ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 26

اس تفصیل سے معلوم ہوچکا ہے کہ اموالِ فے کو حضورﷺ قرآنی آٹھ مصارف بنامِ خدا رسولﷺ رشتہ دار یتامی مساکین، مسافر، فقراء مہاجرین، فقراء النصار ہیں حسب صوابدید خرچ کرتے تھے اپنا اور اپنے گھر والوں کا خرچ بھی اس سے نکالتے تھے اور اہم کاموں میں اسے صرف فرماتے تھے سیدنا صدیق اکبرؓ بھی اسی سنتِ نبوی پر عمل پیرا تھے لہٰذا مطالبہ کے باوجود حضرت فاطمہؓ کو قبضہ مالکان نہیں دیا جسے خود حضورﷺ نے نہیں دیا تھا اور دنیا ان کے لیے پسند بھی نہ کرتے تھے اس پر سنی شیعہ احادیث ملاحظہ ہوں:

سنن ابی داؤد: جلد، 2 صفحہ، 59 پر ہے کہ سیدہ فاطمہؓ نے ارضِ فدک کا سوال خود آنحضرتﷺ سے بھی کیا تھا مگر آپﷺ نے دینے سے انکار کردیا تھا۔ غالباً اسی واقعہ کی مؤید یہ شیعی روایات بھی ہیں

انت فاطمة بنت رسول اللهﷺ فی شكواه الذی توفى فيه فقالت يا رسول الله ﷺ هذان انبای فورثهما شيئا فقال اما الحسن فله هیبتی واما الحسين فله جوءتی۔

ترجمہ: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسولِ خداﷺ اس بیماری میں حضورﷺ کے پاس آئیں جس میں آپﷺ کی وفات ہوئی تو فرمایا یا رسول اللہﷺ یہ میرے دو صاحبزادے ہیں ان کو کچھ وراثت دے جائیں تو آپ نے فرمایا حضرت حسنؓ کی میراث میری ہیبت و رعب اور حضرت حسینؓ کے لیے میری بہادری ہے۔

نیز شیعہ کے محدث فرات بن ابراہیم بن فرات کوفی تفسیر فرات مطبوعہ نجف اشرف صفحہ 82 پر لکھتے ہیں جو علی بن ابراہیم قمی کے استاذ اور کلینی کے استاذ الاستاذ ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو طلب رواثت کے سوال پر آپ نے کتاب اللہ اور سنتِ نبوی میراث بتائی صحیح بخاری میں قصہ کئی دفعہ آیا ہے کہ فدک وغیرہ بعض اموالِ فے پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو متولیانہ قبضہ دے دیا کچھ عرصہ تو وہ اتفاق سے رہے مگر پھر طبائع کے اختلاف سے جھگڑا پڑ گیا اور ہر ایک نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے علیحدہ تقسیم کا مطالبہ کیا تو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اسے وراثت کا سا مطالبہ سمجھتے ہوئے تقسیم سے انکار کیا اور فرمایا:

فكان النبیﷺ ينفق على أهله من هذا المال نفقة سنة ثم ياخذ ما بقى فيجعله مجعل مال الله فعمل بذلك رسول اللهﷺ حياته انشدكم بالله هل تعلمون ذالك قالا نعم ثم قال لعلیؓ و عباسؓ انشد كما بالله هل تعلمان ذالك قالا نعم فتوفی الله نبيه۔

(بخاری: جلد، 2 صفحہ، 576، 996)

ترجمہ: حضورﷺ اپنے گھر والوں پر پورے سال کا خرچہ اس مال سے نکالتے تھے پھر بقیہ کو اللہ کے مال کی جگہ میں خرچ کر دیتے تھے حضورﷺ نے اپنی زندگی میں یہی عمل کیا میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ کیا تم اسے جانتے ہو سب نے کہا ہاں پھر سیدنا عمرؓ نے سیدنا علیؓ و سیدنا عباسؓ سے کہا میں تم کو بھی قسم دیتا ہوں کیا تم یہ بات جانتے ہو کہنے لگے ہاں اسی طرح اللہ نے اپنے نبی کو وفات دے دی۔

فتوح البلدان بلاذری: صفحہ، 29 اور 31 پر ہے:

فكان نصف فدك خالصا لرسول اللہﷺ و كان يصرف ما ياتيه منها الى ابناء السبيل وفی رواية ان فدك كانت النَّبِیﷺ فكان ينفق منها و ياكل ويعود على فقراء بنی هاشم و یزوج ابیھم۔ 

(بحوالہ الفاروق: صفحہ، 560)

ترجمہ: نصف فدک خالص حضورﷺ کے قبضے میں تھا اس سے جو آمدنی آتی اسے مسافروں پر خرچ کرتے اور ایک روایت میں ہے کہ فدک حضورﷺ کے قبضے میں تھا آپ اس سے خود خرج کرتے کھاتے اور فقرائے بنی ہاشم کو دیتے اور ان کے بے نکاحوں کی شادیاں کرتے وغیرہ۔

جب حضورﷺ کا مالِ فے میں طریقِ کار معلوم ہوچکا اور واضح ہوگیا کہ اس مال کی آمد پر قصبہ نبوی سب متولیانہ تھا نہ خالص مالکانہ اب یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ یہ مال حضورﷺ کے بعد کس کے قبضے اور تولیت میں جانا چاہیئے اصولِ سیاست اور طریقِ تمدن سے آج کل یہ سمجھنا مشکل نہیں رہا کہ سربراہ مملکت کو جو اموال و جائیداد حکومت کی حیثیت سے ملتی ہیں ان میں ذاتی ملکیت نہیں چلتی وفات کے ساتھ شخصی استحقاق ختم ہو جاتا ہے کتب شیعہ میں بھی مسںٔلہ واضح ہے اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 436 باب الفںٔی و الانفال کے بعض اقتباسات ملاحظہ ہوں:

ان الله تبارك وتعالیٰ جعل الدنيا كلها باسرها لخليفته حيث يقول للملائكة إني جاعل في الأرض خليفة فكانت الدنيا باسرها الادم وصارت بعده لا برار ولده وخلفاءه۔

ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ نے سب زمین خلیفہ کے لیے بنائی ہے جیسے فرمایا فرشتوں سے بے شک میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں پس روئے دنیا سب حضرت آدم علیہ السلام کے لیے تھی اور اس کے بعد آپﷺ کے نیک صاحبزادوں اور خلیفوں کو ملی۔

معلوم ہوا کہ وہ زمین حضرت آدم علیہ السلام کی سب اولاد میں بطورِ میراث تقسیم نہ ہوئی بلکہ صرف نیک جانشین صاحبزادوں کو ملی سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں:

الانفال ما لم يوجف عليه بخیل ولا ركاب او قوم صالحوا او قوم اعطوا بايديهم وكل ارض خوبة وبطون الأودية فهو الرسول اللهﷺ وهو للامام من بعده يضعه حیث یشاء۔

ترجمہ: انفال وہ مال ہیں جن پر گھڑ دوڑ اور لشکر کشی نہ کی جائے یا کوئی قوم صلح میں دے دے یا اپنے ہاتھوں کوئی قوم مرعوب ہو کر دے دے اور ہر خراب زمین اور وادیوں کے پیٹ سب رسول اللہﷺ کے قبضے میں ہوں گے پھر اس کے قبضے میں جو آپ کا جانشین ہوگا جہاں چاہے گا خرچ کرے گا۔

پس حضورﷺ کے بعد خدا اور رسولﷺ کا حصہ اولی الامر کو بطورِ وراثت ملے گا اور ایک اس کو اپنا حصہ منجانب اللہ ملے گا۔ 

(اصولِ کافی: صفحہ، 539 ابو داؤد: جلد، 2 صفحہ، 59)

صفحہ 7 از 26