ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 26

معلوم ہوا کہ فدک مالِ فے کی قسم ہے جس پر گھڑ دوڑ اور لشکر کشی نہیں کی گئی اس کا حکم بھی وہی ہے جو اموالِ فے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آیتِ بالا میں فرمایا ہے کہ خالص حضورﷺ کی تحویل اور قبضے ہیں ہوگا اور آپﷺ حاکمانہ حیثیت سے مذکورہ بالا آٹھ مصارف اپنی صوابدید سے خرچ کریں گے اور عام مسلمانوں کو اس قسم پر چون و چرا کاحق نہ ہوگا کیونکہ ان کی جنگ اور لشکر کشی سے یہ حاصل نہیں ہوئے بلکہ منصبِ نبوت اور حاکمانہ رعب داب سے سپہ سالار اسلام کے قبضے میں آئے ہیں۔

فدک خالصتاً رسولﷺ کا تھا اس سے حضورﷺ کی شخصی تملیک پر استدلال کرنا منصبِ نبوت پر صریح حملہ اور قرآنِ کریم کے بیان کردہ آٹھ مصارف سے استہزاء کے مترادف ہے جیسے صاحبِ تجلیات اور دیگر شیعہ کرتے رہتے ہیں کیونکہ یہ منصبِ نبوت سے حاکمانہ حیثیت کا عمل ہونے کی وجہ سے آپ کو حاصل ہوئے اس کے خرچ میں آپﷺ خود مختار ضرور ہیں مگر خالص ملکیت کی طرح نہ نہیں رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:

1: قُلۡ مَاۤ اَسۡئَــلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ‏ ۞ (سورۃ ص: آیت، 86)

ترجمہ: آپ فرمائیے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں سے ہوں۔

2: قُلۡ مَا سَاَلۡـتُكُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ فَهُوَ لَـكُمۡ اِنۡ اَجۡرِىَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ الخ۔  (سورۃ سبا: آیت، 47) 

ترجمہ: آپ فرماںٔیے جو کچھ میں تم سے اجرت مانگوں وہ تم اپنے پاس ہی رکھو میرا ثواب میرے رب کے ذمہ ہے۔

3: قُلْ لَّاۤ اَسۡئَـــلُـكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا الخ۔ (سورۃ الشوریٰ: آیت، 23)

 ترجمہ: آپ فرمائیے ہیں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کسی منصب کی رو سے جو چیز ملتی ہے وہ عام عطیہ ہے اسی منصب کا گویا اجر یا قدر و قیمت ہے۔

سنی شیعہ کتب میں کتاب القضاء کے تحت یہ حدیث آتی ہے حضورﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص کو ہم حاکم مقرر کرتے ہیں وہ جب بہت سے مال جمع کر لاتا ہے تو کہتا ہے یہ مجھے ہدیہ ملا اور یہ عطیہ اور یہ بیت المال کے لیے ہے۔

هلا جلس فج بيت امه فیھدی الیه۔ (او کما قال)

ترجمہ: وہ اپنی ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا تاکہ اسے ہدایا ملتے۔ (ابو داؤد: جلد، 2 صفحہ، 53)

معلوم ہوا کہ منصبِ نبوت اور حاکمانہ حیثیت سے فدک وغیرہ جو جائیداد اللہ نے آپﷺ کو قبضہ میں دیں وہ محض رفاہی امور اور مصارف ہشت گانہ مذکورہ پر خرچ ہوں گی اگر آپﷺ اسے محض ذاتی تملیک قرار دیں تو شیعہ ہی بتائیں کہ نبی کی حیثیت سے طلب اجر اور تکلف کی اس سے بڑی صورت کیا ہوسکتی ہے کیا ہزاروں بلکہ لاکھوں مربع ایکڑ کی اتنی بڑی جائیدادیں آپ نبوت و حکومت کے رعب سے حاصل کر کے تنہا اپنی صاحبزادی کو میراث بنا کر دیں یا ہبہ کر دیں تو لوگوں کے سامنے آپ یہ اعلان کر سکیں گے کہ نہ میں اجر مانگتا ہوں نہ تکلف کرتا ہوں۔ اس صورت میں ہم داعی اسلام کی کفار کے سامنے کیا بے لوثی اہلیت اور زہد و قناعت کی بات کر سکیں گے تاریخ و سیرت کا ایک ایک ورق گواہ ہے کہ حضورﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر زاہد تھے فتوحات اور کثرت غنائم کے باوجود آپ کے گھر میں بسا اوقات دو دو ماہ تک آگ نہ جلتی ازواجِ مطہراتؓ پیوند لگے کپڑے پہنتی تھیں آپﷺ خود اور آپﷺ کے اہلِ بیتؓ فاقوں سے رہتے اور روزہ رکھ کر پانی یا کھجور سے افطار کرتے تھے خود سیدہ فاطمہؓ نے گھریلو خدمت کے لیے خادم مانگا مگر آپﷺ نے سب لوگوں میں تقسیم کے باوجود سیدہ فاطمہؓ کو خالی ہاتھ واپس لوٹا دیا اور تسبیح و تہلیل اور تحمید کی 100 مرتبہ تعلیم دی بروایت شیعہ محدث ابنِ بابوبہ بسند صحیح سیدہ فاطمہؓ کو آپﷺ نے زیور پہنے دکھا تو ناراض ہوگئے اور اتارنے کا حکم دے کر فرمایا۔

پدرش فدائے ادباد دنیا ان محمد و آل محمد نیست۔ (جلاء العیون: صفحہ، 94، 110)

ترجمہ: اس کا باپ اس پر قربان دنیا محمدﷺ اور آل محمدﷺ کے لیے نہیں ہے۔

روضہ کافی: صفحہ، 131 پر ہے حضورﷺ نے فرمایا: میں مکہ کے پہاڑوں کا سونا ہونا نہیں چاہتا بلکہ ایک دن بھوکا اور ایک دن سیر رہنا چاہتا ہوں تاکہ سیری پر شکر اور بھوک پر ذکر و دعا کروں صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ مالّ خمس میں سے سیدہ فاطمہؓ نے (باوجود حق دار ہونے کے) خدمت کے لیے خادم مانگا تو آپ نے یہ عذر فرما کر انکار کر دیا کہ میرے سامنے تمہاری ضرورت سے زیادہ اصحابِ صفہ کی ضرورت ہے جو انتہائی فقر و افلاس میں مبتلا ہیں ان کو چھوڑ کر میں تمہیں نہیں دے سکتا بخاری: صفحہ، 437 پر ہے کہ حضورﷺ کی وفات ہوئی میرے گھر میں ایسی چیز نہ تھی جسے کوئی جگر والا حیوان کھاتا بجز نصف صاع جو کے حضرت عمر بن الحارث رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے صرف ہتھیار سفید خچر اور کچھ صدقہ کی زمین ترکہ میں چھوڑی۔

کیا اس سیرتِ اقدس کی روشنی میں اتنے بڑے بہتان کی گنجائش ہے کہ حضورﷺ نے فدک وغیرہ مال فے کو ذاتی ملکیت بنالیا ہو اور سیدہ فاطمہؓ کو سب میراث بنا دی ہو یا ہبہ کر دیا ہو شیعہ کتاب علل الشرائع میں حضرت حسنؓ سے روایت ہے کہ میں نے ایک مرتبہ ماں سے کہا کہ آپ نماز کے بعد مؤمنین و موثمنات کے لیے دعا مانگتی ہیں اپنے لیے کیوں نہیں؟ فرمایا یا بنی الجار ثم الداد اول ہمسایہ کا کام کرنا ہے پھر اپنا یہ ایثار آپؓ کو حضورﷺ نے ہی سکھلایا تھا تو ہبہ فدک اس سیرت سے مطابقت نہیں رکھتا 

شیعہ کتاب عیون الاخبار میں سیدنا زین العابدین رحمہ اللہ از حضرت اسماء بنتِ عمیس رضی اللہ عنہا راوی ہیں کہ حضورﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گلے میں سونے کا گلو بند دیکھا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مالِ فے سے خریدا تھا تو آپﷺ نے فرمایا اے فاطمہؓ کیا لوگ نہ کہیں گے کہ فاطمہؓ محمدﷺ کی بیٹی حیابرہ مغرور اور امیروں کا سا زیور پہنتی ہے سیدہ فاطمہؓ نے اسی وقت اسے توڑ کر بیچ ڈالا اور اس سے ایک غلام خرید کر آزاد کر دیا اس بات سے حضورﷺ نہایت خوش ہوئے۔ 

(حوالہ باغِ فدک از نواب مہدی علی خان)

 اموال فے میں حضورﷺ کا طرز عمل

صفحہ 6 از 26