓ و سیدنا عباسؓ سے پوچھ کر ان سب سے اس بات کی تصدیق کرانا کہ حضورﷺ ایک سال کا خرچ اپنے اہلِ بیتؓ کو اس مال سے دیتے تھے اور بقیہ دیگر اللہ کی خرچ کی جگہوں میں خرچ کرتے تھے گزر چکا ہے اور اس میں یہ تصریح ہے۔

فقال ابو بکرؓ ان ولی رسول اللهﷺ فقبضتها فعمل بما عمل به رسول اللهﷺ ثم توفی الله ابا بکرؓ فقلت انا ولی رسول اللهﷺ فقبضتها سنتين اعمل فيها بما عمل فيها رسول اللهﷺ وابو بکرؓ۔  (بخاری: صفحہ، 996)

پس سیدنا ابوبکرؓ نے کہا میں حضورﷺ کا خلیفہ ہوں میں نے ان مالوں کو لے کر وہی عمل کیا جو حضورﷺ نے کیا تھا پھر اللہ نے حضرت ابوبکرؓ کو وفات دے دی تو میں نے کہا کہ میں اب رسول اللہﷺ کا خلیفہ ہوں پس دو سال تک ان سالوں پر قابض ہو کر وہی کرتا رہا تو حضورﷺ اور سیدنا ابوبکرؓ کرتے تھے۔

عام مؤرخین کے علاوہ شارحین نہج البلاغہ بھی سیدنا ابوبکرؓ کے نفقہ اہلبیتؓ کو دینے کا ذکر کرتے ہیں۔

خلاصہ ابوبکرؓ غلہ و سود آنرا گرفتہ بقدر کفایت باہلبیت علیہم السلام مے دارد خلفاء بعد از وہم براں اسلوب افتاد نمودندتا زمان معاویہؓ۔ 

(جلد، 2 صفحہ، 960 فیض الاسلام از سید علی نقوی)

خلاصہ یہ کہ سیدنا ابوبکرؓ غلہ اور دیگر آمدنی ان مالوں کی لیکر اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو پورے خرچ کی مقدار دے دیتے تھے اور دیگر خلفاء بھی اس کے بعد حضرت عمرؓ حضرت عثمانؓ حضرت علیؓ حضرت امیرِ معاویہؓ اسی طور پر کرتے رہے۔

علام مثیم بحرانی بھی حضرت ابوبکرؓ کے اعتذار اور رضاء حضرت فاطمہؓ کے متعلق لکھتے ہیں:

وذلك ان لك ما لا بيك كان رسول اللهﷺ ياخذ من ذلك قوتكم ويقسيم الباقی و یحمل منه فی سبيل الله ولك على الله ان اصنع بها كما كان يصنع فرضيت بذلك واخذت العهد عليه به وكان يأخذ غلتها فيدفع اليهم منها ما يكفيهم ثم فعلت الخلفاء بعدہ كذلك۔ 

(ومثله فی درة النجفية شرح نہج البلاغہ: صفحہ، 332)

اور وہ یہ کہ آپ کو وہ کچھ ملے گا جو رسول اللہﷺ سے ملا کرتا ہوں حضورﷺ فدک سے تمہاری خوراک لیتے تھے اور باقی تقسیم کردیتے تھے اور جہاد میں سواریاں فراہم کرتے تھے تیرے دوسرے خلفاء بھی اسی طرح کرتے تھے تیرے لیے میں اللہ کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں فدک میں وہی کروں گا جو رسولﷺ خدا کیا کرتے تھے سیدہ فاطمہؓ اس معاہدہ پر خوش ہوگئیں اور وعدہ پختہ لے لیا سیدنا ابوبکرؓ یہ فدک کا غلہ لیکر اہلبیت کو اتنا دے دیتے جو ان کو پورا ہوتا پھر دوسرے خلفاء بھی اسی طرح کرتے رہے۔

صحیح بخاری: جلد، 2 صفحہ، 576 پر ہے سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ یہ مال فے کے صدقات حضرت علیؓ کے ہاتھ میں رہے حضرت عباسؓ کو تصرف کرنے سے روکا اور ان پر غالب ہوئے پھر یہ حضرت حسن بن علیؓ کے پاس پھر حضرت حسین بن علیؓ کے پاس یہی رسول اللہﷺ کی جائیداد متروکہ کے صدقات تھے عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے کہ علامہ قرطبی کہتے ہیکہ حضرت علیؓ نے فے کے صدقات کو حضراتِ شیخینؓ کے طرز سے بدلا یا نہیں پھر اس کے بعد حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، حضرت علی بن حسینؓ کے ہاتھ میں آتے رہے کسی سے مروی نہیں کہ اس نے ملکیت کا دعویٰ کیا ہو۔

قارئین کرام غور فرمائیں جب حضرت ابوبکرؓ شیعہ تصریحات کی روشنی میں سنتِ نبوی کے مطابق حضرات اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو پورا خرچ دیتے تھے اور حضرت فاطمہؓ اس پر راضی بھی ہوگئی تھیں اور معاہدہ بھی ہوگیا تھا اور سنی تصریحات کے مطابق یہ اموال حضرات اہلِ بیت رضی اللہ عنہم ہی کے تصرف و ولایت میں رہے۔ 

صفحہ 8 از 26